latest newsPoliticsWorld

کویت کی نیتن یاہو کے گولان میں داخلے کی مذمت، سلامتی کونسل سے کارروائی کا مطالبہ

کویت سٹی: کویت نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے مقبوضہ شامی علاقے جبلِ حرمون میں غیر قانونی داخلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے شام کی خودمختاری کی خلاف ورزیوں اور اسرائیلی حملے روکنے کے لیے کارروائی کا مطالبہ کردیا۔

کویتی وزارت خارجہ نے بیان میں نیتن یاہو کے شام کی سرزمین میں داخلے کو شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی اور بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔

بیان میں کہا گیا کہ شامی سرزمین میں اسرائیلی دراندازیوں اور حملوں کا تسلسل خطے کی سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچانے والی خطرناک کشیدگی ہے۔ کویت نے شام کی آزادی اور اپنی تمام سرزمین پر خودمختاری کے لیے مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔

کویتی وزارت خارجہ نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے اسرائیلی حملے رکوانے اور اسرائیل کو متعلقہ بین الاقوامی قراردادوں کی پابندی کا پابند بنائے۔ کویت نے 1974 کے شام اسرائیل معاہدہ برائے علیحدگی افواج کا احترام یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔

شام اور اردن نے بھی نیتن یاہو کے جبل حرمون کے دورے کو شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مذمت کی ہے۔

دورے کے دوران بلٹ پروف جیکٹ پہنے نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل نے جبل حرمون سے دریائے یرموک تک کے علاقے پر ’’غیر معمولی اور مکمل کنٹرول‘‘ قائم کرلیا ہے اور وہ اپنی سرحدوں کے قریب ’’دہشت گرد قوتوں‘‘ کی موجودگی کی اجازت نہیں دے گا۔

اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بھی کہا کہ اسرائیلی فوج جبل حرمون سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے 1967 سے شام کی گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کر رکھا ہے اور 1981 میں اسے یکطرفہ طور پر ضم کرنے کا اعلان کیا تھا، جسے عالمی برادری نے تسلیم نہیں کیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button