لائبہ خودکشی کیس: مرکزی ملزم نعمان گرفتار

اسلام آباد پولیس نے طالبہ لائبہ اعجاز کی مبینہ خودکشی کے کیس میں مرکزی ملزم نعمان کو گرفتار کرلیا ہے، جبکہ مقدمے کی ایف آئی آر سیل کردی گئی ہے۔ مقدمے میں ایک خاتون سمیت دو ملزمان نامزد ہیں۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کی گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ اعجاز نے اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکا جانے کی غرض سے مبینہ طور پر ایجنٹ نعمان کو زیورات اور پلاٹ فروخت کرکے 70 لاکھ روپے دیے تھے۔
متاثرہ خاندان کے مطابق امریکی یونیورسٹی میں داخلے سے متعلق ملزم کی فراہم کردہ دستاویزات مبینہ طور پر جعلی نکلیں۔ اس کے بعد لائبہ نے اپنے ماموں کے نام آخری خط میں فراڈ کا ذکر کیا اور درخواست کی کہ ان کے والد کو اس بارے میں نہ بتایا جائے، کیونکہ وہ یہ صدمہ برداشت نہیں کر سکیں گے۔
ذرائع کے مطابق ملزم نعمان اس سے قبل بھی متعدد افراد سے مبینہ فراڈ کرچکا ہے۔ تاہم مقدمے میں نامزد افراد کے خلاف الزامات کی حتمی حیثیت کا تعین تفتیش اور عدالتی کارروائی کے بعد ہوگا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی اسلام آباد اور چیف کمشنر کو ملزم کی فوری گرفتاری اور قانون کے مطابق کارروائی کی ہدایت کی تھی۔
اس سے قبل وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے بھی معاملے کا نوٹس لیا تھا۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے اسلام آباد شہزاد بخاری نے لائبہ کے لواحقین سے ملاقات کرکے ان کی تحریری درخواست وصول کی تھی۔
شہزاد بخاری کے مطابق مبینہ فراڈ کرنے والے شخص نے خود کو اعلیٰ عدلیہ کا اکاؤنٹنٹ ظاہر کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ معاملے میں ملوث افراد کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے تحت کارروائی کی جائے گی اور کیس کو ٹیسٹ کیس بنایا جائے گا۔



