latest newsPoliticsWorld

جنگ اور امن کے فیصلے صرف لبنانی ریاست کا اختیار ہیں: امریکا

بیروت میں امریکی سفارتخانے نے کہا ہے کہ جنگ اور امن سے متعلق فیصلے صرف لبنانی ریاست کے پاس ہونے چاہئیں، جبکہ واشنگٹن نے مسلح افواج کے ذریعے ملکی خودمختاری کے قیام کے لیے لبنانی حکومت کی کوششوں کی حمایت کردی۔

امریکی سفارتخانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ لبنانی عوام روزانہ یہ واضح کررہے ہیں کہ وہ حزب اللہ کے ہتھیاروں کے مقابلے میں لبنانی ریاستی اداروں کو ترجیح دیتے ہیں۔

بیان کے مطابق جنوبی لبنان کسی علاقائی فریق یا ملیشیا کی ملکیت نہیں، اور امریکا علاقے میں خودمختاری قائم کرنے کے لبنانی حکومت کے ہدف کی حمایت کرتا ہے۔ امریکی سفارتخانے نے کہا کہ لبنانی فوج کو یہ خودمختاری نافذ کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ جنگ اور امن کے فیصلے صرف لبنانی ریاست کرے۔

امریکی موقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا کی ثالثی میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنوبی لبنان سے اسرائیلی انخلا اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کے اسلحہ سے متعلق مذاکرات جاری ہیں۔

لبنانی وزیر خارجہ یوسف رَجّی نے رواں ہفتے قاہرہ میں عرب لیگ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی سرپرستی میں جاری مذاکرات اسرائیلی حملے روکنے اور اسرائیل کو بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں کے پیچھے انخلا پر مجبور کرنے کا ’’سب سے مؤثر راستہ‘‘ ہیں۔

لبنان اور اسرائیل کے درمیان امریکی سرپرستی میں اب تک مذاکرات کے سات ادوار ہوچکے ہیں۔ مذاکرات کے فریم ورک میں مقبوضہ لبنانی علاقوں سے اسرائیلی فوج کا مرحلہ وار انخلا، لبنانی فوج کی تعیناتی اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے کی تجویز شامل ہے۔

تاہم فریم ورک کے باوجود لبنان میں اسرائیلی حملے جاری ہیں۔ لبنانی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق اگست کے اواخر تک حملوں میں 4 ہزار سے زائد افراد جاں بحق اور 12 ہزار سے زیادہ زخمی ہوچکے تھے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button