latest newssci&tech

اے آئی سے انسانیت کی تباہی کا خدشہ، سلیکن ویلی میں ماہرین آمنے سامنے

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ممکنہ خطرات پر سلیکن ویلی میں بحث شدت اختیار کرگئی، سابق اوپن اے آئی اور موجودہ اینتھروپک محقق جیکب کاکسون نے خبردار کیا ہے کہ اے آئی انسانیت کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔

27 سالہ جیکب کاکسون نے اینتھروپک سے اچانک استعفیٰ دینے کے بعد کہا کہ اے آئی تیار کرنے والے لوگ انسانی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر جوا کھیل رہے ہیں۔ ان کے مطابق مستقبل میں اے آئی سسٹمز انسانوں سے زیادہ طاقتور ہوسکتے ہیں اور کسی بھی نظام کو ہیک کرنے کی صلاحیت حاصل کرسکتے ہیں۔

کاکسون کے بیان پر اینتھروپک کے بعض موجودہ ملازمین نے بھی خدشات کا اظہار کیا۔ کمپنی کے ٹیم لیڈر ایون ہوبنجر نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ انہیں سنجیدگی سے یقین ہے کہ اے آئی تمام انسانوں کی ہلاکت کا سبب بن سکتی ہے اور اگلی دہائی میں اس کا امکان 10 فیصد سے زیادہ ہوسکتا ہے۔

تاہم سلیکن ویلی کے بعض سرمایہ کاروں اور ٹیک کمپنیوں کے سربراہان نے ان انتباہات کو مبالغہ قرار دیا ہے۔ گرائنڈر کے سی ای او جارج اریسن نے اینتھروپک کے مؤقف کو ’’اینٹی سویلائزیشنل‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی کمپنی کے بعض انجینئرز کو اینتھروپک کی ٹیکنالوجی کا استعمال روکنے کی ہدایت کی ہے۔

دوسری جانب اینویڈیا کے سربراہ جینسن ہوانگ نے بھی کاکسون کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غیرحقیقی قرار دیا۔ ہوانگ ماضی میں اے آئی کے باعث انسانیت کے خاتمے کے خدشے کو ’’مکمل بکواس‘‘ قرار دے چکے ہیں۔

اینتھروپک کے سربراہ داریو امودی نے ہفتے کو ایک مضمون میں اے آئی ماڈلز کی تیاری کی رفتار کم کرنے اور عالمی سطح پر ضابطہ کاری کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اے آئی سے وابستہ خطرات کو سنجیدہ قرار دیا۔

دریں اثنا، اے آئی کے ممکنہ خطرات پر حکومتی کارروائی کے مطالبات بھی زور پکڑ رہے ہیں۔ امریکی سینیٹر برنی سینڈرز کی جانب سے پیش کیے گئے قانون میں جدید اے آئی کی تیاری پر عارضی پابندی کی تجویز دی گئی ہے۔ سینڈرز کا کہنا ہے کہ انسان اے آئی پر اپنا کنٹرول کھو سکتے ہیں اور اس کے نتائج تباہ کن ہوسکتے ہیں۔

تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اے آئی سے انسانیت کے خاتمے کے خدشے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اس حوالے سے کوئی تشویش نہیں، البتہ امریکا کے لیے چین سے اے آئی کی دوڑ جیتنا ضروری ہے۔

اینتھروپک اور اوپن اے آئی کی ممکنہ اربوں ڈالر کی مالیت والی اسٹاک مارکیٹ لسٹنگ کے تناظر میں بعض حلقے یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ اے آئی کے خطرات سے متعلق شدید بیانات کہیں سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کرنے اور کمپنیوں کی قدر بڑھانے کی حکمت عملی تو نہیں۔

اینتھروپک کی حالیہ مالیت تقریباً 965 ارب ڈالر جبکہ اوپن اے آئی کی مالیت 852 ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔ دوسری جانب سان فرانسسکو میں سرمایہ کاروں کی توجہ بدستور اے آئی کمپنیوں کی آمدنی، منافع اور مستقبل کی مارکیٹ ویلیو پر مرکوز دکھائی دی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button