latest newsWorld

ایران جنگ، ٹرمپ کے لیے ’ہمیشہ جاری رہنے والی جنگ‘ بننے کا خطرہ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوسری مدت کے لیے صدارتی مہم کے دوران خود کو ’’امن کا صدر‘‘ قرار دیتے ہوئے بیرونِ ملک جنگیں ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا، تاہم ایران کے خلاف جاری جنگ نے انہیں ایک ایسے تنازع میں الجھا دیا ہے جسے تجزیہ کار ان کی اپنی ’’طویل جنگ‘‘ قرار دے رہے ہیں۔

9/11 حملوں کی 25ویں برسی کے موقع پر امریکی خارجہ پالیسی کے حلقوں میں ایران جنگ کا موازنہ افغانستان اور عراق کی طویل اور متنازع جنگوں سے کیا جارہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس سے یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ آیا امریکا نے ماضی کی جنگوں سے سبق سیکھا اور اس بار واضح حکمت عملی اور جنگ کے خاتمے کا منصوبہ تیار کیا یا نہیں۔

واشنگٹن کے سینٹر فار انٹرنیشنل پالیسی کے سِینا توسی کے مطابق ٹرمپ نے عراق اور افغانستان کے بعد واشنگٹن میں مشرق وسطیٰ میں ایک اور طویل جنگ شروع کرنے کے خلاف موجود اہم احتیاطی اصول توڑ دیا ہے، جس کے نتیجے میں ان کے جانشین کو طویل عرصے تک جاری رہنے والی امریکا ایران کشیدگی ورثے میں مل سکتی ہے۔

امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ جنگ عراق اور افغانستان کی جنگوں سے مختلف ہے۔ اس بار امریکا بنیادی طور پر فضائی اور بحری طاقت استعمال کررہا ہے، تاہم چھ ماہ کی جنگ کے باوجود ایران کو شکست نہیں دی جاسکی اور تہران کی حکومت بھی ختم نہیں ہوئی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق جنگ اب تھکا دینے والی کشمکش میں تبدیل ہوچکی ہے اور نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد بھی اس کے جاری رہنے کا امکان ہے۔ آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل میں رکاوٹ کے باعث امریکا میں پٹرول کی قیمتیں بڑھی ہیں جبکہ جنگ نے ٹرمپ کی مقبولیت اور واشنگٹن کے عالمی تشخص کو بھی متاثر کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کی مزاحمت اور آبنائے ہرمز کے ذریعے دنیا کی تقریباً پانچویں توانائی سپلائی متاثر کرنے کی صلاحیت کا اندازہ کم لگایا۔ ان کے مطابق ایران جنگ میں امریکا کو عراق اور افغانستان کی طرح علاقائی اثرات اور اتحادیوں کی محدود حمایت کا بھی سامنا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق افغانستان اور عراق کی جنگوں نے امریکی فوج پر شدید دباؤ ڈالا، مشرق وسطیٰ کو غیر مستحکم کیا اور بالآخر امریکی عوام میں جنگی پالیسیوں کے خلاف ردعمل پیدا کیا، جس نے ٹرمپ کے سیاسی عروج میں بھی کردار ادا کیا تھا۔

ایران کے خلاف جنگ کو عراق اور افغانستان کے مقابلے میں اس لحاظ سے بھی مختلف قرار دیا جارہا ہے کہ ٹرمپ کو جنگ کے آغاز پر عوامی حمایت کا وہ ابتدائی دور بھی حاصل نہیں ہوا جو جارج ڈبلیو بش کو حاصل تھا۔ امریکا میں جنگ کے خلاف رائے شروع ہی سے نمایاں رہی ہے۔

تاہم ٹرمپ کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف کارروائی طویل جنگ نہیں بلکہ اسلامی جمہوریہ کے ساتھ کئی دہائیوں سے جاری کشمکش کا جواب ہے۔ فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز کے سربراہ مارک ڈوبووٹز نے کہا کہ ایران کے خلاف کارروائی بالآخر امریکا کو فتح کی جانب لے جائے گی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button