
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس احمد ندیم ارشد نے من پسند بیوروکریٹس اور وزراء کو سول ایوارڈز دینے کے خلاف درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا، اشبا کامران کی درخواست میں صدرِ مملکت کے پرنسپل سیکرٹری اور سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ سول ایوارڈز معاشرے کیلئے رضاکارانہ خدمات انجام دینے والی شخصیات کو دیے جاتے ہیں، تاہم من پسند افراد کو نوازنے کیلئے آئین میں ترمیم کی گئی اور حکومت نے سرکاری خزانے سے مراعات لینے والے افراد کو بھی سول ایوارڈز سے نوازا، درخواست گزار کے مطابق بیوروکریٹس، وزراء، میڈیا مالکان اور مولویوں کو سول ایوارڈز کیلئے نامزد کرنا غیر آئینی ہے، درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت سول ایوارڈز کی نامزدگیوں کا طریقہ کار طلب کرے، مراعات یافتہ شخصیات کی نامزدگیاں کالعدم قرار دے اور من پسند شخصیات کو سول ایوارڈز دینے کیلئے کی گئی آئینی ترامیم بھی کالعدم قرار دی جائیں۔
لاہور ہائیکورٹ میں پنجاب حکومت کی جانب سے ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ کی 120 ایکڑ اراضی انتظامی دفاتر کیلئے حاصل کرنے کے معاملے پر سماعت،جسٹس جاوید اقبال وینس نے سیکرٹری کالونیز اور سیکرٹری ہائر ایجوکیشن کمیشن کو رپورٹ سمیت 14 ستمبر کو طلب کرلیا، درخواست گزاران نے مؤقف اختیار کیا کہ 200 ایکڑ پر مشتمل سیالکوٹ ویمن یونیورسٹی میں 11 ہزار سے زائد طالبات زیر تعلیم ہیں ، ڈپٹی کمشنر نے سرکاری دفاتر کیلئے یونیورسٹی کی 120 ایکڑ اراضی واپس لینے کیلئے خط لکھا، جبکہ یونیورسٹی کے 141 ایکڑ رقبے پر پہلے ہی تعلیمی بلاکس، ریسرچ سینٹرز اور دیگر منصوبے قائم ہیں، یونیورسٹی انتظامیہ نے نئے اکیڈمک بلاکس کی ضرورت کے پیش نظر مزید اراضی دینے سے انکار کیا ہے، آئندہ چند برسوں میں طالبات کی تعداد 25 ہزار سے تجاوز کر جائے گی، سپریم کورٹ قرار دے چکی ہے کہ تعلیمی مقاصد کیلئے حاصل کی گئی اراضی واپس نہیں لی جا سکتی، درخواست گزاران کے مطابق 16 مارچ کو صوبائی کابینہ کی جانب سے 120 ایکڑ اراضی حاصل کرنے کی منظوری کے بعد یونیورسٹی کی اراضی پر کسی بھی وقت قبضہ کیا جا سکتا ہے، استدعا ہے کہ صوبائی کابینہ کا انتظامی دفاتر کیلئے یونیورسٹی کی اراضی حاصل کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے اور حکومت کو اراضی پر قبضے سے روکا جائے۔
لاہور ہائیکورٹ میں وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کی نازیبا ویڈیو وائرل کیس میں ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرانے کی اجازت سے متعلق درخواست پر سماعت ، جسٹس اَبہر گل خان نے درخواست گزار کے وکیل کو فلک جاوید و دیگران کو فریق بنانے کی ہدایت کر دی، علی بخاری ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ عظمیٰ بخاری کا کیس ٹرائل کورٹ میں زیر التوا ہے، اہم عہدے پر فائز ہونے کے باعث انہیں سکیورٹی خطرات لاحق ہیں اور سکیورٹی خدشات کے باعث ٹرائل کورٹ میں ذاتی حیثیت میں پیش ہونا ممکن نہیں۔ وکیل نے بتایا کہ ٹرائل کورٹ نے ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرانے کی درخواست مسترد کر دی جبکہ قانون میں ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہونے کی سہولت موجود ہے، عدالت نے استفسار کیا کہ جن لوگوں کی جانب سے دھمکیاں مل رہی ہیں انہیں فریق کیوں نہیں بنایا گیا؟ آپ نے صرف سرکار کو فریق بنایا ہے، ملزمان کو فریق کیوں نہیں بنایا؟ عدالت نے درخواست گزار کو فلک جاوید اور دیگر کو فریق بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت کی کارروائی آگے بڑھائی، درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر عظمیٰ بخاری کو ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرانے کی اجازت دی جائے۔
لاہور ہائیکورٹ کےجسٹس خالد اسحاق نے پنجاب کے تمام میڈیکل کالجز کو افغان طلبا کو نکالنے سے روکتے ہوئے سماعت 18 ستمبر تک ملتوی کردی، 30 سے زائد افغان طلبا کی درخواستوں پر سماعت کے دوران وکیل پی ایم سی نے موقف اپنایا کہ افغان طلبا کے پاس درست ویزہ موجود نہیں ہے،عدالت نے استفسار کیا داخلہ دیتے ہوئے ایجوکیشن ویزہ کیسے دیا تھا؟چار چار سال انکی زندگی کے ضائع کردیے اب واپس بھیج رہے ہیں ،پی ایم ڈی سی کو شاہی حکم ایا جس کے بعد نوٹیفکیشن جاری کردیا،طلبا کو نکالنے سے پہلے ایک بار تو ان طلبا کو سن لیتے ،جب ان پر پیار ایا ہوا تھا تب پوری دنیا میں ڈھنڈورا پیٹ رہے تھے ،کل تک فیورٹ چائلڈ تھے اج پالیسی تبدیل ہوگئی،آپ انکو بھی بھیج دیں مگر میڈیکل کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد ، وکیل پی ایم ڈی سی نے کہا کہ پوری دنیا کا اصول ہے کہ ویلڈ ویزہ نہ ہو تو آپ رہ نہیں سکتے،امریکہ میں بھی درست ویزہ کے بغیر نہیں رہ سکتے،عدالت نے ریمارکس دیئے کہ امریکہ کی عدالتیں آزاد ہیں اور پاکستان میں بھی عدالتیں آزاد ہیں،اپ ان طلبا کو سزائے موت ہی دے دیں ، وکیل پی ایم ڈی سی نے کہا سر یہ ریاستی سکیورٹی کا مسئلہ ہے،عدالت نے کہاکوئی ریاستی سکیورٹی کا معاملہ نہیں ہے ،کوئی میڈیکل کالج کسی طالب علم نہ نکالے گا ،نہ ہی انکا پیپر کینسل کرے گا ۔
لاہور ہائیکورٹ،پنجاب خواتین کمیشن کی چیئرپرسن تعینات نہ کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت بغیر کسی کاروائی کے ملتوی ہوگئی،عدالت میں درخواست گزار اور اسکے وکلا میں سے کوئی پیش نہ ہوا۔



