گورنر راج اور ایمرجنسی کسی صورت قبول نہیں، مولانا فضل الرحمان

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام مذاکرات کے دوران کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جے یو آئی آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر محاذ پر جدوجہد کرے گی۔
اتوار کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ان کی جماعت خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے فیصلے کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام جمہوریت اور عوامی حقوق کے خلاف ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان مذاکرات کے دوران لانگ مارچ ختم کرنے کے لیے بات چیت ہوئی تھی۔ ان کے بقول بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور ان کے علاج سے متعلق یقین دہانی کرائی گئی، جس کے بعد لانگ مارچ ختم کرنے کی گنجائش پیدا ہوئی، تاہم بعد میں وفاقی کابینہ نے ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے ذریعے سیاسی کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی گئی تھی، لیکن حکومتی فیصلے سے اعتماد کو نقصان پہنچا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔
جے یو آئی کے سربراہ نے سوال اٹھایا کہ اگر خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی صورتحال ایمرجنسی کے نفاذ کا جواز ہے تو بلوچستان میں ایسے اقدامات کیوں نہیں کیے جاتے؟ انہوں نے کہا کہ ماضی میں دہشت گردی کے خلاف متعدد آپریشن کیے گئے، تاہم مسئلہ مکمل طور پر حل نہیں ہوسکا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ عام شہری بھی قربانیاں دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق امن و امان کی بہتری کے لیے ایسی حکمت عملی اپنانا ضروری ہے جس میں آئین، جمہوریت اور عوامی حقوق کا تحفظ بھی یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ جے یو آئی اس معاملے کو عوام کے سامنے لائے گی، پارلیمان میں اپنا کردار ادا کرے گی اور عدالتوں سے بھی رجوع کرے گی۔
واضح رہے کہ فراہم کردہ معلومات کے مطابق وفاقی کابینہ کی منظوری اور وزیراعظم کی ایڈوائس کے بعد صدر مملکت آصف علی زرداری نے 11 اکتوبر 2026 کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی منظوری دی تھی۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق ایمرجنسی آئین کے آرٹیکل 232 اور گورنر راج آرٹیکل 234 کے تحت نافذ کیا گیا۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے مطابق صوبے کے معاملات چلانے کے لیے گورنر کے تحت 11 رکنی مشاورتی کونسل قائم کی گئی ہے، جبکہ 12 اضلاع کے انتظامی امور کے لیے گورنر اور چیف سیکریٹری کے تحت الگ انتظامی سیکریٹریٹ بھی قائم کیا گیا ہے۔ حکومت نے اس فیصلے کی وجہ صوبے میں دہشت گردی کے واقعات اور امن و امان کی صورتحال کو قرار دیا ہے۔



