شمالی کوریا میں نئی جوہری تنصیب کی تعمیر، آئی اے ای اے کا اظہارِ تشویش

ویانا: عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے انکشاف کیا ہے کہ شمالی کوریا نے یورینیئم افزودگی کے لیے اپنے مرکزی یونگ بیون جوہری کمپلیکس میں ایک نئی تنصیب تعمیر کی ہے، جس میں 28 تک سینٹری فیوج کاسکیڈز نصب کیے جا سکتے ہیں۔
آئی اے ای اے کے مطابق شمالی کوریا نے کانگ سون میں واقع یورینیئم افزودگی کی تنصیب کے توسیع شدہ حصے کو بھی فعال کرنا شروع کردیا ہے۔ عالمی جوہری ادارے نے ان پیش رفتوں کو شدید تشویش کا باعث قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ شمالی کوریا مختلف مقامات پر اپنی جوہری تنصیبات کو مسلسل وسعت دے رہا ہے۔
آئی اے ای اے کے انسپکٹرز کو 2009 میں شمالی کوریا سے نکالے جانے کے بعد سے وہاں رسائی حاصل نہیں ہوئی، جس کے باعث ادارہ اپنی جائزہ رپورٹس کے لیے سیٹلائٹ تصاویر اور دیگر دستیاب معلومات پر انحصار کرتا ہے۔
آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی نے رواں ہفتے بیان میں کہا تھا کہ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کا جاری رہنا اور اس کی مزید ترقی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی واضح خلاف ورزی ہے۔
آئی اے ای اے اس سے قبل اپریل میں بھی خبردار کر چکا ہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت میں اضافے کے آثار موجود ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق شمالی کوریا دنیا کے غریب ترین ممالک میں شمار ہونے کے باوجود اپنے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام پر بھاری رقم خرچ کر رہا ہے۔ جوہری پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے کام کرنے والے ایک تھنک ٹینک کی 2022 کی رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا جوہری پروگرام پر سالانہ تقریباً 64 کروڑ ڈالر خرچ کرتا ہے۔
شمالی کوریا اب تک 6 جوہری تجربات کرچکا ہے، جن میں آخری تجربہ ستمبر 2017 میں کیا گیا تھا۔ شمالی کوریا نے 2022 میں خود کو جوہری طاقت قرار دیتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے جوہری ہتھیار ترک نہیں کرے گا۔



