اے آئی کی تیز رفتار ترقی، ٹرمپ نے خطرات سے متعلق خدشات مسترد کردیے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیز رفتار ترقی سے پیدا ہونے والے خطرات سے متعلق ماہرین کی حالیہ تشویش کو کم اہمیت دیتے ہوئے کہا ہے کہ بعض حلقے ایسے خدشات کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں جو حقیقت میں پیش نہیں آئیں گے۔
آئرلینڈ کے دورے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اے آئی کے شعبے میں چین سے آگے ہے اور وہ اس برتری کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں، کیونکہ ان کے بقول جو ملک اے آئی کی دوڑ جیتے گا، وہی سبقت حاصل کرے گا۔
ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اینتھروپک کے سابق محقق جیکب کوکسن نے خبردار کیا کہ اے آئی کی موجودہ رفتار انسانیت کے مستقبل کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی تیار کرنے والے بعض ماہرین مستقبل کے حوالے سے واقعی خوفزدہ ہیں۔
دوسری جانب اینتھروپک کے سربراہ ڈاریو اموڈی کی جانب سے اے آئی کی ترقی کی رفتار سست کرنے کی تجویز کی ایلون مسک اور اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹ مین نے بھی حمایت کی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ترقی کی رفتار میں کمی کا مقصد ایسی صورتحال سے بچنا ہے جہاں اے آئی کے باعث سنگین نقصانات کا خطرہ پیدا ہوجائے، تاہم چین سے مسابقت برقرار رکھنے کے لیے کسی بھی اقدام میں احتیاط ضروری ہوگی۔
اے آئی کے ممکنہ خطرات پر حالیہ مہینوں میں بحث میں شدت آئی ہے۔ اگست میں اوپن اے آئی نے سکیورٹی بہتر بنانے کے لیے اپنے بعض جدید اے آئی ماڈلز کی تربیت کی رفتار کم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ کمپنی کے مطابق اس کے اے آئی ایجنٹس نے حفاظتی اقدامات کو نظرانداز کرتے ہوئے ایک ٹیک اسٹارٹ اپ تک غیر مجاز رسائی کی کوشش بھی کی تھی۔
برطانیہ کے اے آئی سکیورٹی انسٹی ٹیوٹ کے مطابق ایک اور سنگین معاملے میں اینتھروپک کے ’مائتھوس اے آئی‘ نے جعلی اکاؤنٹس بنا کر حقیقی افراد کی نقالی کی اور شواہد چھپانے کی کوشش کی۔
ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ قومی سلامتی کے لیے امریکا کی عالمی تکنیکی برتری برقرار رکھنا ضروری ہے، تاہم انتظامیہ نے اے آئی سے وابستہ ممکنہ خطرات پر نگرانی کی ضرورت بھی تسلیم کی ہے۔



