ایف بی آر کی کراچی کی کاروباری برادری کو 83 ارب روپے کے ریفنڈز 2 سے 3 ماہ میں جاری کرنے کی ہدایت

کراچی: وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر ایف بی آر چیئرمین راشد محمود لنگڑیال نے اپنی ٹیم کے ہمراہ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے عہدیداران سے ملاقات کی۔
ملاقات میں کاروباری برادری کو درپیش ٹیکس اور برآمدات سے متعلق مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے اجلاس کے اہم فیصلوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم (ای ایف ایس) کے تحت گرے فیبرک کے غلط استعمال کی روک تھام ایک اہم پیش رفت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ای ایف ایس کے تحت درآمد کیے جانے والے خام مال پر زیادہ ویلیوایشن رولنگ کے باعث برآمد کنندگان مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اسکیم کے تحت 10 فیصد ویلیو ایڈیشن کی شرط تیار مصنوعات کی برآمد سے متعلق ہے، صنعتی خام مال کی درآمد سے نہیں۔
ملاقات میں انکم ٹیکس ریفنڈز کا معاملہ بھی تفصیل سے زیر بحث آیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ مؤخر کیے گئے ریفنڈز ایک سے دو ماہ کے اندر ادا کرنے کا فیصلہ پہلے ہی کیا جاچکا ہے۔
ایف پی سی سی آئی کے مطابق اس وقت 83 ارب روپے کے ریفنڈز زیر التوا ہیں، جس پر ایف بی آر چیئرمین نے ہدایت کی کہ یہ ریفنڈز دو سے تین ماہ کے اندر جاری کیے جائیں۔



