امریکا میں اے آئی کے باعث نقل کا بحران سنگین، 95 فیصد طلبہ اسائنمنٹس چیٹ بوٹس سے لکھوانے لگے

واشنگٹن: مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے ہوئے استعمال نے امریکا کے تعلیمی اداروں میں نقل اور طلبہ کی تعلیمی صلاحیتوں کے حوالے سے نئے خدشات پیدا کردیے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، بڑی تعداد میں طلبہ اسائنمنٹس تیار کرنے کے لیے اے آئی چیٹ بوٹس پر انحصار کر رہے ہیں، جس سے اساتذہ کو طلبہ کی حقیقی سیکھنے کی صلاحیت جانچنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا میں 95 فیصد طلبہ اسائنمنٹس لکھوانے کے لیے اے آئی چیٹ بوٹس استعمال کر رہے ہیں۔ اس رجحان نے اساتذہ میں تشویش پیدا کردی ہے کہ طلبہ حقیقی علم حاصل کرنے کے بجائے یہ سمجھنے لگے ہیں کہ وہ سیکھ رہے ہیں، حالانکہ ان کی اپنی فہم و صلاحیت میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو رہا۔
ماہرین کے مطابق، اے آئی سے تیار کردہ تحریروں کو زیادہ فطری اور انسانی انداز میں پیش کرنے والے نئے پروگرامز نے اساتذہ کے لیے یہ شناخت کرنا مزید مشکل بنا دیا ہے کہ کوئی تحریر طالب علم نے خود لکھی ہے یا چیٹ بوٹ کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ اس صورت حال کو اے آئی تحریروں کی شناخت کرنے والے نظاموں اور انہیں شناخت سے بچانے والے ٹولز کے درمیان مقابلے سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب، کوپن ہیگن یونیورسٹی کے شعبہ کمپیوٹر سائنس سے منسوب ایک تحقیق میں اے آئی پر مسلسل انحصار کے انسانی علم اور سوچنے کی صلاحیت پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق کے مطابق، معلومات اور جوابات کے لیے مصنوعی ذہانت پر ضرورت سے زیادہ انحصار انسان کی اپنی سوچ، معلومات کو سمجھنے اور تنقیدی جائزہ لینے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتا ہے۔
تحقیق میں 27 مختلف بڑے لسانی ماڈلز (LLMs) یا اے آئی چیٹ بوٹس کا جائزہ لینے کا بھی ذکر کیا گیا۔ نتائج کے مطابق، بہترین کارکردگی دکھانے والے اے آئی چیٹ بوٹ کی فراہم کردہ معلومات میں گوگل سرچ انجن کے مقابلے میں 19 فیصد کم تنوع پایا گیا۔
آسان الفاظ میں، اے آئی چیٹ بوٹس بعض اوقات محدود نوعیت کے جوابات اور ملتے جلتے خیالات پیش کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں صارفین کو مختلف نقطہ ہائے نظر اور متنوع معلومات تک رسائی کم مل سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق، تعلیمی میدان میں اے آئی کا استعمال مکمل طور پر ترک کرنے کے بجائے اسے ذمہ داری سے استعمال کرنا ضروری ہے۔ طلبہ کو چاہیے کہ وہ اے آئی سے حاصل کردہ معلومات کی تصدیق کریں، اپنے الفاظ میں جوابات لکھیں اور تحقیق و تنقیدی سوچ کی صلاحیتوں کو برقرار رکھیں، جبکہ تعلیمی ادارے بھی اسائنمنٹس اور امتحانات کے ایسے طریقے اپنائیں جو طلبہ کی حقیقی سمجھ بوجھ اور تخلیقی صلاحیتوں کو جانچ سکیں۔



