
صدر مملکت آصف علی زرداری نے 3 ستمبر کو بھجوایا گیا لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد راحیل کامران شیخ کا استعفیٰ ابھی تک منظور نہیں کیا، جسٹس محمد راحیل کامران شیخ کا نام لاہور ہائیکورٹ کی ویب سائٹ پر ججز کی فہرست اور سنیارٹی لسٹ میں تاحال موجود ہے، استعفیٰ بھجوانے کے بعد جسٹس راحیل کامران شیخ لاہور ہائیکورٹ میں عدالتی فرائض انجام نہیں دے رہے ہیں۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس خالد اسحاق نے 30 افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری حکم جاری کردیا،عدالت نے پنجاب کے تمام میڈیکل کالجز کو افغان طلبا کو نکالنے سے روک دیا ،عدالت نے سرکاری وکیل کو تحریری فیصلہ تمام میڈیکل کالجز کو بھجوانے کا حکم دیدیا، حکم میں کہا گیا ہے کہ سرکاری وکیل عدالتی حکم پر عمل درآمد یقینی بنائے، افغان طلباء وطالبات کو تعلیمی پراجیکٹس پر کام سے نہ روکا جائے، افغان طلباء کو ہاسٹل کی سہولت کے استعمال کی اجازت ہے ،افغان طلباء کو میڈیکل کالجز سے نکالنے سے متعلق دونوں نوٹیفکیشن پر عملدرآمد معطل کیا جاتا ہے ،کوئی میڈیکل کالج کسی طالب علم کو نہ نکالے گا ،نا ہی انکا پیپر کینسل کرے گا، آئین غیر ملکیوں کے بنیادی حقوق کا بھی تحفظ کرتا ہے ،سرکاری وکیل 18 ستمبر تک تفصیلی جواب داخل کریں، سرکاری وکیل کے مطابق افغان طلبا کے پاس درست ویزے موجود نہیں، سرکاری وکیل کے مطابق درست ویزے کے بغیر کسی کو بھی ٹھہرنے کی اجازت نہیں، سرکاری وکیل کے مطابق وفاقی حکومت نے سکیورٹی کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا، درخواست گزاروں نے افغان مہاجرین کے کوٹہ پر داخلے لئے، افغان طلباء وطالبات نے میرٹ پر میڈیکل کالجز میں داخلے لئے ،پی ایم ڈی سی نے درخواست گزاروں کو کالجز سے نکالنے کیلئے یکم ستمبر کو حتمی نوٹیفکیشن جاری کیا ،پی ایم ڈی سی کی ہدایات پر میڈیکل کالجز نے افغان طلبہ کو نکال دیا، افغان طلباء وطالبات کو میڈیکل کالجز کے ہاسٹلز سے بھی نکال دیا گیا،حکومت کے اس فیصلے سے سٹوڈنٹس کا مستقبل تاریک ہو جائے گا ،استدعا ہے کہ عدالت پی ایم ڈی سی کے نوٹیفکیشنز کو کالعدم قرار دے ،عدالت افغان طلباء کو تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کا حکم دے ۔
لاہور ہائیکورٹ میں کیسوں کی سماعت کیلئے ترمیمی ججز روسٹر جاری ، پرنسپل سیٹ پر 30 ججز بطور سنگل بنچ کیسوں کی سماعت کریں گے ،11 ڈویژن بنچ سول اور فوجداری اپیلوں پر سماعت کرینگے ،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی منظوری کے بعد ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل سید شبیر حسین شاہ نے ججز روسٹر جاری کیا ، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی سربراہی میں دو رکنی بنچ تمام نوعیت کی اپیلوں پر سماعت کرے گا ، جسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں دو رکنی بنچ بنکنگ، کمرشل اپیلوں پر سماعت کرے گا ،جسٹس شہباز رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نیب، دہشت گردی کیسوں کی سماعت کرے گا ،جسٹس فیصل زمان کی سربراہی میں دو رکنی بنچ سول اپیلوں پر سماعت کرے گا ،جسٹس شہرام سرور چوہدری کی سربراہی میں دو رکنی بنچ قتل سمیت فوجداری اپیلوں پر سماعت کرے گا ،جسٹس فاروق حیدر کی سربراہی میں دو رکنی بنچ منشیات اور قتل کیسوں کی سماعت کرے گا ،جسٹس صادق محمود خرم کی سربراہی میں دو رکنی بنچ قتل، منشیات اور فوجداری اپیلوں پر سماعت کرے گا ،جسٹس احمد ندیم ارشد کی سربراہی میں دو رکنی بنچ سول اپیلوں پر سماعت کرے گا ،جسٹس حسن نواز مخدوم کی سربراہی میں دو رکنی بنچ ٹیکس ریفرنسز پر سماعت کرے گا ،جسٹس وقار حیدر اعوان کی سربراہی میں دو رکنی بنچ سول اپیلوں پر سماعت کرے گا ،جسٹس خالد اسحاق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ ٹیکس ریفرنسز اور بنکنگ اپیلوں پر سماعت کرے گا ،ترمیم شدہ ججز روسٹر 31 اکتوبر تک نافذ العمل رہے گا۔
لاہور ہائیکورٹ کےجسٹس امجد پرویز نے تھانوں میں مصالحتی ویلفیئر خدمت مراکز بنانے کی درخواست پرہوم سیکرٹری کو قانون کیمطابق فیصلہ کرنے کا حکم دیدیا ، یاسین ضیاء نے درخواست میں موقف اپنایا کہ پنجاب کے تھانوں میں مصالحتی ویلفیئر خدمت مراکز کا قیام ضروری ہے، درخواست گزار کے مطابق تھانوں میں آنیوالے سائلین غریب ہیں، درخواست گزار کے مطابق تھانوں میں غریب سائلین کے تنازعات مصالحت سے حل ہوسکتے ہیں، درخواست گزار کے مطابق مصالحتی سینٹرز کے ذریعے غریب سائلین کی مشکلات کم کی جاسکتی ہیں، درخواست گزار کے مطابق ہوم سیکرٹری تھانوں میں مصالحتی ویلفیئر خدمت مراکز کے قیام کی درخواست پر فیصلہ نہیں کر رہے۔
لاہور ہائیکورٹ، پیٹرولیم قیمتوں میں مسلسل اضافے کے خلاف متفرق درخواست دائر کر دی گئی، جوڈیشل ایکٹیوزم پینل کی درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ پاکستان میں روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے،7 سے 11 ستمبر کے دوران پیٹرول کی قیمت میں 29.95 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے،پانچ روز میں ڈیزل 25.27 روپے فی لیٹر مہنگا ہونے سے فی لیٹر قیمت 400 روپے سے تجاوز کرگئی ہے،مسلسل پٹرول مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ، زراعت اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے،ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ تنخواہ دار اور کم آمدن والے طبقے پر پڑ رہا ہے،پاکستان میں بنگلہ دیش کے مقابلے میں ڈیزل تقریباً 140 روپے،بھارت سے 122 روپے،افغانستان سے 106 روپے،سری لنکا سے اً 77 روپے فی لیٹر مہنگا ہے،استدعا ہے کہ عدالت پٹرولیم لیوی، ٹیکس، او ایم سی اور ڈیلر مارجن کا ریکارڈ طلب کرے،عدالت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار طلب کرے۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مزمل اختر شبیر نے 39 سال پرانے اراضی تنازعہ کا فیصلہ سنا تے ہوئے معاہدہ بیع کی تکمیل کا دعویٰ مسترد کردیا،عدالت نے 199 کنال 9 مرلہ اراضی کے معاہدے سے متعلق دوسری اپیل خارج کردی، میاں انعام الٰہی و دیگران کی اپیل میں موقف اپنایا گیا کہ درخواست گزاران نے 27 جولائی 1987 کو 10 لاکھ روپے میں اراضی کا معاہدہ کیا تھا،قانونی مدت شروع ہونے کے بعد کوئی بعد کا واقعہ مدت دوبارہ شروع نہیں کرتا،درخواست گزار طویل عرصے تک خاموش رہنے کی تسلی بخش وضاحت نہ کرسکے ، ماتحت عدالتوں نے دعویٰ مدتِ معیاد سے باہر قرار دے کر درست فیصلہ کیا، عدالت نے قرار دیا، معاہدے میں تکمیل کی کوئی مخصوص تاریخ مقرر نہیں تھی ،معاہدے سے انکار کا علم ہونے کے دن سے قانونی مدت شروع ہوئی، سیل ڈیڈ پر دستخط سے انکار معاہدے پر عملدرآمد سے انکار کا واضح اظہار تھا، 15 ستمبر 1987 کو سیل ڈیڈ پر دستخط سے انکار کیا گیا، عدالت نے قرار دیا، 15 ستمبر 1987 سے تین سال کی مدت شروع ہوئی،معاہدے کی تکمیل کا دعویٰ دسمبر 1997 میں دائر کیا گیا، دعویٰ مقررہ مدت سے سات سال سے زائد تاخیر سے دائر کیا گیا، بعد میں بھیجا گیا قانونی نوٹس نئی وجہِ دعویٰ پیدا نہیں کرسکتا، فیصلوں میں کوئی قانونی یا دائرہ اختیار کی خامی نہیں۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس غلام سرور نہنگ نے12 سالہ بچی زیادتی کیس میں گرفتار ملزم عون عباس کی ضمانت منظور کرلی،عدالت نے 10 لاکھ روپے کے مچلکے اور دو ضامنوں کے عوض ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا، تحریری فیصلے کیمطابق زیادتی کا وقوعہ 15 اور 16 اگست کی شب ہوا متاثرہ بچی کا فوری میڈیکل نہیں کروایا گیا، متاثرہ بچی کا میڈیکل معائنہ مبینہ وقوعہ کے تقریباً 7 روز بعد ہوا،میڈیکل رپورٹ کے مطابق جسمانی حصوں میں زخم، پھٹنے، خراش، سوجن اور دیگر علامات موجود نہیں، متاثرہ بچی کا ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ نہیں کیا گیا،عدالت نے قرار دیا کہ حتمی بے گناہی یا جرم کا فیصلہ ٹرائل کورٹ کرے گی،کیس مزید تحقیق کا متقاضی ہے مگر اس سے مراد ملزم کو بے گناہ قرار دینا نہیں ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس غلام سرور نہنگ نے چھینے گئے3 بچوں کوماں نسیم بی بی کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا،عدالت نے ایڈیشنل سیشن جج شیخوپورہ کا 27 جولائی کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا،ایڈیشنل سیشن جج شیخوپورہ نے بچوں کی عمر کم نہ ہونے اور والد کی تحویل میں ہونے کی بنیاد پر درخواست خارج کی تھی،صرف یہ وجہ کافی نہیں کہ بچے دودھ پیتے یا کم عمر نہیں، عدالت نے ریمارکس دیئے کہ بچوں کی تحویل کا معاملہ صرف اس بنیاد پر خارج نہیں کیا جاسکتا کہ بچے دودھ پیتے نہیں، بچے والد کے پاس ہوں تو بھی دفعہ 491 کے تحت عدالتی جانچ سے استثنیٰ نہیں مل جاتا، والدین میں مستقل تحویل کا فیصلہ گارڈین کورٹ نے بچوں کی فلاح و بہبود کو مدنظر رکھ کر کرنا ہے،گارڈین کورٹ میں کارروائی زیر التوا ہونے سے دفعہ 491 کے تحت ہائیکورٹ کا اختیار ختم نہیں ہوتا، غیر معمولی حالات میں ہائیکورٹ بچے کی فوری تحویل بحال کرنے کا حکم دے سکتی ہے،قانون کے مطابق بچے کی فلاح و بہبود تحویل کے معاملے میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے، بچے کسی والدین کی ملکیتی چیز نہیں،بچوں کی مستقل تحویل کا فیصلہ والدین کے رشتے کی بنیاد پر نہیں کیا جاسکتا، بچوں کی پرورش، تعلیم، رہن سہن اور فلاح و بہبود کا تفصیلی جائزہ گارڈین کورٹ لے گی، 16 سالہ آمنہ بی بی کی ذہنی بلوغت کی صورت میں اس کی مرضی اور پسند بھی مدنظر رکھی جائے گی، 11 سالہ ایمان فاطمہ اور 9 سالہ علی حسین کی فلاح و بہبود کا بھی الگ سے جائزہ لیا جائے گا، موجودہ فیصلے کے تحت ماں کو بچوں کی تحویل دینا مستقل حقِ حضانت کا فیصلہ نہیں، والد گارڈین کورٹ میں بچوں کی مستقل تحویل کے لیے اپنا دعویٰ پیش کرسکتا ہے،عدالت نے بچوں کی تحویل ماں کے حوالے کرنے کا حکم عبوری نوعیت کا قرار دے دیا،مستقل تحویل اور گارڈین شپ کا فیصلہ گارڈین کورٹ قانون اور شواہد کی بنیاد پر کرے گی، گارڈین کورٹ مستقل تحویل کے معاملے میں بچوں کی فلاح اور بہترین مفاد کو بنیادی اصول بنائے، قابلِ فہم پسند رکھنے والے بچے کی رائے بھی قانون کے مطابق مدنظر رکھی جائے۔
جوڈیشل مجسٹریٹ ضلع کچہری نعیم وٹو نے فیک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے خلاف عظمیٰ بخاری کی درخواست پر دلائل مکمل ہونے کے بعد کارروائی ملتوی کردی،صوبائی وزیر عظمیٰ بخاری اپنےبیان پر جرح کے لیے عدالت پیش نہ ہوئیں ، وکیل نے موقف اپنایا کہ عظمیٰ بخاری کو سیکیورٹی خدشات ہیں ،سیشن کورٹ اور جوڈیشل مجسٹریٹ کے احکامات کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،جرح کے لیے لاہور ہائیکورٹ کے حتمی فیصلے تک انتظار کیا جائے ، وکیل فلک جاوید نے موقف اپنایا کہ عظمیٰ بخاری کے وارنٹ گرفتاری جاری کرکے انہیں عدالت بلایا جائے،عظمی بخاری ایک سال سے عدالت نہیں تاثر یہ ہے کہ عدالت فیور دے رہی ہے ، عدالت نے ریمارکس دیئے کہ عظمیٰ بخاری کی دو درخواستیں مسترد کر چکے ہیں ،میرے اوپر کسی کا کوئی پریشر نہیں ہے، میرے لیے جیسے آپ لوگ ہیں، ویسے ہی عظمیٰ بخاری صاحبہ ہیں، این سی سی ائی اے نے عظمی بخاری کی مدعیت میں فلک جاوید سمیت دیگر کے خلاف مقدمہ درج کر رکھا ہے۔
سابق وفاقی وزیر قانون چوہدری محمود بشیر ورک وفات پاگئے ، تدفین آبائی گاؤں ابن والی، نزد گکھڑ منڈی کردی گئی،اس موقع پر ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے افراد نے شرکت کی ، فاتحہ خوانی آج انکی رہائش گاہ پر ادا کی جائیگی۔
وفاق اور پنجاب حکومت کی جانب سے فنڈز نہ ملنے کے باعث لاہورہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن مالی بحران کا شکار ہوگئی، ملازمین 4 ماہ سے تنخواہوں سے محروم ، گھروں میں فاقوں کی نوبت آ گئی ، ملازمین کا کہنا ہے کہ گھریلو اخراجات چلانا مشکل ہو گیا ہے، انہوں نے فوری طور پر تنخواہوں کی ادائیگی کا مطالبہ کیا ہے۔
ایڈیشنل سیشن جج محمد سجاد قاسم نےغازی آباد تھانے میں ذہنی معذور لڑکی نجمہ سے زیادتی کیس میں ملزم عمران اور اے ایس آئی کی درخواست ضمانت خارج کردی،مدعیہ کے وکیل میاں عارف سکھیرا ایڈووکیٹ نے عدالت میں تھانے کی فوٹیج پیش کی۔
انسداد دہشتگردی عدالت کے جج منظر علی گل نے جناح ہاؤس حملہ کیس میں پولیس کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا، پولیس نے ملزمان کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان حاجی محمد فیاض اور سعید لودھی حملہ کیس میں مطلوب نہیں تھےاس لئے ڈسچارج کیا جائے، تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان جناح ہاؤس حملے میں ملوث ہیں۔



