پاکستان ویمنز کرکٹ ٹییم کی بری ہار کارکردگی پر سوال اٹھ گئے
روہیل اکبر

پاکستان اور بھارت کا کرکٹ مقابلہ ہو اور قوم کی نظریں ٹی وی اسکرین پر نہ جمی ہوں یہ ممکن نہیں دبئی میں پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم نے بھارت کے خلاف جو کھیل پیش کیا اس نے شائقین کو شکست سے زیادہ اپنی ٹیم کی بے بسی پر افسردہ کیا پاکستان کی پوری ٹیم صرف 55 رنز پر ڈھیر ہوگئی اور بھارت نے یہ معمولی سا ہدف 8.4 اوورز میں 3 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کرکے میچ جیت لیا۔
پاکستان کا یہ ٹی20 انٹرنیشنل میں اب تک کا کم ترین سکور بھی قرار دیا گیا ہے۔یہاں سوال یہ نہیں کہ پاکستان بھارت سے کیوں ہارا؟ سوال یہ ہے کہ پاکستان اس انداز سے کیوں ہارا؟ کرکٹ میں شکست کوئی انہونی بات نہیں دنیا کی بڑی سے بڑی ٹیم بھی کبھی نہ کبھی ہارتی ہے لیکن 55 رنز پر پوری ٹیم کا پویلین لوٹ جانا کسی ایک بیٹر کی ناکامی نہیں بلکہ پوری بیٹنگ لائن، ٹیم مینجمنٹ، تیاری اور حکمت عملی پر سوالیہ نشان ہے۔
سب سے تشویشناک بات یہ تھی کہ پاکستانی بیٹنگ بھارتی اسپن کے سامنے مکمل طور پر بے بس نظر آئی ابتدائی مرحلے ہی میں وکٹیں اس تیزی سے گریں کہ اسکور بورڈ دیکھنے والوں کو یقین نہیں آ رہا تھا ایک وقت ایسا آیا کہ پاکستان نے صرف 8 رنز پر 6 وکٹیں گنوا دی تھیں بھارت کے اسپنرز نے پاکستان کی تمام دس وکٹیں حاصل کیں یہ صورتحال ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ آخر ٹیم مینجمنٹ نے کیا تیاری کی تھی؟کیا بھارت کے اسپنرز کا تجزیہ نہیں کیا گیا تھا؟ کیا بیٹرز کو اسپن باؤلنگ کے خلاف خصوصی پریکٹس نہیں کروائی گئی؟ کیا میچ سے قبل یہ اندازہ نہیں تھا کہ دبئی کی کنڈیشنز میں اسپن باؤلنگ اہم کردار ادا کرسکتی ہے؟
اگر یہ سب کچھ کیا گیا تھا تو پھر میدان میں اس کا اثر کیوں دکھائی نہیں دیا؟اور اگر نہیں کیا گیا تو پھر ذمہ داری کس کی ہے؟صرف کھلاڑیوں کو قربانی کا بکرا بنا دینا مسئلے کا حل نہیں۔پاکستان کرکٹ بورڈ کو اب خواتین کرکٹ کے پورے نظام کا سنجیدگی سے جائزہ لینا ہوگا کپتان بدلنے، دو چار کھلاڑیوں کو ڈراپ کرنے یا کوچ تبدیل کرنے سے بنیادی مسئلہ حل نہیں ہوگا ضرورت ایک ایسے نظام کی ہے جہاں کھلاڑیوں کو عالمی کرکٹ کے تقاضوں کے مطابق تیار کیا جائے یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان اس ٹورنامنٹ میں بالکل بغیر تیاری کے نہیں آیا تھا ٹیم نے ٹورنامنٹ سے قبل تربیتی کیمپ بھی لگایا اور پھر کپتان فاطمہ ثناء کی قیادت میں ایشیا کپ کے لیے اسکواڈ کا اعلان کیا گیا تھا۔
پاکستان نے ٹورنامنٹ کے اپنے پہلے میچ میں تھائی لینڈ کو 35 رنز سے شکست بھی دی تھی جہاں منیبہ علی کی نصف سنچری اور سعدیہ اقبال کی عمدہ باؤلنگ نے ٹیم کو کامیابی دلائی پھر بھارت کے خلاف اچانک ایسا کیا ہوگیا کہ وہی ٹیم صرف 55 رنز تک محدود ہوگئی؟ یہی وہ سوال ہے جس کا جواب پاکستان کرکٹ بورڈ کو دینا چاہیے ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان میں اکثر کھیلوں کے ادارے کامیابی کا کریڈٹ لینے میں سب سے آگے ہوتے ہیں لیکن ناکامی کی ذمہ داری لینے کے وقت خاموشی اختیار کرلیتے ہیں شکست کے بعد چند رسمی بیانات آتے ہیں
کہا جاتا ہے کہ غلطیوں کا جائزہ لیا جائے گا لیکن کچھ عرصے بعد وہی غلطیاں دوبارہ سامنے آجاتی ہیں اب ہمیں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ خواتین کرکٹ کسی تفریح کا نام نہیں یہ پاکستان کی نمائندگی کرنے والی قومی ٹیم ہے ہماری بیٹیاں جب سبز ہلالی پرچم والی شرٹ پہن کر میدان میں اترتی ہیں تو وہ صرف گیارہ کھلاڑی نہیں رہتیں بلکہ کروڑوں پاکستانیوں کی نمائندگی کرتی ہیں اس لیے ان سے توقع بھی بڑی ہونی چاہیے اور ان کی تیاری بھی بڑی ہونی چاہیے ہمیں اپنی خواتین کرکٹرز پر تنقید ضرور کرنی چاہیے مگر تعمیری انداز میں کھلاڑیوں کی عزت نفس مجروح کیے بغیر ان کی خامیاں سامنے لانا ضروری ہے۔
لیکن اس کے ساتھ ساتھ سلیکٹرز، کوچنگ اسٹاف اور انتظامیہ سے بھی جواب طلبی ہونی چاہیے آخر کب تک ہم صرف یہ کہیں گے کہ "آج ہمارا دن نہیں تھا”؟55 رنز کا اسکور کسی ایک دن کا مسئلہ نہیں یہ ایک الارم ہے بھارت نے اس میچ میں پاکستان کو صرف شکست نہیں دی بلکہ ہماری بیٹنگ کی وہ کمزوریاں بھی بے نقاب کردیں جن پر شاید ہم نے مناسب توجہ نہیں دی بھارت کی ٹیم گزشتہ میچوں میں بھی مضبوط فارم میں تھی اس نے ایشیا کپ میں تھائی لینڈ اور ہانگ کانگ کے خلاف بڑے مارجن سے کامیابیاں حاصل کی تھیں ایسی ٹیم کے خلاف کھیلنے سے پہلے پاکستان کو ایک واضح منصوبہ درکار تھا مگر میدان میں ایسا محسوس ہوا جیسے بیٹرز کے پاس نہ کوئی متبادل منصوبہ تھا، نہ دباؤ سے نکلنے کی حکمت عملی اور نہ ہی بھارتی اسپن کے خلاف مؤثر جواب۔
یہ شکست پاکستان ویمن کرکٹ کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے اگر آج بھی صرف چند کھلاڑیوں کو موردِ الزام ٹھہرا کر معاملہ ختم کردیا گیا تو کل ایک اور 55 رنز کی کہانی سامنے آسکتی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ خواتین کرکٹ کے ڈومیسٹک ڈھانچے، کوچنگ، ٹیلنٹ ہنٹ، فٹنس، ذہنی تربیت اور جدید ڈیٹا اینالیسس پر حقیقی توجہ دے کھلاڑیوں کو بڑی ٹیموں کے خلاف کھیلنے کا تجربہ دیا جائے اسپن، سوئنگ، شارٹ بال اور دباؤ کی صورتحال کے لیے خصوصی تربیت دی جائے۔ہمیں اپنی خواتین کرکٹ ٹیم سے یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ وہ ہر میچ جیتے گی لیکن یہ توقع ضرور ہونی چاہیے کہ وہ لڑے گی، مقابلہ کرے گی اور آخری گیند تک اپنی عزت کے لیے کھیلے گی۔
بھارت سے ہارنا مسئلہ نہیں اور نہ ہی 55 رنز پر ڈھیر ہونا بڑا مسئلہ ہے 3 وکٹوں سے بھارت کا ہدف حاصل کرنا بھی اتنا بڑا مسئلہ نہیں جتنا یہ سوال کہ پاکستان نے 120، 130 یا 140 رنز بنانے کے قابل ٹیم ہوتے ہوئے صرف 55 رنز کیوں بنائے؟اب وقت آ گیا ہے کہ شکست کے بعد رسمی پریس ریلیز کے بجائے حقیقی احتساب ہو کھلاڑیوں سے بھی سوال ہوں، کوچز سے بھی سوال ہوں، سلیکٹرز سے بھی سوال ہوں اور پاکستان کرکٹ بورڈ سے بھی سوال ہو کیونکہ قوم شکست برداشت کرسکتی ہے مگر بغیر مقابلے کے شکست قبول کرنا مشکل ہے۔55 رنز صرف اسکور بورڈ پر لکھی ہوئی ایک تعداد نہیں یہ پاکستان ویمن کرکٹ کے پورے نظام کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے۔



