پاکستان انڈر 19 کرکٹ ٹیم کو برطانیہ میں تارکین وطن سمجھ کر احتجاج کا سامنا

پورٹسماؤتھ: جنوبی انگلینڈ میں تارکین وطن مخالف مظاہرین نے پاکستان کی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کو پناہ کے متلاشی افراد سمجھ کر اس ہوٹل کے باہر احتجاج کیا جہاں قومی جونیئر ٹیم قیام پذیر تھی۔
برطانوی میڈیا کے مطابق واقعہ منگل کی شام پورٹسماؤتھ کے علاقے کوشام میں پیش آیا، جہاں پاکستانی نوجوان کرکٹرز ایک کوچ کے ذریعے میریئٹ ہوٹل پہنچے تھے۔ ایشیائی نوجوانوں کو ہوٹل میں دیکھنے سے متعلق سوشل میڈیا پر پھیلنے والی اطلاعات کے بعد تقریباً 30 مظاہرین وہاں جمع ہوگئے۔
رپورٹ کے مطابق تارکین وطن مخالف جماعت ریفارم یو کے کے ایک کونسلر بھی موقع پر پہنچے اور تصدیق کی کہ ہوٹل میں موجود نوجوان دراصل پاکستان کی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی ہیں، جس کے بعد مظاہرین منتشر ہوگئے۔
ہیمپشائر پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ پولیس کو ہوٹل کے قریب لوگوں کے جمع ہونے کی اطلاع ملی تھی۔ اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر مظاہرین سے بات کی اور انہیں بتایا کہ کوچ میں موجود افراد سے متعلق ان کے خدشات درست نہیں تھے۔
پولیس کے مطابق تقریباً 30 افراد کچھ دیر بعد منتشر ہوگئے اور واقعے میں کسی جرم کی اطلاع نہیں ملی۔
اسٹینڈ اپ ٹو ریسزم کے قومی منتظم مائیکل بریڈلی نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پناہ گزینوں اور تارکین وطن کو قربانی کا بکرا بنانے کا رجحان ایسے واقعات کا باعث بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر پاکستانی انڈر 19 ٹیم کو صرف اس شبہے میں احتجاج کا سامنا کرنا پڑے کہ وہ تارکین وطن ہوسکتے ہیں تو یہ نسل پرستانہ حملوں اور مزید تشدد کی جانب خطرناک پیش رفت ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان کی سینئر کرکٹ ٹیم اس وقت برمنگھم کے ایجبسٹن گراؤنڈ میں انگلینڈ کے خلاف تیسرا ٹیسٹ کھیل رہی ہے۔



