سینیٹ داخلہ کمیٹی کی فوجداری قوانین میں ترامیم منظور، تیزاب گردی پر سزائے موت کی تجویز

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے فوجداری قوانین میں متعدد ترامیم کی منظوری دے دی، جن میں تیزاب گردی کے جرم پر سزائے موت، گھریلو ملازمین پر تشدد و زیادتی کو جرم قرار دینے، غیر قانونی ایل پی جی ڈیکنٹنگ اور اسپتالوں کی جانب سے میت روکنے پر سزاؤں کی تجاویز شامل ہیں۔
سینیٹر فیصل سلیم رحمان کی زیر صدارت اجلاس میں تیزاب گردی، گھریلو ملازمین کے تحفظ، ایل پی جی سیفٹی، انسدادِ زیادتی اور صارفین کے حقوق سے متعلق نجی بلز کا جائزہ لیا گیا۔ بلز وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری کی مخالفت کے باوجود منظور کیے گئے، جبکہ پیپلز پارٹی کے ارکان نے بھی ان کے حق میں ووٹ دیا۔
سینیٹر محمد عبدالقادر کی جانب سے پیش کردہ فوجداری قوانین ترمیمی بل میں تیزاب یا کسی corrosive مادے سے جسمانی نقصان پہنچانے پر سزاؤں میں اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ بل کے تحت جرم ثابت ہونے پر سزائے موت یا عمر قید، یا کم از کم 14 سال قید اور 20 لاکھ روپے جرمانے کی تجویز ہے۔
کمیٹی نے سینیٹر سرمد علی کا گھریلو ملازمین سے بدسلوکی کو جرم قرار دینے سے متعلق بل بھی متفقہ طور پر منظور کرلیا۔ مجوزہ قانون میں جسمانی تشدد، جنسی ہراسانی، دھمکیاں، جبری مشقت، اجرت کی چوری، شناختی دستاویزات ضبط کرنا، خوراک یا طبی سہولیات سے محرومی اور تضحیک آمیز سلوک کو جرم قرار دینے کی تجویز ہے۔
بل کے تحت ایسے جرائم پر 10 سال تک قید اور ایک لاکھ روپے تک جرمانہ جبکہ شدید زخمی کرنے یا موت کا سبب بننے کی صورت میں عمر قید اور 5 لاکھ روپے تک جرمانے کی تجویز دی گئی ہے۔ جرم کو ناقابلِ ضمانت اور سیشن کورٹ میں قابلِ سماعت بنانے کی بھی تجویز ہے۔
سینیٹر شہادت اعوان کی جانب سے پیش کردہ بل میں غیر مجاز طریقے سے بڑے سلنڈر سے چھوٹے سلنڈروں میں ایل پی جی منتقل کرنے پر سزاؤں میں اضافے کی تجویز دی گئی۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کا میت کو غیر قانونی طور پر روکنے سے متعلق بل بھی متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔
مجوزہ قانون کے تحت اسپتال کی جانب سے واجبات کی عدم ادائیگی پر میت روکنے کی صورت میں پہلی مرتبہ دو سال تک قید اور 5 لاکھ روپے تک جرمانہ جبکہ دوبارہ جرم یا 24 گھنٹے سے زائد میت روکنے پر تین سال تک قید اور 10 لاکھ روپے تک جرمانے کی تجویز ہے۔ پوسٹ مارٹم اور پولیس تحقیقات کو اس قانون سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
کمیٹی نے انسدادِ زیادتی قانون میں ترمیم اور اسلام آباد صارفین کے تحفظ کے قانون میں بھی ترامیم منظور کیں، جن کے تحت نجی شعبے کے اسپتالوں کو فیسوں کی تفصیلات نمایاں کرنے، آئٹمائزڈ بل فراہم کرنے اور ہنگامی علاج سے قبل غیر اعلانیہ فیس یا ایڈوانس وصول کرنے کے معاملات کو قانون کے دائرے میں لانے کی تجویز دی گئی ہے۔
اجلاس میں سابق ارکان پارلیمنٹ کو سرکاری پاسپورٹ کے اجرا کے لیے وزارت داخلہ سے این او سی لینے اور پاسپورٹ کی مدت پانچ سال سے کم کرکے ایک سال کرنے کی اطلاعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ طلال چوہدری نے بتایا کہ صرف اندرونی منظوری کا طریقہ کار تبدیل کیا گیا ہے، جبکہ کمیٹی چیئرمین نے ہدایت کی کہ قانون کی خلاف ورزی نہ کی جائے اور سرکاری پاسپورٹ قانون کے مطابق پانچ سال کے لیے جاری کیے جائیں۔
وزارت داخلہ نے نابالغوں کے سوشل میڈیا کے غیر منظم استعمال سے متعلق بھی کمیٹی کو بریفنگ دی اور بتایا کہ بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو ریگولیٹ کرنے کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی تجاویز تیار کر رہی ہے۔



