latest newsWorld

معاشیات کا نوبیل انعام 2026: دو امریکی ماہرین رابرٹ ہال اور مائیکل ووڈ فورڈ کے نام

اسٹاک ہوم: سال 2026 کا معاشیات کا نوبیل انعام دو امریکی ماہرینِ معاشیات رابرٹ ای ہال اور مائیکل ووڈ فورڈ کو دینے کا اعلان کردیا گیا ہے۔ دونوں ماہرین کو معاشی استحکام کے لیے میکرو اکنامکس کی مائیکرو اکنامک بنیادوں پر تحقیق کے اعتراف میں اس اعزاز سے نوازا گیا ہے۔

رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کی جانب سے 12 اکتوبر کو اعلان کیا گیا کہ دونوں ماہرین کی تحقیق نے حکومتوں اور مرکزی بینکوں کو معاشی اتار چڑھاؤ سے نمٹنے اور مؤثر معاشی پالیسیاں تشکیل دینے کے لیے مضبوط نظریاتی بنیاد فراہم کی ہے۔

نوبیل کمیٹی کے مطابق رابرٹ ہال اور مائیکل ووڈ فورڈ نے ایسے معاشی ماڈلز کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا جن کی مدد سے کساد بازاری، افراطِ زر، توانائی کے بحران اور معیشت میں اچانک پیدا ہونے والی تبدیلیوں کے اثرات کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

رابرٹ ای ہال کا تعلق امریکا کی اسٹینفورڈ یونیورسٹی سے ہے، جبکہ مائیکل ووڈ فورڈ کولمبیا یونیورسٹی نیویارک میں تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ دونوں ماہرین نے اپنی تحقیق میں اس بات پر توجہ دی کہ انفرادی گھرانوں اور کاروباری اداروں کے فیصلے مجموعی معیشت پر کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔

ان کی تحقیق کے مطابق معیشت کا جائزہ لیتے وقت صرف افراطِ زر، پیداوار اور کھپت جیسے مجموعی اشاریوں کو دیکھنا کافی نہیں، بلکہ یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ صارفین، گھرانے اور کاروباری ادارے مستقبل کی توقعات کے مطابق اخراجات، بچت، سرمایہ کاری اور قیمتوں سے متعلق فیصلے کیسے کرتے ہیں۔

معاشی استحکام کے حوالے سے ان دونوں ماہرین کا کام اس لیے اہم ہے کہ حکومتوں اور مرکزی بینکوں کی پالیسیوں کے بارے میں واضح اعلانات عوام اور کاروباری اداروں کی مستقبل سے متعلق توقعات پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ان توقعات میں تبدیلی کے نتیجے میں اخراجات، سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں میں بھی تبدیلی آسکتی ہے۔

نوبیل کمیٹی کے مطابق ماضی میں رائج بعض معاشی ماڈلز، خصوصاً 1970 کی دہائی کے تیل کے بحرانوں کے دوران، معاشی مسائل سے نمٹنے میں مطلوبہ نتائج فراہم نہیں کرسکے تھے۔ ان حالات میں معاشی استحکام کی پالیسیوں کے لیے ایسے نئے نظریاتی طریقوں کی ضرورت محسوس ہوئی جو انفرادی معاشی فیصلوں اور مجموعی اقتصادی صورتحال کے درمیان تعلق کو واضح کرسکیں۔

رابرٹ ہال اور مائیکل ووڈ فورڈ کی تحقیق نے اسی ضرورت کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے تیار کردہ نظریاتی ماڈلز کی بنیاد پر حکومتیں اور مرکزی بینک مناسب وقت پر مالیاتی اور مانیٹری اقدامات کرکے معاشی بحرانوں کی شدت کم کرنے اور معیشت میں توازن برقرار رکھنے کی بہتر کوشش کرسکتے ہیں۔

معاشیات کے اس انعام کے ساتھ مجموعی طور پر 12 ملین سویڈش کرونا کی رقم دی جائے گی، جو دونوں انعام یافتگان میں برابر تقسیم ہوگی۔ یہ رقم تقریباً 12 لاکھ امریکی ڈالر کے مساوی ہے۔

واضح رہے کہ معاشیات کا یہ اعزاز باضابطہ طور پر ’’سویڈش مرکزی بینک کا الفریڈ نوبیل کی یاد میں معاشی علوم کا انعام‘‘ کہلاتا ہے۔ سویڈن کے مرکزی بینک نے اسے 1968 میں قائم کیا تھا اور پہلی مرتبہ یہ انعام 1969 میں دیا گیا۔ یہ الفریڈ نوبیل کی وصیت میں شامل اصل پانچ انعامات کا حصہ نہیں، تاہم اسے دیگر نوبیل انعامات کے ساتھ ہی شمار کیا جاتا ہے۔

رواں سال معاشیات کے انعام کے اعلان کے ساتھ 2026 کے نوبیل انعامات کے اعلانات کا سلسلہ مکمل ہوگیا۔ طب، فزکس، کیمسٹری، ادب اور امن کے انعامات کے اعلانات بھی اسی ہفتے کیے گئے تھے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button