
معاشرے کی ترقی صرف بلند و بالا عمارتوں، کشادہ سڑکوں اور جدید ٹیکنالوجی سے نہیں ہوتی بلکہ قوموں کی اصل ترقی اس وقت ممکن ہوتی ہے جب ان کا نوجوان محفوظ، تعلیم یافتہ، باصلاحیت اور مثبت سوچ کا حامل ہو بدقسمتی سے ہمارے معاشرے کو درپیش سنگین مسائل میں منشیات ایک ایسا ناسور بن چکا ہے جو خاموشی سے ہماری نوجوان نسل کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے اس لعنت کے خلاف جنگ صرف ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں بلکہ ریاست، تعلیمی اداروں، والدین، میڈیا اور معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

اسی اہم قومی مسئلے پر ورلڈ کالمسٹ کلب نے طلبہ و طالبات سمیت نوجوانوں میں منشیات سے ”بیزاری“ اور ”بیداری“ پیدا کرنے کے لیے اینٹی نارکوٹکس فورس پنجاب کے ریجنل کمانڈر بریگیڈیئر سکندر حیات چوہدری کے ساتھ ایک خصوصی نشست کا اہتمام کیا یہ نشست اس اعتبار سے بھی اہم تھی کہ اس میں منشیات کے خلاف جنگ کو محض گرفتاریوں اور کارروائیوں تک محدود رکھنے کے بجائے آگاہی اور نوجوانوں کے مستقبل سے جوڑ کر دیکھا گیا۔بریگیڈیئر سکندر حیات چوہدری نے نشست کے دوران بتایا کہ اینٹی نارکوٹکس فورس پنجاب اپنے محدود وسائل اور کم اسٹاف کے باوجود منشیات فروشوں کے خلاف تاریخی کام کر رہی ہے ان کے مطابق پنجاب میں اس وقت تقریباً 50 اقسام کی نشہ آور اشیاء فروخت ہو رہی ہیں اور ANF ہر ماہ تقریباً 20 ٹن منشیات میڈیا کے سامنے جلا دیتی ہے۔
یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کے خلاف کارروائی کس قدر مشکل اور وسیع محاذ پر جاری ہے یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر محدود وسائل اور کم افرادی قوت کے باوجود اتنی بڑی مقدار میں منشیات پکڑی جا رہی ہے اگر اس ادارے کو مزید وسائل، جدید ٹیکنالوجی، افرادی قوت اور سہولیات فراہم کر دی جائیں تو اس کی کارکردگی میں کس قدر اضافہ ہوسکتا ہے؟ حکومت کو اس سوال پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔
منشیات فروش دراصل صرف ایک فرد کو نشانہ نہیں بناتا بلکہ وہ پورے خاندان، معاشرے اور ملک کے مستقبل کو نقصان پہنچاتا ہے ایک نوجوان جب نشے کا عادی بنتا ہے تو اس کی تعلیم، صحت، روزگار، گھریلو زندگی اور معاشرتی کردار سب متاثر ہوتے ہیں۔ کئی مرتبہ والدین اپنی جمع پونجی اولاد کی تعلیم اور بہتر مستقبل کے لیے خرچ کرتے ہیں مگر نشہ اس تمام محنت کو چند لمحوں میں برباد کر دیتا ہے اس لیے ANF کی وہ حکمت عملی خاص طور پر قابلِ تحسین ہے جس میں کارروائی کے ساتھ ساتھ آگاہی کو بھی اہمیت دی جا رہی ہے۔
اسی لیے بریگیڈیئر سکندر حیات چوہدری تعلیمی اداروں میں منشیات کے نقصانات کے حوالے سے لیکچرز اور سیمینارز بھی منعقد کرواتے رہتے ہیں یہی وہ راستہ ہے جسے مزید وسیع کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ نوجوانوں کو نشے سے بچانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انہیں اس کے خطرات سے اس وقت آگاہ کیا جائے جب وہ اس لعنت سے دور ہوں ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ منشیات کے خلاف جنگ صرف چھاپوں، گرفتاریوں اور مقدمات سے نہیں جیتی جا سکتی یہ جنگ آگاہی، تعلیم، خاندان کی نگرانی، معاشرتی ذمہ داری اور قانون کے مؤثر نفاذ کے ذریعے ہی کامیاب ہوسکتی ہے اگر ایک طالب علم یہ سمجھ لے کہ نشہ اس کی صحت کے ساتھ ساتھ اس کے خوابوں کو بھی تباہ کرسکتا ہے تو ممکن ہے وہ کسی ایسے دوست یا گروہ کا حصہ بننے سے انکار کردے جو اسے اس راستے پر لے جانا چاہتا ہو۔
میڈیا بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرسکتا ہے اخبارات، ٹی وی چینلز، ریڈیو اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر منشیات کے خلاف مستقل آگاہی مہم چلائی جانی چاہیے صرف کارروائی کی خبر دینے کے بجائے عوام کو یہ بھی بتایا جائے کہ منشیات کس طرح نوجوانوں کی زندگی، خاندان اور معاشرے کو متاثر کرتی ہیں والدین کی ذمہ داری بھی کسی صورت کم نہیں۔ بچوں کے رویوں، دوستوں، معمولات اور اچانک آنے والی تبدیلیوں پر توجہ دینا ضروری ہے۔ تعلیمی اداروں کو بھی طلبہ کی ذہنی اور سماجی تربیت کے لیے خصوصی پروگرام ترتیب دینے چاہئیں اگر گھر، اسکول، میڈیا اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ایک ہی سمت میں کام کریں تو منشیات فروشوں کے لیے نوجوان نسل تک رسائی مشکل بنائی جاسکتی ہے۔
اینٹی نارکوٹکس فورس پنجاب کے افسران اور اہلکار یقیناً مشکل حالات میں کام کر رہے ہیں منشیات کے کاروبار سے وابستہ عناصر ایک منظم نیٹ ورک رکھتے ہیں جبکہ ان کے خلاف کارروائی کرنے والے اہلکاروں کو مسلسل خطرات کا سامنا رہتا ہے ایسے اداروں کی حوصلہ افزائی صرف تعریفوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ انہیں مطلوبہ وسائل، جدید آلات، تربیت اور افرادی قوت بھی فراہم کی جانی چاہیے ضرورت اس امر کی ہے کہ منشیات کے خلاف ANF کی کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانے کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں میں اس کی آگاہی مہم کو صوبے کے ہر ضلع، تحصیل اور تعلیمی ادارے تک پہنچایا جائے کیونکہ نوجوان ہمارا مستقبل ہیں اور مستقبل کو منشیات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔
ورلڈ کالمسٹ کلب کی یہ خصوصی نشست اسی احساس کی ایک مثبت کوشش تھی کہ معاشرے میں منشیات کے خلاف بیزاری بھی پیدا ہو اور بیداری بھی۔ بریگیڈیئر سکندر حیات چوہدری اور ANF پنجاب کی طرف سے محدود وسائل میں جاری کوششیں قابلِ قدر ہیں اب ذمہ داری صرف ANF کی نہیں بلکہ ہم سب کی ہے کہ منشیات کے خلاف آواز بلند کریں نوجوانوں کو آگاہ کریں اور اس ناسور کے خاتمے کے لیے اپنا حصہ ڈالیں کیونکہ اگر ہم نے آج اپنی نوجوان نسل کو بچانے کے لیے قدم نہ اٹھایا تو کل ہمارے پاس پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں ہوگا منشیات کے خلاف جنگ دراصل پاکستان کے مستقبل کی جنگ ہے اور اس جنگ میں ANF پنجاب کے ساتھ معاشرے کے ہر ذمہ دار فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
(روہیل اکبر 03004821200)



