فرانس میں ہنگامے اور لوٹ مار، پیرس سمیت کئی شہروں میں کرفیو نافذ
2500 سے زائد افراد گرفتار، ایک ہزار پولیس اہلکار زخمی، کاروباری مراکز کو کروڑوں یورو کا نقصان

پیرس: فرانس میں ہنگاموں، لوٹ مار اور آتش زنی کے واقعات کے بعد حکومت نے پیرس سمیت متعدد شہروں کے مختلف علاقوں میں رات کے وقت کرفیو نافذ کردیا۔
فرانسیسی پولیس کے مطابق پیرس کے علاقے پلیس دے لا ریپبلک اور تجارتی مرکز لے آل میں رات 11 بجے سے صبح 6 بجے تک کرفیو رہے گا، جبکہ شہر کے دیگر علاقوں میں غیر مجاز اجتماعات پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ مارسیلے، بورڈو، نیس، لیون اور شمالی فرانس کے بعض شہروں میں بھی نقل و حرکت اور اجتماعات پر جزوی پابندیاں لگائی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق ملک بھر میں مظاہروں اور ہنگاموں کے دوران 2500 سے زائد افراد گرفتار کیے جاچکے ہیں، جبکہ تقریباً ایک ہزار پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایک مظاہرہ کرنے والے شخص کا ہاتھ پولیس کے ہجوم کو منتشر کرنے والے گرینیڈ سے اڑ گیا۔
وزیراعظم سباستیاں لیکورنو نے کہا ہے کہ مقامی میئرز کو ضرورت کے مطابق کرفیو نافذ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ انہوں نے متاثرہ علاقوں کی بحالی اور ہنگاموں کے دوران ہونے والے نقصانات کی تلافی کے لیے فنڈز مختص کرنے کا اعلان بھی کیا۔ ان کے مطابق املاک کو نقصان پہنچانے والوں سے اخراجات وصول کرنے کے لیے قانون سازی کی جائے گی۔
فرانس میں مظاہروں کا آغاز گزشتہ ماہ طلبہ کی جانب سے تعلیمی اداروں میں بہتر سہولتوں کے مطالبات سے ہوا تھا، تاہم بعد ازاں مہنگائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اور عوامی خدمات میں تنزلی کے خلاف احتجاج بھی اس میں شامل ہوگیا۔ ہفتے کے اختتام پر تقریباً 5 لاکھ 50 ہزار افراد نے مظاہروں میں شرکت کی۔
ہنگاموں کے دوران پیرس، مارسیلے اور دیگر شہروں میں گاڑیوں اور عمارتوں کو آگ لگائی گئی، دکانیں لوٹی گئیں اور وسطی شہر لیموج میں تاریخی سٹی ہال بھی آگ سے شدید متاثر ہوا۔ فرانسیسی چیمبرز آف کامرس کے مطابق 2 ہزار سے زائد دکانیں اور کاروباری مراکز متاثر ہوئے، جبکہ مجموعی نقصان کا تخمینہ کروڑوں یورو لگایا گیا ہے۔



