مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کے لیے 1,670 نئے گھروں کی منظوری

اسرائیلی حکام نے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کے لیے 1,670 نئے رہائشی یونٹس تعمیر کرنے کے منصوبوں پر غور شروع کردیا۔
فلسطینی وال اینڈ سیٹلمنٹ ریزسٹنس کمیشن کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب 12 مغربی ممالک نے یہودی بستیوں سے آنے والی مصنوعات پر تجارتی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا اور اسرائیل سے بستیوں کی توسیع روکنے کا مطالبہ کیا۔
کمیشن کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت نے 2022 کے اواخر میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے 104 نئی یہودی بستیوں اور 160 زرعی آبادکاری چوکیوں کے قیام کی منظوری دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق تازہ منصوبے حتمی منظوری کے مرحلے میں ہیں، جن میں بیت لحم کے جنوب مشرق میں واقع معالیہ آموس میں 365 اور رام اللہ کے شمال مغرب میں تلمون بستی میں 200 نئے رہائشی یونٹس شامل ہیں۔
منصوبے میں مغربی کنارے میں تین نئی یہودی بستیوں کے قیام کی بھی تجویز ہے، جن میں رام اللہ اور نابلس کے درمیان امیحائی، جیریکو کے علاقے میں عین یطاف اور جنین کے علاقے میں ماعوز تزوِی شامل ہیں۔
کمیشن کے مطابق مختلف منصوبوں کے تحت مجموعی طور پر 749 رہائشی یونٹس 1,125 دونم اراضی پر تعمیر کیے جائیں گے، جبکہ پیڈوئیل میں 95، سلفیت میں الی زہاو میں 259 اور یروشلم کے شمال مغرب میں گیوات زیو میں مزید 2 رہائشی یونٹس تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
فلسطینی کمیشن کا کہنا ہے کہ یہ منصوبے ظاہر کرتے ہیں کہ اسرائیل کا مقصد صرف موجودہ بستیوں کو وسعت دینا نہیں بلکہ مغربی کنارے میں نئی اور مستقل یہودی آبادیاں قائم کرنا بھی ہے۔
بین الاقوامی قانون کے تحت 1967 سے اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارہ مستقبل کی فلسطینی ریاست کا حصہ سمجھا جاتا ہے، جبکہ قابض طاقت کی جانب سے اپنی آبادی کو مقبوضہ علاقے میں منتقل کرنا غیر قانونی تصور کیا جاتا ہے۔



