سعودی عرب پر حوثی حملوں کے بعد پاکستان کا ایران کو انتباہ، حوثیوں کو کنٹرول کرنے پر زور

اسلام آباد(ہم شہری) سعودی عرب پر یمنی حوثیوں کے حملوں کے بعد پاکستان نے ایران کو پیغام دیتے ہوئے اس پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے حوثی اتحادیوں کو سعودی عرب پر حملے روکنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق ایک سینیئر علاقائی سفارت کار نے بتایا کہ پاکستان نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران کو واضح پیغام پہنچایا ہے کہ حوثیوں کو لگام دی جائے، بصورت دیگر پراکسی تنازع وسیع علاقائی سکیورٹی بحران میں تبدیل ہوسکتا ہے۔
رائٹرز کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے درمیان دفاعی تعاون کے تناظر میں یہ انتباہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستانی حکام نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ فوجی کردار کی صورت میں کارروائی سعودی حدود کے دفاع تک محدود رہے گی۔
ذرائع کے مطابق ریاض میں سعودی حکام نے پاکستانی اور ترک فوجی نمائندوں سے ملاقات کرکے ردعمل کو مربوط بنانے پر غور کیا۔ تینوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ان کی افواج یمن میں داخل نہیں ہوں گی اور کسی بھی جوابی کارروائی کی صورت میں اسے سعودی سرزمین سے انجام دیا جائے گا۔
ایک پاکستانی ذریعے نے بتایا کہ حوثیوں کے خلاف جوابی حملوں میں پاکستان کی شرکت سے متعلق ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ ذرائع کے مطابق سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کا فوجی معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور سعودی سرزمین کے تحفظ تک محدود ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی فورسز سعودی عرب کے اندر فوجی، تکنیکی، زمینی یا فضائی معاونت فراہم کرسکتی ہیں، تاہم غیر ملکی سرزمین پر جنگی کارروائیوں میں حصہ نہیں لیں گی۔
واضح رہے کہ حوثیوں نے منگل کے روز سعودی عرب کے خمیس مشیط میں ایک ایئربیس اور قریبی شہروں میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں 73 افراد زخمی ہوئے۔ یہ رواں سال فروری میں ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے بعد سعودی عرب پر ہونے والے بڑے حملوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔



