2050 تک دنیا بھر میں کینسر کے نئے کیسز میں 67 فیصد اضافے کا خدشہ

دنیا بھر میں کینسر کے نئے کیسز کی تعداد 2050 تک 67 فیصد اضافے کے بعد تقریباً 6 کروڑ 70 لاکھ سالانہ تک پہنچنے کا امکان ہے۔
امریکن کینسر سوسائٹی (اے سی ایس) اور عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ادارے انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر (آئی اے آر سی) کی مشترکہ تحقیق کے مطابق 2024 میں دنیا بھر میں کینسر کے تقریباً 2 کروڑ 10 لاکھ نئے کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ 98 لاکھ افراد اس مرض کے باعث جان سے گئے۔
تحقیق کے مطابق آنے والی دہائیوں میں دنیا کے ہر 5 میں سے ایک فرد کو زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر کینسر کا سامنا ہوسکتا ہے، جبکہ ہر 9 میں سے ایک مرد اور ہر 13 میں سے ایک خاتون کی کینسر کے باعث موت کا خطرہ موجود ہے۔
محققین نے کینسر کو 21ویں صدی کے بڑے طبی چیلنجز میں شمار کرتے ہوئے کہا کہ اس مرض کے بڑھتے پھیلاؤ کو سمجھنا اس کی روک تھام اور مؤثر علاج کی حکمت عملی وضع کرنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔
تحقیق کے مطابق کینسر سے ہونے والی تقریباً 50 فیصد اموات کو روکا جا سکتا ہے، جس کے لیے مرض کی بروقت تشخیص اور فوری علاج تک رسائی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
آئی اے آر سی کے ڈیٹا کے مطابق 186 ممالک میں کینسر کی 34 اقسام کے کیسز اور اموات میں اضافہ دیکھا گیا، تاہم دنیا کے تمام خطوں میں اس مرض کا پھیلاؤ یکساں نہیں۔
آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں کینسر کی شرح نسبتاً زیادہ ہے جبکہ افریقا اور جنوبی و وسطی ایشیا میں اس کی شرح کم ریکارڈ کی گئی۔
پھیپھڑوں کا کینسر دنیا بھر میں سب سے عام کینسر ہے۔ 2024 میں اس کے تقریباً 26 لاکھ نئے کیسز سامنے آئے جبکہ 19 لاکھ اموات ہوئیں۔
بریسٹ کینسر دوسرے نمبر پر رہا، جس کے تقریباً 24 لاکھ نئے کیسز اور 6 لاکھ 94 ہزار اموات ریکارڈ ہوئیں۔
آنتوں کا کینسر دنیا میں تیسرا سب سے عام کینسر جبکہ اموات کے لحاظ سے دوسرا بڑا سبب ہے۔ 2024 میں اس کے 20 لاکھ سے زائد کیسز سامنے آئے اور 9 لاکھ 18 ہزار افراد جان سے گئے۔
جگر کے کینسر کے تقریباً 8 لاکھ 43 ہزار کیسز اور 7 لاکھ 32 ہزار اموات ہوئیں، جس کے باعث یہ کینسر سے ہونے والی اموات کی تیسری بڑی وجہ رہا۔
مردوں میں مثانے کا کینسر بھی نمایاں رہا، جس کے تقریباً 15 لاکھ کیسز اور 4 لاکھ 20 ہزار اموات ریکارڈ کی گئیں۔
معدے، سروائیکل اور لبلبے کے کینسر بھی تیزی سے عام ہونے والے امراض میں شامل ہیں۔ معدے کے کینسر کے تقریباً 9 لاکھ 80 ہزار کیسز اور 6 لاکھ 42 ہزار اموات ہوئیں، جبکہ تھائی رائیڈ کینسر کے تقریباً 9 لاکھ 59 ہزار کیسز رپورٹ ہوئے، جس کے باعث یہ دنیا کا چھٹا سب سے عام کینسر قرار پایا۔



