
سچ تو یہ ہے کہ پہلی ملاقات میں وہ مجھے کچھ زیادہ پسند نہیں آئے۔ دراز قامت، کشادہ پیشانی، گھنی مونچھیں جن میں سفید بال اُتر رہے تھے۔ سنجیدہ چہرہ، سانولی رنگت جو کبھی سفید رہی ہوگی۔ تفکر میں ڈوبی آنکھیں اور پیچھے کی طرف سنوارے گئے قدرے بڑھے ہوئے بال۔ وہ مردانہ وجاہت کا عمدہ نمونہ تھے۔ مگر زیادہ خوش لباس نہ تھے۔ یہ 1987ء کے ستمبر یا اکتوبر کے دن تھے اور میں اورینٹل کالج لاہور کے ایک کلاس روم میں انہیں پہلی بار دیکھ رہا تھا۔ یہ تھے میرے پسندیدہ اُستاد ڈاکٹر سہیل احمد خان۔ مزید چند ملاقاتوں کے بعد معلوم ہوا کہ انہوں نے کم آمیزی پر ہی اکتفا نہیں کیا بل کہ شخصیت کے گرد اجنبیت کی دفاعی دیوار بھی کھینچ رکھی ہے۔ پہلی بار ملنے والوں کو تو ان کی کم آمیزی تکبر کی حدوں کو چھوتی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔ ان کا شمار مشکل سے سمجھ میں آنے والی شخصیات میں ہوتا تھا۔ ان کی شخصیت پر ہمیشہ اسرار کی دُھند چھائی رہتی۔ وہ اپنے بارے میں جاننے کی اجازت کم کم ہی دیتے تھے۔ ان کی ذات پہاڑی سلسلے کی وہ بلند چوٹی تھی جس تک پہنچنے والوں کو بہت سی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ یہ رکاوٹیں ڈاکٹر سہیل احمد خان بڑی محنت سے استوار کرتے تھے۔ تدریس کے دوران ان کی کلاس میں پتا نہ ہلتا تھا اور اگر کوئی سرگوشی سر اُٹھانے لگتی تو وہ خاموش ہو جاتے۔ طلبہ و طالبات اپنی اپنی جگہ دہل کر رہ جاتے۔ ایسے میں ان کے چہرے پر ایسی خوفناک بے نیازی طاری ہوتی کہ لوگ سامنا کرنے سے گھبراتے تھے۔ طالبات سے مخاطب ہوتے وقت ماتھے کی تیوڑی اور بھی گہری ہو جاتی۔

ڈاکٹر سہیل احمد خاں بظاہر اردگرد پائی جانے والی ہر شے سے لاتعلق نظر آتے۔ مگر اس بے خودی میں ایک طرح کی ہوشیاری اور اجنبیت میں آشنائی کے ذائقے محسوس کیے جا سکتے تھے۔ وہ اپنے چاہنے والوں سے یقینا محبت کرتے تھے۔ مگر ان کے ہاں اظہار کا پہلو خاصا کمزور تھا۔ ان کی محبت دکھائی نہیں دیتی تھی بل کہ وہ اپنا وجود محسوس کراتی تھی ۔ پنجاب یونیورسٹی میں ان دنوں جمعیت کا زور تھا اور ڈاکٹر صاحب نظریاتی لڑائی کے ساتھ ساتھ رفقائی جھگڑوں میں بھی گھرے ہوئے تھے۔ مگر وہ ان جھگڑوں سے لاتعلق اور بلند نظر آنے کی اداکاری کرتے تھے۔ یوں لگتا تھا کہ وہ کھل کر ہنسنے کا رِسک بھی نہیں لینا چاہتے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان کی کم آمیزی خطرناک حدوں کو چھونے لگی تھی۔ یہی وجہ ہے نوواردانِ کوچۂ ادب نے ان کی ذات میں دلچسپی لینا تو قریباً چھوڑ دی تھی۔ انہوں نے کم آمیزی کا ایسا لبادہ اوڑھا کہ ان کی ذات سے سہیل احمد خان کہیں گم ہو گئے۔ ہمارے عہد کے سینئر لکھنے والوں میں سہیل احمد خان کے علاوہ منیر نیازی، جاوید شاہین اور انتظار حسین بھی خاصے کم آمیز تھے۔ جاوید شاہین کی کم آمیزی کی جڑیں ان کے احساسِ ناقدری میں تلاش کی جا سکتی ہیں۔ منیر نیازی کی کم آمیزی مصنوعی تھی جو جملے بازی کے آغاز کے ساتھ ہی ہوا ہو جاتی تھی۔ جب کہ انتظار حسین کی کم آمیزی ناکام اداکاری کے سوا کچھ نہ تھی۔
اب بھی لاہور میں ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے ڈاکٹر سہیل احمد خان کی جوانی کا زمانہ دیکھ رکھا ہے۔ وہ زمانہ جب وہ اپنے نامور اُستاد ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا کی معیت میں لاہور کی گلیوں میں گھوما کرتے تھے۔ استاد اور شاگرد دونوں فلم بینی کے شوقین تھے اور ہر نئی فلم کا پہلا شو دیکھا کرتے تھے۔ یہ وہ دن تھے جب لاہور کی ذہنی زندگی کو سینمائوں اور قہوہ خانوں کے تناظر میں دیکھا جاتا تھا۔ استاد اور شاگرد کے مابین گاڑھی چھنتی تھی۔ اکثر دونوں شامیں ایک ساتھ بسر کرتے، دونوں کی سرگرمیاں مشترک تھیں۔ بحیثیت اُستاد جب ڈاکٹر سہیل احمد خان کا اورینٹل کالج لاہور میں تقرر ہوا تو وہ ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا صاحب کے لشکر کے سپاہی تھے جو لوگ اورینٹل کالج کی تاریخ جانتے ہیں وہ یہاں کی تاریخی معرکہ آرائیوں سے بھی آگاہ ہوں گے۔ جب دونوں لشکر آمنے سامنے کھڑے تھے تو اچانک ایک روز سہیل احمد خان صاحب نے اپنی صف تبدیل کر لی اور یوں استاد شاگرد کی یہ محبت اپنے انجام کو پہنچی۔ اس کے بعد وہ ساری زندگی اپنے محبوب اُستاد کے سامنے کمان کھینچ کر کھڑے رہے۔ ہمارا زمانہ آتے آتے دونوں میں معمول کی بول چال بھی بند ہو چکی تھی۔
لکھنے پڑھنے کا آغاز انہوں نے سہیل بزمی کے نام سے کیا مگر جلد ہی وہ سہیل احمد خان بن کر سامنے آئے اور پاک ٹی ہائوس کی سنٹرل ٹیبل پر بزم آرائی کرنے لگے۔ انتظار حسین سے لے کر شہرت بخاری، مظفر علی سید اور زاہد ڈار تک ان کے ہمراہ شریک بزم ہوتے تھے۔ کبھی کبھار اس بزم کا حصہ بننے والوں میں ظہیر کاشمیری، حبیب جالب، انور سجاد، منو بھائی اور کشور ناہید جیسے لوگ بھی شامل تھے۔ ٹی ہائوس ہو یا کلاس روم ان کی گفتگو کا معیار ہر جگہ بلند ہی رہتا تھا۔ نئی تنقید، علامت نگاری، قدیم داستانیں، جدید نفسیات، تاریخ، فلسفہ اور تہذیبی علوم ان کی گفتگو کے مستقل حوالے تھے۔ پڑھانے کا اسلوب نہایت عالمانہ تھا۔ فرانسیسی علامت نگاروں اور جدید ناقدین (مقامی و عالمی) کے حوالوں سے اپنے لیکچر کو آراستہ کرتے۔ سلیم احمد اور محمد حسن عسکری کے نام بار بار زبان پر لاتے۔ وہ ایسے استاد تھے جنہیں دیکھ کر تدریس کے پیشے کو دل و جاں سے اپنانے کو جی چاہتا تھا۔ وہ بہت عمدہ اُستاد تھے۔ مگر ان کی گفتگو کے اصلی جوہر کلاس روم سے باہر ہی کھلتے تھے۔ انہوں نے مشرقی داستانوں کے قفل کو مغربی کلید سے کھولنے کا جتن کیا۔ جب ان کے پیرو مرشد حسن عسکری نے اس راستے کی درستی کے حوالے سے سوال اُٹھایا تو سہیل احمد خان واپس پلٹے اور مشرقی دانش میں کھو گئے۔ سچ تو یہ ہے کہ وہ داستانوں کی علامتی کائنات کے ہیرو بن کر سامنے آئے۔ وہ ایک نظم گو شاعر کی حیثیت سے ادبی منظرنامے پر اُبھرے مگر جلد ہی ان کی تمام تر توجہ تنقید کی طرف پھر گئی اور چار نظمیہ مجموعے ادب کو ہدیہ کرنے کے باوجود ان کا شاعر، ان کی عالمانہ تنقید کے بوجھ کے نیچے دب کر دم توڑ گیا۔
ڈاکٹر سہیل احمد خان کو حلقہ اربابِ ذوق کے سیکرٹری منتخب ہونے کا اعزاز ملا۔ وہ لاہور کی علمی و ادبی زندگی کے ہنگاموں کا حصہ رہے اور کئی ادبی جنگوں کا ہراول دستہ بھی بنے۔ پاکستان میں بائیں بازو کی سیاست میں دلچسپی لی۔ بے نظیر بھٹو پہلی بار ملک کی وزیراعظم بنیں تو وہ بائیں بازو کی ادبی سیاست میں متحرک نظر آئے۔ لیکن جعلی ترقی پسندوں کو بائیں بازو کی سیاست میں متحرک دیکھ کر پھر سے گوشہ نشیں ہو گئے۔ دوستوں کی محفل میں بھی وہی کم گوئی ان کا شکار تھی۔ کبھی کبھار کسی اچھے فقرے پہ مسکرا دیتے اور پھر سے سگار پینے میں مصروف ہو جاتے۔ اپنے سگار کو خصوصی دلچسپی سے تیار کرتے۔ اس دوران ان کا انہماک بہت اچھا لگتا تھا۔ سہیل احمد خان کو کتاب، سگار، تدریس اور تخلیق سے عشق تھا۔ ایک زمانے میں وہ فلم بینی اور بادۂ ناب کا شغف بھی رکھتے تھے مگر آخری دو شوق غالباً وہ ترک کر چکے تھے۔ جس زمانے میں ہم نے ٹی ہائوس آنا جانا شروع کیا اس وقت تک ان کی استاد امانت علی خاں سے دوستی کے چرچے ابھی باقی تھے۔ شروع شروع میں اس دوستی کے حوالے سے ہمیں گماں ہوا کہ شاید ڈاکٹر سہیل احمد خان کو کلاسیکی موسیقی سے دلچسپی ہے۔ مگر ٹی ہائوس کی میز ہو یا اورینٹل کالج کا کلاس روم انہوں نے اشارتاً بھی موسیقی کے حوالے سے کبھی گفتگو نہیں کی۔ حتیٰ کہ اس سلسلے میں ان کا کوئی تنقیدی مضمون بھی میری نظر سے نہیں گزرا۔ سہیل احمد خان اور استاد امانت علی خاں کے مابین ٹی ہائوس سے لے کر یونیورسٹی ہوسٹل تک پھیلی ہوئی یہ ملاقاتیں (سہیل صاحب اس زمانے میں ہوسٹل کے وارڈن ہوا کرتے تھے) موسیقی کے علاوہ جس قدرِ مشترک کی طرف اشارہ کرتی ہیں وہ بادۂ ناب کے علاوہ اور کیا ہو سکتی ہے؟
بے نظیر بھٹو نے وزیراعظم بنتے ہی طلبہ یونین سے پابندی ہٹا کر تعلیمی اداروں میں الیکشن کا اعلان کیا تو پی ایس ایف نے شعبہ اردو کی صدارت کے لیے مجھے بھی الیکشن میں اُتارا۔ اس دوران ڈاکٹر سہیل احمد خان مجھے بتائے بغیر اپنے قریبی طلبہ و طالبات کو میری حمایت کرنے کی ہدایت کرتے رہے اور بالآخر میں نے وہ الیکشن جیت بھی لیا۔ ایم اے کے دوسرے سال تحقیقی مقالہ لکھنے کا مرحلہ آیا تو میں نے نامور غزل گو شاعر اقبال ساجد کے حوالے سے مقالہ لکھنے کا فیصلہ کیا اور ڈاکٹر سہیل احمد خان سے نگران مقالہ بننے کی درخواست کی جو انہوں نے قبول کر لی۔ مقالہ مکمل ہوا تو انہوں نے جنگ فورم میں گفتگو کے دوران کہا کہ ’’نہ صرف پاکستان کی کسی بھی یونیورسٹی میں اقبال ساجد کی شاعری پر قلمبند ہونے والا یہ پہلا تحقیقی مقالہ ہے بل کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران شعبۂ اردو میں ایسا عمدہ مقالہ سامنے نہیں آیا۔‘‘ اس کے بعد میں نے ’’اثاثہ‘‘ اور ’’کلیات اقبال ساجد‘‘ بھی انہی کی راہنمائی میں شائع کیں۔ بحیثیت لیکچرار میری پہلی پوسٹنگ جہلم میں ہوئی تو میں خاصا رنجیدہ تھا۔ لاہور چھوڑنے سے پہلے میں رُخصت لینے کے لیے ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ان دنوں میں روزنامہ ’’جنگ‘‘ لاہور سے وابستہ تھا۔ انہوں نے مجھے مشورہ دیا کہ میں تدریس کی بجائے میڈیا سے وابستہ رہنے کو ترجیح دوں۔ جب میں نے تدریس کو پیشہ بنانے پر اصرار کیا تو انہوں نے اس شرط کے ساتھ مجھے جہلم جانے کی اجازت دے دی کہ میں کم از کم پانچ برس تک وہاں سے ٹرانسفر نہیں کرائوں گا۔ اس دوران میں جہلم میں رہ کر صرف لکھوں پڑھوں گا۔ چنانچہ میں نے ڈاکٹر صاحب کے ساتھ کیے گئے وعدے کے مطابق پانچ سال تک ڈٹ کر مطالعہ کیا جس نے آنے والے دنوں میں میرے لیے ایک اچھا استاد بننے کی راہ ہموار کی۔
جہلم سے لاہور واپس آیا تو ڈاکٹر صاحب شعبہ اردو کے چیئرمین بن چکے تھے اور یہ خوش خبری مجھے اُستاد مکرم ڈاکٹر عبید اللہ خان صاحب نے سنائی تھی۔ میں مبارک باد دینے کے لیے حاضر ہوا تو پوچھا کیا کر رہے ہو؟ میں نے عرض کیا ’’تدریس اور شاعری کر رہا ہوں۔‘‘ کہنے لگے ’’پی ایچ ڈی کی تیاری کرو اور کوئی اچھا سا موضوع لے کر آئو‘‘۔ کچھ روز کے بعد میں ایک موضوع (بیرونِ برصغیر اردو) لے کر حاضر ہوا۔ میرا موضوع دیکھ کر ہلکا سا مسکرائے اور بولے ’’تم سارے کام مرنے والے ہی کیوں کرتے ہو؟‘‘ (یہ اشارہ تھا میرے جمعیت کے خلاف الیکشن لڑنے اور مجھ پر ہونے والے قاتلانہ حملہ کی طرف) پھر بولے ’’یہ بہت مشکل کام ہے۔ تم صرف برطانیہ میں اردو کے حوالے سے تحقیقی کام کر لو تو یہ بھی بہت ہے۔‘‘ میں نے کاغذات ان کے ہاتھ سے لیے اور موضوع کو بدل کر نئی شکل دے دی یعنی ’’اردو ادب یورپ اور امریکہ میں‘‘ بدلا ہوا موضوع دیکھ کر مسکرائے اور کہا’’تمہیں مرنے کا شوق ہے تو ٹھیک ہے‘‘ ایم اے او کالج کے صدر شعبہ اردو (پروفیسر محمد عارف) کو جب میری پی ایچ ڈی کی تیاریوں کے بارے میں علم ہوا تو انہوں نے کہا کہ میں ڈاکٹر سہیل احمد خان سے ان کے تحقیقی مقالے کے لیے بھی سفارش کروں۔ میں انہیں بھی ساتھ لے گیا (یاد رہے کہ ان دنوں یونیورسٹی ہر کس و ناکس کو تھیسز الاٹ نہیں کرتی تھی) حیرت انگیز طور پر ڈاکٹر صاحب نے میری یہ درخواست قبول کر لی اور انہیں موضوع دے دیا (اردو ناول میں آزادی کے تصورات)۔ یہ الگ بات ہے کہ میرے صدر شعبہ جس روز ڈگری ملنے کی خوشی میں دوستوں کو پارٹی دے رہے تھے مجھے اس پارٹی میں مدعو نہیں کیا گیا تھا۔ میں نے ڈاکٹر موصوف کی زیرنگرانی دو تحقیقی مقالے لکھے۔ اس پورے عرصے میں انہوں نے نہ تو کبھی کسی مواد کی نشان دہی کی، نہ کسی کتاب کا حوالہ دیا اور نہ ہی میرے کام میں کسی قسم کی مداخلت کی۔ انہوں نے مجھے ایک ایسی آزادی فراہم کی جس نے تنقید کی دنیا میں مجھے اپنا نقطۂ نظر پیش کرنے کے لیے بنیاد فراہم کی۔ ایم اے کے مقالے میں انہوں نے مجھے صرف ایک ہدایت دی کہ ’’جدید شعرا‘‘ کی فہرست میں محبوب خزاں کا نام شامل کر دو اور پی ایچ ڈی کے مقالے میں واحد ہدایت ایک باب میں پس منظری مطالعے میں اختصار سے متعلق تھی۔ گویا وہ خاموش رہ کر اپنے شاگردوں کو آزادی سے لطف اندوز ہونے کا موقعہ فراہم کرتے تھے۔
مجھے تھیسز الاٹ ہوا تو اس وقت وہ اورینٹل کالج میں تھے۔ بعد ازاں وہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، لاہور سے وابستہ ہو گئے۔ میں نے باقی کام ان کے سامنے وہیں پیش کیا۔ اس دوران کام مکمل کرنے کے بعد جب میں اپنے تحقیقی مقالے کا پیش لفظ دکھانے حاضر ہوا تو انہوں نے میری تحریر کو غور سے پڑھا (جس میں میں نے ایک بڑے ادبی ادارے کے سربراہ کے عدم تعاون کی شکایت کی تھی) اور بولے ’’صرف تھیسز ہی لکھنا تھا یا ڈگری لینے کا بھی ارادہ ہے؟‘‘ میں نے عرض کیا کہ ’’تھیسز ڈگری کے حصول کے لیے ہی لکھا ہے‘‘ کہنے لگے ’’ایسے طاقتور لوگوں کو ناراض کرو گے تو تمہیں ہزار رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جب کہ میں تمہیں ڈاکٹر بنتے دیکھنا چاہتا ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر سارا قصہ کاٹ دیا۔ اس سے پہلے پیش آنے والے دو واقعات بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوں گے۔
موضوع کی منظوری کے لیے منعقدہ بورڈ آف سٹڈیز کے اجلاس سے اگلے روز میں ڈاکٹر صاحب سے ملنے کے لیے حاضر ہوا تو خلافِ معمول وہ بہت خوش نظر آ رہے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی بولے ’’کل تمہاری وجہ سے بورڈ آف سٹڈیز کے اجلاس میں میری بڑی عزت افزائی ہوئی۔‘‘ وی سی جو ایک جنرل صاحب تھے تحقیق کے گھسے پٹے موضوعات کے باعث سبھی شعبوں کے صدور پر برس رہے تھے۔ ایسے میں جب انہوں نے ڈاکٹر سہیل احمد خان کی زیر نگرانی ہونے والا موضوع ’’اُردو ادب یورپ اور امریکہ میں‘‘ دیکھا تو نہال ہو گئے۔ سائناپسز کو لہراتے ہوئے وی سی صاحب نے کہا ’’ایسے موضوعات پر کام کروانے کی ضرورت ہے جن پر ڈاکٹر سہیل احمد خان کروا رہے ہیں۔‘‘میں نے ڈاکٹر صاحب کو کبھی اتنا خوش نہیں دیکھا تھا جتنا وہ اس روز نظر آ رہے تھے۔ اس زمانے میں سائناپسز کے حوالے سے بھی دو ماہرین کی رپورٹس لازمی سمجھی جاتی تھیں۔ ایک نام انہوں نے ڈاکٹر فاخر حسین کا تجویز کیا اور دوسرے کے لیے مجھ سے رائے مانگی تو میں نے ڈاکٹر سلطان محمود حسین کا نام دے دیا۔ یہ نام تجویز کرنے کی دو وجوہ تھیں۔ ایک تو ان کی گارساں دتاسی کے خطبات پر پی ایچ ڈی تھی اور دوسری اور اصل وجہ ان کا میری مادرِ علمی (گورنمنٹ گریجویٹ کالج شیخوپورہ) سے وابستگی تھی۔ بورڈ آف سٹڈیز کے اجلاس میں دو دن رہ گئے تو ڈاکٹر صاحب نے مجھے طلب کیا اور بولے ’’تمہارے پسندیدہ شخص نے ابھی تک رپورٹ نہیں بھیجی۔ اب بہتر ہے کہ خود جائو اور ان سے رپورٹ لے کر آئو تاکہ دو روز بعد ہونے والے بورڈ آف سٹڈیز کے اجلاس میں پیش کی جا سکے۔‘‘ یہ گرمی کی چھٹیوں کے ایام تھے۔ شدید گرمی کے موسم میں میں ڈاکٹر سلطان محمود حسین کے دولت کدے پر پہنچا تو وہ سخت گرمی میں بیٹھے لاہور بورڈ کے پرچہ جات مارک کر رہے تھے۔ مجھے دیکھ کر انہوں نے کسی قسم کی گرم جوشی کا اظہار نہ کیا اور پانی تک پوچھنے کی زحمت گوارا نہ کی۔ جب میں نے اپنے حاضر ہونے کا مقصد بیان کیا تو موصوف عجیب و غریب اور اجنبی لہجے میں بولے کہ رپورٹ تو وہ پیپرز کی مارکنگ کے بعد ہی لکھیں گے۔ یہ کہہ کر وہ پھر سے پیپرز میں کھو گئے۔ میں اُٹھ کھڑا ہوا اور عرض کیا کہ مارکنگ کے بعد بھی وہ یہ زحمت گوارا نہ فرمائیں۔ لاہور پہنچ کر سارا قصہ ڈاکٹر سہیل احمد خان کے گوش گزار کیا۔ انہوں نے اگلے ہی روز ایک نئے دوست کا تقرر کیا اور اسی روز رپورٹ بھی تیار ہو گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے انہوں نے بورڈ آف سٹڈیز کے لیے تمام تیاریاں مکمل کر لیں اور یوں میرے تھیسز لکھنے کا آغاز ہوا۔
الیکشن کے بعد مجھ پر قاتلانہ حملہ ہوا تو وہ بہت رنجیدہ تھے۔ میں ایم اے کے تھیسز کا پہلا باب لے کر ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا تو طلبہ تنظیم نے فائرنگ کر دی۔ اس واقعے کے بعد ان کی فکرمندی میں اضافہ ہو گیا۔ اس کے بعد میں جب بھی ملنے جاتا مجھے اپنے کمرۂ خاص میں بٹھاتے۔ ان تمام اقدامات کے پیچھے میرے تحفظ کی خواہش ہوتی تھی۔ ان دنوں وہ شعبہ تالیف و ترجمہ میں بیٹھتے تھے۔ یہ جگہ ہر لمحہ بڑے بڑے لوگوں کے وجود کی رونق سے چھلکتی رہتی۔ کبھی کبھار زندگی سے بھرپور قہقہوں کی آوازیں بھی سنائی دیتیں جیسے مٹھی بھر کھنکتے ہوئے سکے فرش پر گر رہے ہوں۔ مگر ایسے لمحے بہت کم ہوتے تھے۔ طلبہ و طالبات اس طلسمی کمرے کو حیرت، محبت اور حسرت سے دیکھتے ہوئے گزر جاتے۔ طلبہ پر تو کبھی کبھی یہ بابِ طلسم کھل جاتا مگر طالبات کے لیے یہاں ہمیشہ ’’نو انٹری‘‘ کا بورڈ آویزاں نظر آیا۔ ان کے رویے کی سرد مہری کے سامنے بڑی بڑی بہادر لڑکیوں کا حوصلہ لہو کی شاخ سے جھڑ جاتا۔ وہ اپنے تدریسی کیریئر میں مقدور بھر عورت سے دور رہے۔ مگر افسوس عمر کے آخری حصے میں وہ اپنی اس مضبوط روایت کو برقرار نہ رکھ سکے۔
ڈاکٹر صاحب ادبی منظرنامے پر گہری نظر رکھتے تھے۔ جب کہیں میری کوئی تحریر نظر آتی تو اسے ضرور پڑھتے اور ملاقات ہونے پر تعریف کرتے۔ اگرچہ ادبی تقریبات میں بہت کم شریک ہوتے مگر میں نے جب جب درخواست کی وہ ضرور تشریف لائے۔ آخری بار وہ اس تقریب میں تشریف لائے جسے لاہور آرٹس کونسل نے اس فقیر کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری ملنے کے موقعہ پر منعقد کیا تھا۔ اس تقریب میں لاہور کے بڑے بڑے اہل قلم شریک تھے۔ ڈاکٹر صاحب سٹیج پر تشریف لائے اور بولے ’’اگرچہ میں ادبی تقریبات میں شریک ہونا ترک کر چکا ہوں مگر جواز جعفری کے بلانے پر اس لیے بھی آیا ہوں کہ بیٹیاں جب بیاہ دی جائیں تو ان کے ازدواجی معاملات پر نظر رکھنا پڑتی ہے اور ان کے پیچھے بھی آنا پڑتا ہے۔ ان کی اس منطق پر تقریب میں شریک لوگ مسکرا دیے۔ شادی کے بعد میں پہلی بار بیوی سمیت ٹی ہائوس گیا تو اپنی مخصوص نشست پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ہمیں دیکھ کر چہرے پر خوشی چھا گئی۔ ہمیں چائے پلائی۔ رُخصت ہوتے وقت میری بیگم کو کچھ پیسے دیے اور ہنس کر بولے ’’تم ہمیشہ مرنے والے فیصلے کرتے ہو مگر شادی والا فیصلہ تم نے بہت عمدہ کیا ہے۔‘‘
مرنے سے کچھ عرصہ پہلے نیب کے پنجاب چیپٹر کی طرف سے منعقدہ ایک تقریری مقابلے میں میری ان سے ملاقات ہوئی۔ ان کے ساتھ دو سٹوڈنٹ بھی تھے۔ میرے پوچھنے پر بتایا کہ وہ طلبہ کے ساتھ آئے ہیں۔ جی سی یونیورسٹی کے اس حسن سلوک پر مجھے دلی صدمہ ہوا کہ وہ اتنے بڑے آدمی سے کیا کام لے رہی ہے؟ جب انہوں نے میری اس تقریب میں موجودگی کے حوالے سے استفسار کیا تو میں نے ڈرتے ڈرتے بتایا کہ مجھے نیب نے بحیثیت منصف دعوت دی ہے تو ان کے چہرے پر کئی رنگ آئے اور چلے گئے۔ میں نے اپنے عظیم اُستاد کے اس درد کو محسوس کیا اور ایک جنرل صاحب سے درخواست کی کہ میری جگہ میرے اُستاد مکرم کو سٹیج پر بٹھایا جائے مگر فوجی افسران اپنے طے شدہ پروگرام میں کسی قسم کے رد و بدل کے لیے تیار نہ تھے۔ میں نے عرض کیا کہ اگر میرے استاد سٹیج پر نہیں بیٹھ سکتے تو بطور منصف میری معذرت قبول کی جائے۔ اس پر فوجی افسران نے کہا کہ یہ بھی ممکن نہیں اور اس کے ساتھ ہی سٹیج سے میرا نام پکارا گیا تو مجبوراً میں شرمسار سا جج کی کرسی پر جا بیٹھا۔ میں نے کن اکھیوں سے دیکھا میرے اُستاد میرے سامنے اگلی رو پر تشریف فرما تھے اور کافی اَن ایزی محسوس کر رہے تھے۔ تقریریں شروع ہو چکی تھیں اور ہم لوگ ساتھ ساتھ نتائج ترتیب دے رہے تھے۔ کچھ دیر بعد میں نے اچانک ان کی طرف دیکھا۔ ان کی نشست خالی پڑی تھی اور وہ تقریب ادھوری چھوڑ کر جا چکے تھے۔



