آناک کراکاٹوا آتش فشاں پھٹنے سے 200 سے زائد پروازیں متاثر

جکارتہ: انڈونیشیا کے آناک کراکاٹوا آتش فشاں کے پھٹنے کے بعد دارالحکومت جکارتہ کے سوئیکرنو ہاٹا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پروازوں کا آپریشن عارضی طور پر معطل کردیا گیا، جس کے باعث 200 سے زائد ملکی و غیرملکی پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہوئیں۔
آتش فشاں سے لاوا فوارے کی طرح بلند ہوا جبکہ راکھ کے بادل جاوا کی جانب 20 ہزار اور سماٹرا و صوبہ بینٹن کی سمت 50 ہزار فٹ سے زائد بلندی تک پہنچ گئے۔
راکھ کے باعث متاثرہ علاقوں کے متعدد اسکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں معطل کردی گئی ہیں، جبکہ شہریوں نے آنکھوں میں جلن اور سانس لینے میں مشکلات کی شکایات کی ہیں۔
انڈونیشیا کے قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے بی این پی بی نے شہریوں کو فیس ماسک استعمال کرنے، آنکھوں کی حفاظت، بیرونی سرگرمیاں محدود کرنے، پانی کے ذخائر ڈھانپنے اور ڈرائیونگ کے دوران احتیاط کی ہدایت کی ہے۔ حکام کے مطابق آتش فشاں پھٹنے سے فی الحال سونامی کا خطرہ نہیں۔
رپورٹ کے مطابق آتش فشاں پھٹنے کی آواز 700 کلومیٹر دور تک سنی گئی، جبکہ 6 ستمبر کو بھی لاوا خارج ہونے کی دو نئی آوازیں ریکارڈ ہوئیں۔
آناک کراکاٹوا 1920 کی دہائی میں کراکاٹوا آتش فشاں کے بڑے دھماکے کے بعد سمندر میں نمودار ہوا تھا۔ 2018 میں اس کے پھٹنے سے آتش فشاں کا ایک حصہ منہدم ہوگیا تھا، جس کے نتیجے میں آنے والے سونامی سے جاوا اور سماٹرا کے ساحلی علاقوں میں 400 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔



