پنجاب میں سانپ کے کاٹنے کے 1070 واقعات رپورٹ، ماہرین نے خبردار کردیا

لاہور: پنجاب کے بڑے شہروں سمیت صوبے بھر میں سانپوں اور انسانوں کے درمیان مڈبھیڑ کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے، رواں سال کے پہلے 8 ماہ کے دوران سانپ کے کاٹنے کے 1070 ہنگامی واقعات رپورٹ ہوئے۔
پنجاب ایمرجنسی سروسز کے اعداد و شمار کے مطابق یکم جنوری سے 31 اگست تک سانپ کے کاٹنے کے واقعات میں 1060 افراد متاثر ہوئے، جن میں 614 مرد اور 446 خواتین شامل ہیں۔ ریسکیو اہلکاروں نے 64 افراد کو موقع پر ابتدائی طبی امداد فراہم کی جبکہ 990 متاثرین کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ اس دوران 6 افراد جان کی بازی ہار گئے۔
ڈیرہ غازی خان میں سب سے زیادہ 164 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں 162 افراد متاثر اور ایک شخص جاں بحق ہوا۔ راجن پور میں 100، بہاولپور میں 50، میانوالی میں 41، ملتان میں 38، تونسہ شریف میں 37 جبکہ جھنگ اور بھکر میں 35،35 واقعات رپورٹ ہوئے۔
لاہور، راولپنڈی، سرگودھا، ڈیرہ غازی خان، خانیوال اور شیخوپورہ میں سانپ کے کاٹنے سے ایک، ایک ہلاکت رپورٹ ہوئی۔
پنجاب کیپٹیو وائلڈ لائف مینجمنٹ کمیٹی کے رکن اور وائلڈ لائف ماہر بدر منیر کے مطابق پنجاب میں سانپوں کی کم از کم 41 اقسام پائی جاتی ہیں، جن میں 5 زہریلی اور 36 غیر زہریلی ہیں۔ زہریلی اقسام میں کوبرا، کامن کریٹ اور رسل وائپر شامل ہیں۔
وائلڈ لائف ماہر فہد ملک کے مطابق شہری آبادی کے پھیلاؤ، زرعی علاقوں میں کیڑے مار ادویات اور کھادوں کے بڑھتے استعمال نے سانپوں کی خوراک کے قدرتی نظام کو متاثر کیا ہے۔ تاہم ان کے مطابق سانگچور (کامن کریٹ) کی تعداد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ماحولیاتی ماہر عابد لطیف سندھو کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال دریائے راوی میں آنے والے سیلاب کے باعث طویل عرصے سے خشک رہنے والے علاقوں میں پانی پہنچا، جس سے بڑی تعداد میں سانپ اپنے بلوں سے باہر نکل آئے۔
ماہرین کے مطابق سانپوں کی آبادی والے علاقوں کے قریب بڑھتی موجودگی صرف سانپوں کو ختم کرنے کا مسئلہ نہیں بلکہ قدرتی مسکن میں تبدیلی اور شہری آبادی کے پھیلاؤ کا نتیجہ بھی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 45 سے 54 لاکھ افراد کو سانپ ڈستے ہیں، جن میں 18 سے 27 لاکھ افراد زہریلے اثرات کا شکار ہوتے ہیں جبکہ 81 ہزار سے ایک لاکھ 38 ہزار افراد جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔
پاکستان میں سالانہ تقریباً 40 ہزار سانپ کے کاٹنے کے واقعات کا اندازہ لگایا جاتا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اصل تعداد اس سے زیادہ ہوسکتی ہے کیونکہ متعدد واقعات رپورٹ نہیں ہوتے۔
لاہور جنرل اسپتال کے مطابق اگست میں سانپ کے کاٹنے کے 10 مریض اسپتال لائے گئے، جن کا تعلق لاہور کے گردونواح، قصور اور اوکاڑہ سے تھا۔ تمام مریضوں کو بروقت اینٹی اسنیک وینم فراہم کیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سانپ کے کاٹنے سے بچاؤ کے لیے عوامی آگاہی، قدرتی مساکن کا تحفظ، زرعی علاقوں میں نقصان دہ کیمیکلز کے استعمال میں کمی اور اینٹی وینم کی مستقل دستیابی یقینی بنانا ضروری ہے۔



