latest newsPakistan

لاہور ہائیکورٹ میں مقدمات کی سماعت اور فیصلے

رپورٹ : مبشرحسن

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس عاصم حفیظ نے جائیداد ہبہ تنازع کیس میں 8 سال بعد اپیلٹ کورٹ کا فیصلہ اور ڈگری کالعدم قرار دیتے ہوئے کیس دوبارہ اپیلٹ کورٹ کو واپس بھجوا دیا ،فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ ماتحت عدالتوں کے فیصلوں میں سنگین قانونی اور بنیادی نقائص موجود ہیں، جبکہ ہبہ نامے کی تصدیق کے لیے قانونِ شہادت کے تقاضے بھی پورے نہیں کئے گئے، ٹرائل کورٹ اور اپیلٹ کورٹ مقدمے کے بنیادی تنازع کا درست تعین کرنے میں ناکام رہیں،فیصلے میں کہا گیا کہ کسی فریق کو جرح کا حق دئیے بغیر اس کے خلاف بیان استعمال نہیں کیا جا سکتائ قانونِ شہادت کے آرٹیکل 140 کے تحت جرح کے دوران متعلقہ فریق کا سامنا کرنا ضروری ہے، جبکہ آرٹیکل 79 کے تقاضے پورے کیے بغیر ہبہ نامے کی تصدیق پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں، فیصلے میں مزید کہا گیا کہ دھوکہ دہی یا فراڈ کے ذریعے حاصل کیے گئے فیصلوں پر قانونِ شہادت کے آرٹیکل 58 کا اطلاق ہوتا ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کےجسٹس حسن نواز مخدوم اور جسٹس محمد اجمل زاہد پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ٹیکسٹائل ملز کی بلیک لسٹنگ کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے سیلز ٹیکس نمبر اور رجسٹریشن فوری بحال کرنے کی ہدایت کردی، عدالت نے ایف بی آر کی اپیل خارج کرتے ہوئے اپیلٹ ٹربیونل کا فیصلہ برقرار رکھا، عدالت نے قرار دیا کہ کسی کو سنے بغیر اس کا سیلز ٹیکس نمبر بند کرنا آئین کی سنگین خلاف ورزی ہے، محض شک یا الزام کی بنیاد پر کسی شہری یا ادارے کو بلیک لسٹ کرکے اس کا کاروبار بند نہیں کیا جا سکتا، عدالت نے فیصلے میں واضح کیا کہ ٹیکس فراڈ کا الزام ثابت کرنے کے لیے ٹھوس شواہد ضروری ہیں اور ٹیکس حکام قانون کے پابند ہیں، انہیں من مانے اقدامات کی اجازت نہیں دی جا سکتی، سیلز ٹیکس نمبر معطل ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ قانونی تقاضے پورے کیے بغیر کسی کاروبار کو بلیک لسٹ کردیا جائے، آئین ہر شہری کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کاروبار کرنے کی ضمانت دیتا ہے، جبکہ محض الزامات کی بنیاد پر کسی شہری یا ادارے کے کاروباری حقوق متاثر نہیں کیے جا سکتے،عدالت نے مزید قرار دیا کہ انصاف کے حصول کے لیے اپیلٹ ٹربیونل میں نئے قانونی نکات اٹھانا قانونی عمل ہے، ہائیکورٹ اپیل کی سماعت کے دوران قانونی نکات کا جائزہ لے سکتی ہے، تاہم حقائق کا ازسرنو جائزہ نہیں لیا جاتا۔

لاہور ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ ہم کوئی ایسا معاہدہ نہیں کریں گے جو بے اصولی پر مبنی ہو، عوام کا خون ہمارے لیے مقدم ہے اور ہم کسی ایسے لائحہ عمل کا حصہ نہیں بنیں گے جس کے نتیجے میں بے گناہوں کا خون بہے، بے گناہوں کو بے گھر نہیں ہونے دیں گے، ہر مصیبت برداشت کرنے کو تیار ہیں لیکن اصولوں سے دستبردار نہیں ہوں گے، انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے ان پر بہت سی ذمہ داریاں ہیں، وہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے مقدمات بھی دیکھ رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ پنجاب لانگ مارچ میں بھرپور شرکت کرے گا اور بڑی تعداد میں قافلے شامل ہوں گے، وہ پنجاب کو متحرک کر رہے ہیں،سلمان اکرم راجہ نے الزام عائد کیا کہ خیبر پختونخوا میں حکومت ختم ہو چکی ہے اور وہاں ڈپٹی کمشنر بھی احکامات نہیں مان رہا، گذشتہ روز پشاور میں قہر ڈھایا گیا اور پی ٹی آئی کے متعدد کارکنوں کو اغوا کیا گیا جس کی مذمت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم اس بربریت کو برداشت کریں گے کیونکہ ہم حق پر کھڑے ہیں، پورے ملک میں فسطائیت کا راج ہے، حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔

لاہور ہائیکورٹ کےجسٹس امیر عجم ملک نے 800 کلو غیر معیاری گوشت فروخت کیس میں نامزد ملزم عرفان کی ضمانت منظور کر لی، عدالت نے ملزم کو 2 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دے دیا، وکیل چوہدری نصیر کمبوہ نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم کا تعلق مزدور طبقے سے ہےاور گذشتہ ڈیڑھ ماہ سے جیل میں قید ہے جبکہ اصل ملزم موقع سے فرار ہو گیا تھا، ملزم کی ضمانت منظور کرتے ہوئے اسے رہا کرنے کا حکم دیا جائے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button