پاکستان میں بزرگ افراد کی صحت اور معاشی تحفظ، اہم چیلنج
2023 کی مردم شماری کے مطابق پاکستان کی مجموعی آبادی میں 60 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کا تناسب تقریباً 5.6 فیصد ہے۔ اگرچہ پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ آج کے نوجوان بھی وقت کے ساتھ عمر رسیدہ ہوں گے، اس لیے مستقبل کی ضروریات کے لیے ابھی سے منصوبہ بندی ضروری ہے۔

ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شہزاد علی خان نے کا کہنا ہے کہ طویل عمر کا اصل معیار صرف زندگی کے سالوں کی تعداد نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ انسان کتنے عرصے تک صحت مند، خودمختار اور فعال زندگی گزارتا ہے۔
پروفیسر شہزاد علی خان کے مطابق دنیا بھر میں محققین جینیات، ایپی جینیٹکس اور ری جنریٹو میڈیسن کے ذریعے بڑھتی عمر کے حیاتیاتی عوامل کو سمجھنے اور عمر سے متعلق بیماریوں اور معذوری کی روک تھام پر کام کر رہے ہیں۔ تاہم پاکستان میں ذیابیطس، بلند فشارِ خون اور دیگر دائمی بیماریوں پر قابو پانا بنیادی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ متوازن غذا، جسمانی سرگرمی، ذہنی دباؤ پر قابو پانا اور سماجی روابط برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ لوگوں کو چالیس اور پچاس سال کی عمر ہی سے بڑھاپے کی منصوبہ بندی شروع کر دینی چاہیے، کیونکہ 60 سال کی عمر یا ریٹائرمنٹ کے بعد تیاری شروع کرنا اکثر بہت دیر ہو جاتی ہے۔
ان کے مطابق ریٹائرمنٹ کے نتیجے میں روزمرہ معمولات، شناخت، آمدنی اور سماجی روابط اچانک متاثر ہو سکتے ہیں، جس سے بزرگ افراد تنہائی، ڈپریشن اور صحت میں گراوٹ کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ریٹائرڈ ماہرین اور تجربہ کار افراد کو رضاکارانہ، مشاورتی اور اعزازی ذمہ داریاں دے کر ان کی صلاحیتوں سے معاشرے کو فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے۔
پروفیسر شہزاد علی خان نے بتایا کہ سرکاری ملازمین کو عموماً پنشن اور طبی سہولیات حاصل ہوتی ہیں، جبکہ نجی شعبے کے باقاعدہ ملازمین ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن (EOBI) کے ذریعے فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔ تاہم غیر رسمی شعبے سے وابستہ افراد اور کم آمدنی والے شہریوں کی بڑی تعداد اب بھی اس طرح کے تحفظ سے محروم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں خاندانی نظام بزرگ افراد کی دیکھ بھال میں اہم کردار ادا کرتا ہے، لیکن بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کے لیے خاندانوں کے ساتھ ساتھ قابلِ رسائی طبی سہولیات، آمدنی کے تحفظ اور کمیونٹی کی سطح پر معاون خدمات کی فراہمی بھی ضروری ہے۔
دوسری جانب معروف ماہرِ نفسیات اور جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے ڈائریکٹر آف ریسرچ پروفیسر ایمریٹس ڈاکٹر محمد اقبال آفریدی کا ماننا ہے کہ بڑھاپے میں جذباتی صحت کا انحصار بڑی حد تک سماجی روابط، عزت و احترام اور خاندان و معاشرے کی سرگرمیوں میں شرکت پر ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریٹائرمنٹ کو سماجی زندگی سے کنارہ کشی نہیں بننا چاہیے۔ بزرگ افراد کے لیے روزمرہ معمولات، میل جول، جسمانی سرگرمیاں اور یہ احساس برقرار رہنا ضروری ہے کہ وہ اب بھی معاشرے کے لیے اہم ہیں۔ طویل تنہائی اور مقصدِ زندگی کے احساس میں کمی ڈپریشن اور ذہنی صحت کے مسائل کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔
ڈاکٹر اقبال آفریدی نے خاندانوں پر زور دیا کہ وہ بزرگ افراد میں مسلسل اداسی، لوگوں سے دوری، نیند میں تبدیلی، یادداشت کے مسائل یا دلچسپی میں کمی کو بڑھاپے کا لازمی حصہ سمجھ کر نظر انداز نہ کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈپریشن بڑھاپے کا معمول کا حصہ نہیں ہے۔ اگر کوئی بزرگ مسلسل تنہائی، ناامیدی یا روزمرہ زندگی کے امور انجام دینے میں مشکلات کا شکار ہو تو خاندان کو فوری طور پر پیشہ ورانہ مدد حاصل کرنی چاہیے۔ بروقت تشخیص اور علاج سے بزرگ افراد کی زندگی کا معیار بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں بڑھتی عمر کی آبادی کے لیے مؤثر پالیسی سازی، بہتر طبی سہولیات، مالی تحفظ اور سماجی شمولیت کو یقینی بنانا ناگزیر ہے تاکہ بزرگ افراد اپنی زندگی کے آخری مراحل صحت، خودمختاری، مقصد اور وقار کے ساتھ گزار سکیں۔



