یمن میں حوثیوں کا بڑا حملہ ناکام، ماریب میں سرکاری فورسز کی جوابی کارروائی

صنعا: یمن کے تیل سے مالا مال وسطی صوبے ماریب میں سرکاری فورسز نے حوثی گروپ کا بڑا حملہ ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق حکومت کے حامی ’ویسٹ کوسٹ‘ نیوز ویب سائٹ نے بتایا کہ سرکاری فورسز نے ماریب کے مغرب میں واقع المشجح اور الزور کے علاقوں میں حوثیوں کے بڑے حملے کو پسپا کردیا۔
رپورٹ میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں جبکہ یمنی سرکاری فورسز اور حوثیوں کی جانب سے بھی فوری طور پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
ماریب سمیت الجوف، تعز، الضالع اور البیضا کے مختلف محاذوں پر یمنی حکومتی فورسز اور حوثیوں کے درمیان لڑائی جاری ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی بعض ویڈیوز میں درجنوں حوثی جنگجوؤں کو ہلاک یا گرفتار کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
دوسری جانب امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کا فی الحال یمن میں حوثی فورسز کے خلاف براہ راست فوجی کارروائی کا منصوبہ نہیں، تاہم امریکا سعودی عرب کو انٹیلی جنس اور اہداف کے تعین میں نمایاں معاونت فراہم کر رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق اگر بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کی آمدورفت کو لاحق خطرات میں اضافہ ہوا تو واشنگٹن اپنی پالیسی پر نظرثانی کرسکتا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے بھی سعودی عرب کا دورہ کرکے ریاض کے حکام سے مذاکرات کیے۔
ایک امریکی عہدیدار کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے دو مرتبہ ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور حوثیوں کے خلاف براہ راست امریکی فوجی کارروائی پر زور دیا، تاہم اسے ناگزیر قرار نہیں دیا۔
امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ امریکا کی توجہ اپنے بنیادی قومی سلامتی مفادات کے تحفظ، بالخصوص بحیرہ احمر میں آزادانہ بحری آمدورفت یقینی بنانے، پر ہے جبکہ علاقائی سلامتی کے چیلنجز سے نمٹنے میں اتحادی ممالک کو مرکزی کردار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ سعودی عرب نے ضرورت پڑنے پر حوثیوں کے خلاف تنہا بڑی فوجی کارروائی شروع کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم ابھی اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
یمن میں حوثیوں کی جانب سے 2014 میں دارالحکومت صنعا اور کئی صوبوں پر قبضے کے بعد سے جنگ جاری ہے۔ 2015 میں سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد نے یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں فوجی مداخلت کی تھی۔



