latest newssci&tech

اے آئی سے انسانیت کے خاتمے کا 10 فیصد امکان ہے: انتھروپک کے محقق کا انتباہ

واشنگٹن: مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کے حوالے سے ایک تشویشناک پیش گوئی سامنے آئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ آئندہ ایک دہائی کے دوران اے آئی کے باعث پوری انسانیت کے خاتمے کا 10 فیصد امکان موجود ہے۔

اے آئی کمپنی انتھروپک کے سیفٹی محقق جیکب کوسن نے کمپنی چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مختلف کمپنیاں خود کو بہتر بنانے والے سپر انٹیلی جنس سسٹمز تیار کرنے کی دوڑ میں شامل ہیں اور اس عمل میں انسانی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا جا رہا ہے۔

جیکب کوسن نے کہا کہ خود کو بہتر بنانے والے ایسے اے آئی سسٹمز ابھی موجود نہیں، تاہم مختلف اے آئی کمپنیاں ان کی تیاری پر کام کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق اس ٹیکنالوجی کی طاقت کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ یہ مستقبل میں انتہائی طاقتور سسٹمز میں تبدیل ہوسکتی ہے جو بڑے پیمانے پر سائبر حملے کرسکیں، مختلف شعبوں کو تیزی سے تبدیل کرسکیں اور اختیار و وسائل اپنے قبضے میں لے سکیں۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اے آئی سسٹمز اس یقین کے ساتھ تیار کیے جا رہے ہیں کہ وہ اس دہائی کے اختتام تک انسانوں کے لیے تباہ کن ثابت ہونے کی صلاحیت حاصل کرسکتے ہیں۔

جیکب کوسن کے بیان پر انتھروپک کی سائنسی ٹیم کے سربراہ ایون ہیوبینگر نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کوسن کی تشویش درست ہے۔ ان کے مطابق اے آئی ٹیکنالوجی سے انسانیت کے خاتمے کا امکان موجود ہے اور ان کے ذاتی اندازے کے مطابق آئندہ ایک دہائی میں اس کا امکان تقریباً 10 فیصد ہے۔

ایون ہیوبینگر نے کہا کہ انتھروپک کی جانب سے خطرات کم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے، تاہم کمپنی کے پاس سپر انٹیلی جنس سے وابستہ خطرات سے نمٹنے کے لیے فی الحال کوئی مکمل منصوبہ موجود نہیں۔

ان کے مطابق موجودہ اے آئی ماڈلز سے لاحق خطرہ نسبتاً کم ہے، اصل تشویش مستقبل میں سپر انٹیلی جنس سسٹمز کے سامنے آنے کی ہے، جن کی جانب پیش رفت توقعات سے زیادہ تیزی سے ہو رہی ہے۔

انتھروپک کی جانب سے ان بیانات پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا گیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button