برکس سربراہی اجلاس، غزہ سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی مخالفت، تنازعات کے پرامن حل پر زور

نئی دہلی: برکس ممالک کے سربراہان نے ایران اور یوکرین میں جاری جنگوں کے تناظر میں تنازعات کی روک تھام اور انہیں پرامن طریقے سے حل کرنے کیلئے عالمی سطح پر مزید کوششوں پر زور دیا ہے، جبکہ غزہ سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی بھی مخالفت کردی۔
دو روزہ برکس سربراہی اجلاس کے پہلے روز متفقہ طور پر منظور کیے گئے نئی دہلی اعلامیے میں غزہ میں اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے باوجود جاری تشدد پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ برکس رہنماؤں نے فلسطینیوں کو غزہ سے جبری طور پر بے دخل کرنے کی پالیسیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔
اعلامیے میں فلسطینی عوام کے ناقابل تنسیخ حقوق کو متاثر کرنے والے اقدامات اور قبضے کو جائز قرار دینے یا طول دینے کی کوششوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ برکس رہنماؤں نے کہا کہ اسرائیل فلسطین تنازع کا منصفانہ اور دیرپا حل صرف پرامن ذرائع سے ممکن ہے، جس کیلئے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور واپسی سمیت جائز حقوق کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔
برکس نے مقبوضہ بیت المقدس کی قانونی اور تاریخی حیثیت تبدیل کرنے والے یکطرفہ اقدامات کو بھی مسترد کردیا اور شہر میں تمام مذہبی مقامات کے تقدس، عبادت کے حق اور مذہبی رسومات کی آزادی کا احترام کرنے پر زور دیا۔
اعلامیے میں لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری فورس (یونیفل) کی تنصیبات اور اہلکاروں پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ ایسے حملے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔
برکس ممالک نے دنیا میں بڑھتی ہوئی تقسیم اور عدم اعتماد کے ماحول میں تنازعات اور سیکیورٹی خطرات سے نمٹنے کیلئے سیاسی و سفارتی ذرائع اختیار کرنے پر زور دیا۔ رہنماؤں نے تنازعات کی بنیادی وجوہات کے خاتمے سمیت جنگوں کی روک تھام کیلئے مؤثر اقدامات اور علاقائی تنظیموں کے فعال کردار کی حمایت کی۔
برکس رہنماؤں نے جوہری جنگ کے بڑھتے ہوئے خطرات پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جوہری تخفیف اسلحہ، اسلحے پر کنٹرول اور جوہری عدم پھیلاؤ کی ضرورت پر زور دیا۔ شہری تنصیبات اور پرامن جوہری مراکز پر دانستہ حملوں پر بھی شدید تشویش ظاہر کی گئی۔
اعلامیے میں عالمی تجارتی نظام پر بھی یکطرفہ تجارتی اقدامات کے منفی اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) کے قوانین سے متصادم محصولات اور غیر محصولاتی پابندیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ برکس نے یکطرفہ اقتصادی اور ثانوی پابندیوں کو بین الاقوامی قانون کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے انسانی حقوق، صحت، خوراک اور ترقی پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
چینی صدر شی جن پنگ نے برکس ممالک پر زور دیا کہ وہ مشرق وسطیٰ کے تنازع میں امن کے قیام کیلئے کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ عالمی برادری کے مشترکہ مفاد میں نہیں اور چین دیگر برکس ممالک کے ساتھ مل کر امن کیلئے کردار ادا کرے گا۔
برکس میں برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ کے علاوہ مصر، ایتھوپیا، انڈونیشیا، ایران اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ تنظیم کے رکن ممالک دنیا کی 40 فیصد سے زائد آبادی اور عالمی معیشت کے تقریباً ایک چوتھائی حصے کی نمائندگی کرتے ہیں۔
شی جن پنگ نے اعلان کیا کہ چین آئندہ سال برکس کی سربراہی سنبھالے گا اور 19ویں برکس سربراہی اجلاس کی میزبانی کرے گا۔ نئی دہلی میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات میں شی جن پنگ نے چین بھارت تعلقات کو طویل المدتی اور اسٹریٹجک تناظر میں دیکھنے پر زور دیا۔ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ برسوں میں کشیدگی میں کمی آئی ہے، تاہم تجارتی تعلقات میں نمایاں بہتری کے امکانات تاحال محدود قرار دیے جارہے ہیں۔



