latest newsPoliticsWorld

باب المندب کی بندش عالمی توانائی چیلنج بن سکتی ہے: یمنی سفیر

اسلام آباد: پاکستان میں یمن کے سفیر محمد مطہر العشبی نے کہا ہے کہ باب المندب کی بندش عالمی توانائی کے لیے بڑا چیلنج بن سکتی ہے، یمنی حکومت کی اولین ترجیح امن ہے جبکہ حوثیوں کا اپنا ایجنڈا ہے۔

اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یمنی سفیر نے کہا کہ پاکستان اور یمن کے تعلقات انتہائی مثبت ہیں اور تقریباً 500 یمنی طلبہ پاکستان میں زیر تعلیم ہیں۔ یمن میں حالات انتہائی ابتر ہیں اور سب سے بڑا چیلنج ملک کی سالمیت اور خودمختاری کو درپیش ہے۔

انہوں نے کہا کہ باب المندب دنیا کا اہم ترین بین الاقوامی بحری راستہ ہے، جہاں سے توانائی، تیل اور خوراک کی ترسیل ہوتی ہے۔ باب المندب کی بندش عالمی توانائی کے لیے بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔

محمد مطہر العشبی کا کہنا تھا کہ یمنی حکومت مستقل امن کی خواہاں ہے جبکہ حوثی مذاکرات سے انکاری ہیں اور طاقت حاصل کرکے دیگر یمنیوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانا چاہتے ہیں۔ حوثیوں نے موجودہ صورتحال میں کشیدگی میں اضافہ کیا ہے۔

یمنی سفیر نے کہا کہ پاکستان ایک اہم ملک ہے اور وہ یمن کے معاملے میں بہت کچھ کرسکتا ہے اور کر بھی رہا ہے۔ سعودی عرب یمن کا سب سے اہم اور بڑا شراکت دار ہے، جبکہ نجران، جازان اور دیگر جنوبی علاقوں سے متعلق معاملات مذاکرات اور بین الاقوامی معاہدے کے تحت حل کیے گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ یمنی حکومت ملک میں اپنی موجودگی بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور حوثیوں کے خلاف دیگر گروہوں کو متحد کرنے کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں۔ یمن میں تیل، گیس اور دیگر قدرتی وسائل کے بڑے ذخائر موجود ہیں۔

محمد مطہر العشبی کے مطابق حوثیوں کو سمندری راستے سے ہتھیار پہنچ رہے ہیں جبکہ ان کا انحصار بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز پر ہے۔ امریکا صرف باہر بیٹھ کر صورتحال دیکھ رہا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button