بھارتی فلم بورڈ نے وینس ایوارڈ یافتہ فلم ’سانگز آف فارگوٹن ٹریز‘ کی نمائش روک دی

وینس: بھارتی آزاد فلم ساز انوپرنا رائے نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی پہلی فلم ’سانگز آف فارگوٹن ٹریز‘ کو بھارتی سنسر بورڈ نے ملک میں نمائش اور تقسیم سے روک دیا ہے۔
28 سالہ انوپرنا رائے کی فلم نے 2025 میں وینس فلم فیسٹیول کے ہورائزنز سیکشن میں بہترین ہدایت کاری کا ایوارڈ حاصل کیا تھا۔ فلم ساز اس وقت اپنی دوسری فلم ’لوورز آف دی بلیو نائٹ‘ کے ساتھ دوبارہ وینس فلم فیسٹیول میں موجود ہیں۔
انوپرنا رائے کے مطابق چند روز قبل فلم کی ٹیم کو بتایا گیا کہ ’سانگز آف فارگوٹن ٹریز‘ معاشرے کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے سنسر شپ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے وینس میں اپنے ملک کی نمائندگی کی اور ایوارڈ بھی ملک کے لیے حاصل کیا۔

فلم میں ممبئی میں ایک ہی اپارٹمنٹ میں رہنے والی دو تارک وطن خواتین کی دوستی کی کہانی بیان کی گئی ہے، جن میں سے ایک جز وقتی سیکس ورکر جبکہ دوسری کال سینٹر میں ملازمت کرتی ہے۔
رائے کی دوسری فلم ’لوورز آف دی بلیو نائٹ‘ بھی حساس موضوعات پر مبنی ہے، جس میں ممبئی میں غربت، غم اور اپنی جنسی شناخت کے مسائل سے دوچار بنگلہ دیشی تارکین وطن کی زندگی دکھائی گئی ہے۔ فلم ہورائزنز سیکشن میں ایوارڈز کے لیے مقابلہ کر رہی ہے۔
انوپرنا رائے کا کہنا ہے کہ بھارت میں آزاد فلم سازوں کے لیے جگہ محدود ہے، جس کی ایک وجہ سینما گھروں میں کمرشل بالی ووڈ فلموں کا غلبہ اور دوسری جانب سیاسی دباؤ ہے۔ ان کے بقول وہ ایسی فلمیں بنانے والوں میں شامل نہیں جو حکومت کی تعریف یا پروپیگنڈا کریں۔
بھارت کا سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن (CBFC) فلموں کی ریلیز کی منظوری دیتا ہے اور اسے مناظر میں کٹوتی یا ترمیم کا مطالبہ کرنے سمیت بعض صورتوں میں فلم کی تقسیم روکنے کا اختیار حاصل ہے۔
انوپرنا رائے کا تعلق مغربی بنگال کے علاقے پورولیا سے ہے اور وہ ماضی میں نئی دہلی کے ایک کال سینٹر میں کام کرتی رہی ہیں۔ 2023 میں ممبئی منتقل ہونے کے بعد شہر کی زندگی اور مشکلات ان کی فلم سازی کا اہم موضوع بن گئیں۔



