ٹرمپ کا وائٹ ہاؤس کے 4 ملازمین کو ایک لاکھ 57 ہزار ڈالر کے نقد تحائف

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے 4 ملازمین کو مجموعی طور پر ایک لاکھ 57 ہزار ڈالر کے نقد تحائف دیے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے جاری مالیاتی گوشواروں کے مطابق ٹرمپ کی قریبی معاون نٹالی ہارپ کو 45 ہزار ڈالر دیے گئے۔
نٹالی ہارپ کے علاوہ 2 دیگر ملازمین کو بھی 45،45 ہزار ڈالر کے تحائف دیے گئے، جبکہ ٹرمپ کے دیرینہ معاون اور اوول آفس آپریشنز کے ڈائریکٹر والٹ ناؤٹا کو 22 ہزار ڈالر دیے گئے۔
دستاویزات کے مطابق دیگر کسی وائٹ ہاؤس ملازم نے صدر کی جانب سے تحفہ وصول کرنے کا اعلان نہیں کیا۔ امریکی قانون کے تحت وفاقی ملازمین کو اپنی سرکاری ذمہ داریوں کے عوض بیرونی معاوضہ وصول کرنے کی اجازت نہیں۔
وائٹ ہاؤس نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ تحائف ذاتی نوعیت کے ہیں، ملازمین کی سرکاری ذمہ داریوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں اور امریکی قوانین و اخلاقی ضوابط کے تحت جائز ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ صدر ٹرمپ اپنے حلقۂ احباب اور قریبی افراد کو کرسمس کے تحائف دینے کی دیرینہ روایت رکھتے ہیں، جس میں بعض اوقات سرکاری ملازمین اور معاونین بھی شامل ہوتے ہیں۔
دستاویزات میں ان رقوم کو ’’تعطیلات کے موقع پر نقد تحفہ‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ تحائف وصول کرنے والوں میں ناؤٹا، ہارپ، کمیونیکیشنز ایڈوائزر مارگو مارٹن اور وائٹ ہاؤس کی معاون چیمبرلین ہیرس شامل ہیں۔
وائٹ ہاؤس نے اس سوال کا جواب نہیں دیا کہ فہرست میں شامل دیگر 91 ملازمین، جن میں اعلیٰ سطح کے معاونین اور خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ کے مشیر بھی شامل ہیں، کو تحائف کیوں نہیں دیے گئے۔



