خیبر پختونخوا کو اب انتشار نہیں، خدمت چاہیے: مریم نواز

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق بحث پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کی موجودہ صورتحال 13 سالہ نااہلی کا نتیجہ ہے، خیبر پختونخوا کو اب انتشار نہیں بلکہ خدمت کی ضرورت ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں مریم نواز نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کو گزشتہ 13 برس کے دوران دھرنے، انتشار، گالم گلوچ اور سستے ٹرینڈز کے سوا کچھ نہیں ملا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر آج خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی باتیں ہو رہی ہیں تو اس کا ذمہ دار عوام نہیں بلکہ 13 سالہ نااہلی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے پنجاب اور خیبر پختونخوا کی صورتحال کا موازنہ کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ دونوں صوبے ایک ہی ملک، آئین اور قومی خزانے کے حصے دار ہیں تو پھر ایک صوبے میں ترقی کا سفر جاری اور دوسرے میں تنزلی اور بدامنی کیوں ہے؟ ان کے مطابق فرق وسائل کا نہیں بلکہ نیت اور اہلیت کا ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ اگر پنجاب میں صفائی کا نظام بہتر بنایا جا سکتا ہے تو خیبر پختونخوا میں ایسا کیوں نہیں ہوسکتا؟ ان کے بقول وہاں صفائی کے بجائے سیاست کو ترجیح دی گئی۔ اسی طرح پنجاب کے ہونہار طلبہ کو اسکالرشپس فراہم کی جا سکتی ہیں تو خیبر پختونخوا کے بچوں کو یہ سہولت کیوں نہیں ملتی؟ ان کا کہنا تھا کہ وہاں بچوں کے بجائے دھرنوں کو ترجیح دی گئی۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے امن و امان کی صورتحال پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر پنجاب کی مائیں اپنے بچوں کے حوالے سے مطمئن ہیں تو خیبر پختونخوا کی مائیں خوف میں کیوں مبتلا ہیں؟ ان کے مطابق صوبے میں عوام کے تحفظ کے بجائے اسلام آباد پر چڑھائی کو زیادہ اہمیت دی گئی۔
انہوں نے ترقیاتی منصوبوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں گرین الیکٹرو بسیں چلائی جا سکتی ہیں تو خیبر پختونخوا میں ایسا کیوں نہیں ہوا؟ ان کا کہنا تھا کہ وہاں منصوبے عملی طور پر زمین پر نظر آنے کے بجائے صرف سوشل میڈیا تک محدود رہے۔
مریم نواز نے سڑکوں کی تعمیر اور دیہی علاقوں کی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر پنجاب کے دیہات تک پختہ سڑکیں پہنچائی جا سکتی ہیں تو خیبر پختونخوا میں سڑکوں کے منصوبے نامکمل کیوں ہیں؟ ان کے مطابق وہاں وعدے کیے گئے لیکن عملی کام نہیں ہوا۔
صحت کے شعبے سے متعلق وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ پنجاب میں مفت ادویات، فیلڈ اسپتالوں اور کلینک آن ویلز جیسی سہولتیں عوام کی دہلیز تک پہنچائی جا رہی ہیں، لیکن خیبر پختونخوا کے مریضوں کو مشکلات کا سامنا کیوں ہے؟ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وہاں عوام کی صحت کے مقابلے میں اقتدار کو زیادہ اہمیت دی گئی۔
اپنے بیان کے اختتام پر مریم نواز نے کہا کہ ان تمام سوالات کا جواب 13 سالہ انتشار اور نااہلی ہے۔ ان کے بقول پنجاب نے ثابت کیا ہے کہ حکومتیں بلند و بانگ دعوؤں سے نہیں بلکہ مسلسل عملی کام سے چلتی ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے زور دیا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کو اب سیاسی انتشار کے بجائے عوامی خدمت، ترقیاتی منصوبوں، بہتر سہولتوں اور امن و امان کی ضرورت ہے۔



