column and articlelatest news
سندھ نے سعدی، رومی، جامی، غالب، اقبال یا امیر خسرو جیسا کوئی شاعر پیدا کیا ہے؟
رختاب تراشے

(نسیما زاہد کی وال سے) مجھ سے کسی سرپھرے نے بڑے فخر سے پوچھا ہے کہ سندھ نے رودکی، نظامی، سعدی، رومی، جامی، غالب، اقبال یا امیر خسرو جیسا کوئی شاعر پیدا کیا ہے؟
میرا سوال اس سے بھی بڑا ہے
کیا کسی تہذیب کی عظمت ثابت کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ لازماً کسی دوسری تہذیب کے شاعر کی طرح کا شاعر پیدا کرے؟
اگر ایسا ہے تو پھر دنیا کی ہر تہذیب جوابدہ ہے
مصری تہذیب سے پوچھیں کہ اس نے رومی کیوں نہیں پیدا کیا،
یورپ سے پوچھیں کہ اس نے شاہ لطیف کیوں نہیں پیدا کیا،
جاپان سے پوچھیں کہ اس نے غالب کیوں نہیں پیدا کیا اور سندھ سے پوچھیں کہ اس نے سعدی کیوں نہیں پیدا کیا۔
یہ سرپھرے کا تاریخ کا مطالعہ تھا
سعدی اور رومی بڑے شاعر ہیں۔ ان کی ادبی عظمت سے انکار نہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ سندھ کو اپنی تہذیبی قدر ثابت کرنے کے لیے سعدی اور رومی کی ضرورت کیوں پڑ گئی؟
سندھ کے پاس اپنا شاہ عبداللطیف بھٹائی ہے۔
اپنا سچل سرمست ہے۔
اپنا سامی ہے۔
اپنا شیخ ایاز ہے۔
اپنا استاد بخاری ہے۔
اپنا تنویر عباسی ہے۔
اپنا نارائن شیام ہے۔
اپنا امر جلیل ہے۔
اور اس سے بھی بڑھ کر سندھ کی روایت میں وہ لوگ ہیں جنہوں نے صرف شعر نہیں کہا بلکہ اقتدار، جاگیرداری، مذہبی اجارہ داری، نوآبادیاتی طاقت اور سماجی ناانصافی کے خلاف عملی مزاحمت کی۔
شاہ عنایت: مارکس سے پہلے کا ایک بڑا سوال
شاہ عنایت اشتراکیت کتابوں میں انے سے پہلے عملی کام کرنے والا مجاہد
لیکن اصل حیرت تو یہ ہے کہ شاہ عنایت مارکس کی پیدائش سے تقریباً ایک صدی پہلے کسان، زمین اور پیداوار کے تعلق پر ایسا عملی تجربہ کر رہے تھے جس میں اجتماعی کاشت اور محنت کرنے والے کے حقِ پیداوار کا تصور نمایاں تھا۔
ان سے منسوب نعرہ تھا
جیکو کھیڑے سو کھائے
یعنی
جو کاشت کرے وہ کھائے۔
جھوک میں انہوں نے کسانوں کے ساتھ اجتماعی زرعی تجربہ قائم کیا اور جاگیردارانہ استحصال کے خلاف مزاحمت کی۔ جدید تحقیق بھی شاہ عنایت کی تحریک کو سماجی انصاف، کسانوں کے حقوق اور اجتماعی پیداوار کے تجربے کے تناظر میں دیکھتی ہے۔
تو پھر سوال یہ ہے کہ جس خطے میں اٹھارہویں صدی کے آغاز میں ایک صوفی کسان کے حقِ پیداوار کی بات کر رہا تھا، اس خطے کو صرف اس لیے فکری طور پر کم تر کیسے قرار دیا جا سکتا ہے کہ اس نے سعدی جیسا شاعر پیدا نہیں کیا؟
اقبال کی شاعری اس کے کئی سو سال بعد وہ بتا رہی تھی جو شاہ عنایت کر گیا ۔
جس کھیت کے دہقان کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو
سندھ کے لیے یہ ڈھول پرانا تھا
سندھ نے شاید سعدی پیدا نہیں کیا لیکن اس نے ایک ایسا شاہ عنایت ضرور پیدا کیا جو یہ سوال اٹھا رہا تھا کہ پیداوار کا حق کس کا ہے۔
اور یہ سوال آج بھی دنیا کے لیے ختم نہیں ہوا۔
شاہ لطیف صرف شاعر نہیں، انسانی مزاحمت کی آواز بھی ہے
شاہ عبداللطیف بھٹائی کو صرف صوفی شاعر کہہ کر ان کی دنیا محدود کر دینا بھی ان کے ساتھ ناانصافی ہے۔
ان کی شاعری میں ماروی ہے جو اقتدار کے محل کے مقابلے میں اپنی دھرتی اور اپنی شناخت کو ترجیح دیتی ہے۔
سسی ہے جو اپنی تلاش میں سماجی رکاوٹوں کو توڑتی ہے۔
مومل ہے۔
سوہنی ہے۔
نوری ہے۔
یہ صرف عشق کی داستانیں نہیں بلکہ انسانی وقار، آزادی، وفاداری، مزاحمت اور اختیار کے استعارے بھی ہیں۔
اسی لیے شاہ لطیف کو محض فارسی یا عربی صوفی روایت کے کسی خانے میں رکھ کر پڑھنا سندھ کی اپنی فکری زمین کو نظر انداز کرنا ہے۔
سچل سرمست: مذہبی اجارہ داری کے خلاف بے خوف آواز
جس کے کئی سو سال بعد اقبال کہتا ہے
ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستان ہمارا
سچل سرمست نے تو اور بھی خطرناک کام کیا۔
انہوں نے مذہبی شناختوں کی دیواروں کے اندر بند ہونے سے انکار کیا۔
وہ ایک زبان کے شاعر نہیں تھے۔ ان کی شاعری مختلف زبانوں میں ملتی ہے اور ان کا بنیادی پیغام انسانی وحدت اور تنگ نظری کے خلاف تھا۔ ان کے بارے میں تاریخی و ادبی مطالعات انہیں مذہبی تنگ نظری اور جبر کے خلاف ایک بے خوف آواز کے طور پر بھی دیکھتے ہیں۔
تو پھر یہ بھی پوچھنا چاہیے
کیا کسی شاعر کی عظمت صرف اس لیے ہے کہ اس نے فارسی میں لکھا، یا اس لیے بھی کہ اس نے انسان کو انسان سمجھنے کی جرات کی؟
ان سب نے آزادی، مزاحمت، محبت، انسان، دھرتی اور سیاسی جبر پر لکھا۔ ان کی شاعری اور نثر سندھ میں بنیادی آزادیوں اور ظلم کے خلاف مزاحمت کی علامت سمجھی جاتی
یعنی سندھ کا شاعر صرف اپنی زبان کی چار دیواری میں بند نہیں تھا۔
وہ اپنی تہذیب کو دوسری تہذیبوں تک لے جا رہا تھا۔
سندھ کی مزاحمت صرف شاعری میں نہیں تھی
اگر آپ واقعی سندھ کی فکری تاریخ پڑھنا چاہتے ہیں تو صرف دیوان اور مثنویاں نہ گنیں۔
ہوشو شیدی کو دیکھیں۔
ہیمو کالانی کو دیکھیں۔
حر مزاحمت کو دیکھیں۔
سندھ کی کسان تحریکوں کو دیکھیں۔
سندھ کے ترقی پسند ادیبوں اور سیاسی کارکنوں کو دیکھیں۔
جی ایم سید کو دیکھیں۔
رسول بخش پلیجو کو دیکھیں۔
اللہ بخش سومرو کو دیکھیں
بھٹو خاندان کو دیکھیں
نذیر عباسی کو دیکھیں
مائی جندو کو دیکھیں
اور ان سب کے ساتھ وہ ہزاروں گمنام لوگ دیکھیں جنہوں نے طاقت کے سامنے سر جھکانے کے بجائے مزاحمت کو اپنی سیاسی اور سماجی روایت بنایا۔
کسی تہذیب کا کمال صرف یہ نہیں کہ اس نے کتنے دیوان پیدا کیے۔
کبھی یہ بھی دیکھیے کہ اس نے کتنے سوال پیدا کیے۔
کتنے باغی پیدا کیے۔
کتنے مزاحمتی کردار پیدا کیے۔
کتنے ایسے لوگ پیدا کیے جنہوں نے اپنے زمانے کے طاقتور لوگوں سے کہا کہ
نہیں
ہم تمہاری ناانصافی کو قبول نہیں کرتے۔
مغلوں کی فارسی اور تہذیب کا سوال
یہاں ایک اور دلچسپ تضاد سامنے آتا ہے۔
مغل دربار میں فارسی کو غیر معمولی سرپرستی حاصل تھی۔ فارسی انتظامیہ، دربار، تاریخ نویسی اور اعلیٰ ادب کی ایک بڑی زبان بن گئی۔ ہندوستان میں فارسی ادب کی ترقی میں مغل دور کی سرپرستی کا بڑا کردار تھا۔
لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ فارسی کو دربار میں استعمال کرنے والی تہذیب خود بخود دوسری تمام مقامی تہذیبوں سے برتر ہوگئی؟
ہرگز نہیں۔
درباری زبان ایک چیز ہے۔
عوامی تہذیب دوسری چیز۔
ریاستی سرپرستی ایک چیز ہے۔
لوک شعور دوسری چیز۔
اور انسانی مزاحمت اس سے بھی بڑی چیز ہے۔
تو پھر رومی اور سعدی نے کیا کیا؟
رومی اور سعدی نے ادب، اخلاق، تصوف، انسانی نفسیات اور فکری روایت پر گہرا اثر ڈالا۔
لیکن ان کی عظمت کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہر دوسری تہذیب کی عظمت کا واحد پیمانہ وہی بن جائیں۔
دنیا صرف شاعری سے نہیں بنتی۔
دنیا کسانوں کی محنت سے بنتی ہے۔
مزدوروں کی جدوجہد سے بنتی ہے ب
سائنس سےبنتی ہے ۔
فلسفے سےبنتی ہے
سیاسی مزاحمت سےبنتی ہے
عورتوں کی آزادی کی جدوجہد سے بنتی ہے ۔
مذہبی رواداری سے بنتی
سماجی مساوات سے بنتی ہے
برداشت سے بنتی ہے
اور ان لوگوں سے بھی جو اپنے زمانے کے طاقتور نظام کو یہ کہنے کی جرات کرتے ہیں کہ
انسان کو انسان سمجھو۔
اس لیے اگلی بار جب کوئی سرپھرا سندھ سے پوچھے کہ
’’آپ نے سعدی رومی کیوں نہیں پیدا نہیں کیا؟‘‘
تو آپ اسے بتائیں
سندھ نے اپنے سوال پیدا کیے۔
اپنے شاعر پیدا کیے۔
اپنے صوفی پیدا کیے۔
اپنے باغی پیدا کیے۔
اپنے کسان رہنما پیدا کیے۔
اپنے مزاحمتی کردار پیدا کیے۔
اپنی عورتوں کے کردار پیدا کیے۔
اپنی لوک داستانوں کو فلسفہ بنایا۔
اپنی زبان کو صدیوں تک زندہ رکھا۔
اور اپنی تہذیبی یادداشت کو حملہ آور سلطنتوں، درباری زبانوں اور سیاسی تبدیلیوں کے باوجود محفوظ رکھا۔
اور اس سوال پر سندھ کو کسی سعدی، رومی، غالب یا اقبال سے اپنا سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں۔



