لاہور ہائیکورٹ میں مقدمات کی سماعت اور فیصلے

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نےعدالتی حکم پر عمل درآمد ہونے کی بنیاد پرسابق آئی جی پنجاب راؤ سردار علی کے خلاف دائر پانچ سال پرانی توہین عدالت کی درخواست نمٹا دی، سرکاری وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ درخواست گزار نے مقدمے کی تفتیش تبدیل کرنے کی استدعا کی تھی، جس پر ان کی درخواست کے مطابق مقدمے کی تفتیش تبدیل کردی گئی ، چالان بھی عدالت میں جمع کروایا جاچکا ہے جبکہ مقدمے کا ٹرائل تاحال زیرِ سماعت ہے۔
پاکستان تحریک ِ انصاف کے رہنما حماد اظہر کی بازیابی کیلئے انکی والدہ نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا،درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ 2 روز قبل حماد اظہر کو ملتان سے حراست میں لیا گیا، تاہم انہیں تاحال عدالت میں پیش نہیں کیا گیا،درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ حماد اظہر کی گرفتاری ظاہر کرنے، ان کے خلاف درج مقدمات کا ریکارڈ فراہم کرنے اور انہیں عدالت کے روبرو پیش کرنے کا حکم دیا جائے۔
لاہور ہائیکورٹ کےجسٹس احمد ندیم ارشد نے مال روڈ پر جماعت اسلامی کے دھرنے کے باعث اطراف کی سڑکوں کی بندش کیخلاف درخواست پر آئی جی پنجاب اور ڈپٹی کمشنر لاہور سے 14 ستمبر کو جواب طلب کر لیا، درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ چیئرنگ کراس پر جماعت اسلامی کی جانب سے 16 اگست سے دھرنا دیا جا رہا ہے، جس کے باعث اطراف کی سڑکیں بند ہیں اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے،درخواست میں کہا گیا کہ آئین شہریوں کو احتجاج کا حق دیتا ہے، تاہم احتجاج کی آڑ میں عام شہریوں کو اذیت میں مبتلا نہیں کیا جا سکتا، استدعا ہے کہ سڑکیں کھولنے اور ٹریفک کی روانی بحال کرنے کا حکم دیا جائے۔
لاہورہائیکورٹ کےجسٹس مزمل اختر شبیر نے ڈی جی ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی حکومت پنجاب شہزاد اے خان کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی کردی ،عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کو سیکرٹری خزانہ پاکستان کو فریق بنانے کی ہدایت کر دی ،وکیل ڈی جی ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے موقف اپنایا کہ سبسڈی چیک بناکر وزرات خزانہ کو بھجوا دیا ہے ،درخواست گزارجہانگیر ترن کی جے ڈبلیو ڈی شوگر ملز کے وکیل شہزاد عطا الٰہی نے موقف اپنایا کہ حکومتی نوٹیفکیشن کی روشنی میں 2018 میں چینی ایکسپورٹ کی ،حکومت نے سبسڈی دی ،حکومت سبسڈی کی دی گئی ایک ارب 25 کروڑ نہیں دے رہی ،عدالت نےرقم ادا کرنے کا حکم دیا لیکن عدالتی حکم کی پاسداری نہیں کی گئی، استدعا ہے کہ عدالت ذمہ داران کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائے ۔
لاہور ہائیکورٹ کےجسٹس خالد اسحاق نےتوہین عدالت کی درخواست پر چیف فنانس آفیسر ریلوے کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا، رانی نے موقف اپنایا کہ ریلوے فنانس ڈیپارٹمنٹ عدالتی حکم کے باوجود پانچ لاکھ پینشن ادائیگی نہیں کر رہا ہے، استدعا ہے کہ عدالت توہین عدالت کی کاروائی کرے۔
لاہور ہائیکورٹ میں سرکاری خزانے سے تشہیر پر وزیر اعلیٰ، چیف سیکرٹری اور سپیکر پنجاب اسمبلی کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر ، اشبا کامران نے درخواست میں موقف اپنایا کہ سپریم کورٹ نے سرکاری خزانے سے ذاتی تشہیر نہ کرنے بارے فیصلہ دے رکھا ہے ،عدالت عظمٰی کے فیصلے کے باوجود پنجاب اسمبلی میں تشہیر کیلئے قانون سازی کی گئی ،میاں نواز شریف کی سرکاری عہدے پر نہ ہونے کے باوجود منصوبوں پر تصاویر لگائی جارہی ہیں،چیف سیکرٹری عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے باوجود فنڈز جاری کر رہے ہیں ،سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد نہ کرنا توہین عدالت ہے، استدعا ہے کہ عدالت چیف سیکرٹری، وزیر اعلیٰ اور سپیکر پنجاب اسمبلی کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کرے ۔



