latest newsPakistan

لاہور ہائیکورٹ میں مقدمات کی سماعت اور فیصلے

رپورٹ: مبشرحسن

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم کی پالیسز پر عمل درآمد، 6 ماہ کے قلیل عرصہ میں پنجاب کی ضلعی عدالتوں میں پاکستان آرمز آرڈیننس 1965 کے تحت2023 تک کے زیر التواء 3ہزار397 مقدمات میں سے 2ہزار934 مقدمات (86 فیصد)کے فیصلے کر دیئے گئے ہیں، 17 اضلاع میں 2023 تک کے تمام مقدمات کے فیصلے کر دیئے گئے جبکہ باقی اضلاع میں زیر التواء463 مقدمات میں سے بڑی تعداد زیر التواء مرڈر ٹرائلز کے ساتھ منسلک ہے،چیف جسٹس نے مزید ہدایات جاری کی ہیں کہ زیر التواء مقدمات کے ساتھ منسلک مرڈر ٹرائلز کو جلد از جلد مکمل کیا جائے ،وکلا کا کہنا ہے کہ یہ سنگِ میل چیف جسٹس کی جاری خصوصی ہدایات پر جدید عدالتی اصلاحات، موثر کیس مینجمنٹ سسٹم، فعال نگرانی اور شفافیت پر مبنی حکمت عملی کی بدولت عبور کیا گیا ہے، عدالتی نظام کی ڈیجیٹلائزیشن سے ناصرف زیر التواء مقدمات کی تعداد میں خاطر خواہ کمی آرہی ہے جس سے سائلین کا نظامِ عدل پر اعتماد بھی مزید مستحکم ہوا ہے۔

لاہور ہائیکورٹ،6جعلی رجسٹریاں کیس میں جھنگ کے رجسٹری محرر کی درخواست ضمانت سماعت کیلئے مقرر،چیف جسٹس تاج محمد کی درخواست پر 12 اکتوبر کو سماعت کریں گی،عدالت نے ڈی جی اینٹی کرپشن کو تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے رکھا ہے ۔

لاہور ہائیکورٹ کےجسٹس جواد حسن نے جنگل سے درختوں کی کٹائی اور حفاظت بارے درخواست پر فیصلہ جاری کردیا،عدالت نے حکم دیا کہ محکمہ جنگلات جنگل کی زمین پر تجاوزات کے خلاف فوری قانون کے مطابق کارروائی کرے ،محکمہ جنگلات کو درختوں اور نئے پودوں کو بلا تعطل پانی کی فراہمی یقینی بنائے،محکمہ جنگلات جنگل میں گشت کرنے ،جنگل میں پودوں کی نگرانی یقینی بنائے ،درختوں کی کٹائی اور آگ لگانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے ،موسمیاتی تبدیلی کوئی مستقبل کا خطرہ نہیں بلکہ ایک موجودہ حقیقت ہے ،ہمیں آنے والی نسلوں کو موسمیاتی تبدیلیوں کے غضب سے بچانا ہے ،عدالت آنے والی نسلوں کے لیے موسمیاتی تبدیلیاں کم کرنے میں اپنا کردار ادا کرتی ہے ،جنگلات عوام اور ریاست کا اہم ورثہ ہیں ،ماحولیاتی تحفظ آئین کے آرٹیکل 9 اور 14 بنیادی حق دیتا ہے ،محکمہ جنگلات نے بتایا کہ وزیر اعلی پنجاب شجر کاری مہم میں 46 ہزار تحت پری جنگل میں درخت لگائے ۔

لاہور ہائیکورٹ کےجسٹس غلام سرور نہنگ نےپنجاب فوڈ اتھارٹی کی درخواست پرفیصلہ سناتے ہوئے آئل مل ڈی سیل کرنے کا مجسٹریٹ کا حکم کالعدم قراردیدیا،عدالت نے قرار ردیا کہ مجسٹریٹ کو پنجاب فوڈ اتھارٹی کا ایمرجنسی پابندی کا حکم منسوخ کرنے اختیار نہیں ، مجسٹریٹ کو آئل مل ڈی سیل کرنے کا اختیار نہیں، غیر معیاری یا مضر صحت تیل کے باعث آئل مل پر عائد پابندی برقرار رہے گی، فوڈ بزنس کو ڈی سیل کرنے کا قانونی اختیار ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی کے پاس ہے، ایمرجنسی پابندی کے خلاف ریلیف کے لیے متاثرہ فریق پنجاب فوڈ اتھارٹی سے رجوع کرے، فوڈ اتھارٹی کے انتظامی احکامات منسوخ کرنا مجسٹریٹ کے دائرہ اختیار میں نہیں، فوجداری مقدمے کا ٹرائل الگ معاملہ ہے، ریگولیٹری احکامات کالعدم کرنا مجسٹریٹ کا اختیار نہیں، مالی مشکلات یا سختیاں قانون سے ہٹ کر دائرہ اختیار پیدا نہیں کر سکتیں، عدالتیں صرف قانون کے عطا کردہ اختیارات استعمال کر سکتی ہیں۔

​لاہور ہائیکورٹ کےجسٹس مزمل اختر شبیر نے سابق سی ای او ہیلتھ نارووال ڈاکٹر خالد جاوید کی درخواست منظور کرتے ہوئےریٹائرڈ سرکاری ملازمین کے حق میں فیصلہ سنا دیا ،عدالت نے ڈاکٹر خالد جاوید کی روکی گئی پنشن فوری جاری کرنے کا حکم دیدیا،عدالت نےپیڈا ایکٹ کے تحت جاری انکوائری اور پنشن روکنے کا آرڈر کالعدم قرار دے دیا،تحریری فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ ​پیڈا ایکٹ 2026ء ترمیم کا ماضی سے اطلاق نہیں ہو سکتا، ​ترمیمی قانون کا اطلاق مستقبل کے معاملات پر ہوگا، ماضی کے بند شدہ کیسز پر نہیں، ​قانون میں واضح ذکر نہ ہو تو نئی ترمیم کو ماضی سے لاگو نہیں کیا جا سکتا، ​ریٹائرمنٹ کے 2 سال بعد انکوائری ختم ہونے کا قانون برقرار ہے ، ​​2 سال کی مدت پوری ہونے پر انکوائری ختم ہونا ملازم کا قانوناً حاصل شدہ حق ہے،​ریٹائرمنٹ کے 2 سال بعد محکماتی انکوائری خود بخود ختم ہو جاتی ہے، انکوائریز وقت پر مکمل نہ ہونے کا خمیازہ ریٹائرڈ ملازم نہیں بھگت سکتا، ​پیڈا ایکٹ میں 25 فروری 2026 کی ترمیم کے باوجود پرانے کیسز ختم تصور ہوں گے۔

لاہورہائیکورٹ میں نورین نیازی اور عظمی خان کی نظر بندی کے خلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر، جسٹس عبہر گل خان سکینہ نیازی کی درخواست پر 12 اکتوبر کو سماعت کریں گی،عدالت نے عظمی خان اور نورین نیازی کو ادویات، کپڑوں سمیت سہولیات کی فراہمی بارے رپورٹ طلب کر رکھی ہے۔

گلف اسٹریم G500 طیارے کے استعمال پر پنجاب حکومت کو 13 واں قانونی نوٹس ارسال کر دیا گیا، اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے موقف اپنایا کہ اقوام متحدہ کی سفری اخراجات کی پیشکش کے باوجود سرکاری طیارہ کیوں استعمال کیا گیا؟مسقط روانگی سے قبل طیارے کے استعمال کی قانونی منظوری لی گئی،گلف اسٹریم G500 طیارے کے مسقط دوطرفہ سفر کی مکمل لاگت کا ریکارڈ فراہم کیا جائے،سرکاری طیارے کی خریداری، ملکیت اور درآمدی دستاویزات فراہم کی جائیں،طیارے کی خریداری قیمت، فنڈز کے ذرائع اور ٹیکس چھوٹ کی تفصیلات فراہم کی جائیں،طیارے کی امریکی رجسٹریشن N144S سے پاکستانی رجسٹریشن AP-CMP تک منتقلی کا ریکارڈ فراہم کیا جائے،فیول بلز، فلائٹ لاگز، ہوٹل اخراجات اور عملے کے الاؤنسز کی تفصیلات فراہم کی جائیں،مریم نواز کے مسقط سفر پر مسافروں کی فہرست اور سرکاری ادائیگیوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے،غیر قانونی اخراجات ثابت ہونے پر رقم کی واپسی اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی جائے،سات روز میں مکمل ریکارڈ فراہم نہ کرنے پر لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔

جوڈیشل ایکٹوازم پینل نےپنجاب انفارمیشن کمیشن میں تقرریوں کیخلاف گورنر پنجاب اور وزیر اعلیٰ پنجاب کو قانونی نوٹس ارسال کردیا،نوٹس میں سوال کیا گیا ہے کہ تقرریوں میں میرٹ اور شفافیت کیسے یقینی بنائی گئی؟تقرری اشتہار کہاں پر دیا گیا؟پنجاب انفارمیشن کمیشن میں تقرریاں کیا میرٹ پر ہوئیں؟چیف انفارمیشن کمشنر کی تقرری کا میرٹ کا ریکارڈ سامنے کیوں نہیں لایا گیا؟آئین کے آرٹیکل 19 اے کے تحت عوام سے معلومات چھپانے کی گنجائش نہیں ہے،چیف انفارمیشن کمشنر اور انفارمیشن کمشنر کی تقرریاں واپس لی جائیں،پنجاب انفارمیشن کمیشن میں تقرریوں کا مکمل ریکارڈ فراہم کیا جائے،سات روز میں معلومات فراہم نہ کی گئیں تو لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کریں گے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button