Businesslatest news

بجلی کی قیمت میں 51 پیسے فی یونٹ اضافہ، صارفین پر 12 ارب 60 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ

اسلام آباد() حکومت نے بجلی کے ٹیرف میں 51.94 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دے دی، جس کے نتیجے میں بجلی صارفین پر تقریباً 12 ارب 60 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔

نیپرا کے مطابق سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت یہ اضافہ ستمبر، اکتوبر اور نومبر 2026 میں یکساں طور پر 0.5194 روپے فی کلو واٹ آور کے حساب سے وصول کیا جائے گا۔

اس اضافے کا اطلاق لائف لائن صارفین، انکریمنٹل کنزمپشن پیکیج کے تحت بجلی استعمال کرنے والے صارفین اور پری پیڈ صارفین پر نہیں ہوگا۔

سماعت کے دوران ڈسکوز کی جانب سے مانگی گئی تقریباً 33 ارب روپے کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کا بوجھ ستمبر سے دسمبر تک چار ماہ میں منتقل کرنے کی تجویز دی گئی تھی، تاہم نیپرا نے تقریباً 12 ارب روپے کی کم ایڈجسٹمنٹ منظور ہونے کے باعث وصولی کی مدت تین ماہ برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔

نیپرا نے کے الیکٹرک کے صارفین پر بھی اسی مدت کے لیے 51.94 پیسے فی یونٹ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ لائف لائن، انکریمنٹل کنزمپشن پیکیج اور پری پیڈ صارفین کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔

نیپرا نے تمام ڈسکوز کو ہدایت کی ہے کہ ہر سہ ماہی کے اختتام کے فوراً بعد سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی درخواستیں جمع کرائی جائیں تاکہ ان پر بروقت کارروائی ہوسکے۔

ڈسکوز کو سہ ماہی بنیادوں پر مختلف صارف کیٹیگریز میں بجلی کی فروخت میں اضافے یا کمی کی تفصیلات بھی فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ صنعتی صارفین کے لیے بی ون، بی ٹو، بی تھری اور بی فور کیٹیگریز کی تفصیلات الگ سے پیش کرنا ہوں گی۔

نیپرا نے آئندہ سماعتوں میں بجلی کی فروخت اور زیادہ سے زیادہ طلب میں فرق اور اس کے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ پر اثرات کا تجزیہ بھی شامل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button