پاکستان حرمین شریفین کے تحفظ اور سعودی عرب کی سلامتی کے لیے پرعزم ہے، ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے کہا ہے کہ حرمین شریفین کے تقدس کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے اور پاکستان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، سلامتی اور تحفظ کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
اسلام آباد میں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے 2 اکتوبر کو طیبہ پاور ڈسٹری بیوشن اسٹیشن پر حملے کو سنگین اشتعال انگیزی قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سات نکات پر بات چیت جاری ہے اور امریکا نے بھی ایران کے سات نکات پر اپنا مؤقف پیش کیا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان براہ راست رابطے پاکستان کی ثالثی کوششوں کا نتیجہ ہیں۔
سجاد حیدر خان نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پہلے سے موجود ہے اور زیرِ بحث بعض نکات اس سے مطابقت رکھتے ہیں۔ پاکستان اور دیگر اہم ممالک امریکا اور ایران کے تنازع کے حل میں کردار ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان براہ راست رابطوں، تعاون اور کشیدگی میں کمی کا خواہاں ہے۔ پاکستان مذاکرات کے ذریعے تنازع کا پُرامن حل چاہتا ہے اور ضرورت پڑنے پر امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ ثالثی کے لیے تیار ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے افغانستان سے پھیلنے والی دہشت گردی کو ہمسایہ ممالک، خصوصاً پاکستان کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ماسکو فارمیٹ اجلاس میں افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی پر اپنے تحفظات پیش کیے۔
ان کے مطابق افغان طالبان کے وفد نے ماسکو فارمیٹ کے گزشتہ اعلامیے میں دہشت گردی سے متعلق مؤقف برقرار رکھنے پر اتفاق نہیں کیا۔ ترجمان نے کہا کہ افغانستان سے پھیلنے والی دہشت گردی پاکستان کے لیے محض الفاظ کا معاملہ نہیں بلکہ قومی سلامتی کا اہم مسئلہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ ماسکو فارمیٹ اجلاس میں پاکستان کی شرکت کے حوالے سے فیصلہ کرنا قبل از وقت ہوگا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بھارتی نقشے میں جموں و کشمیر کے متنازع علاقوں کو شامل کرنے کی کوشش مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی یک طرفہ نقشہ سازی قانونی طور پر بے حیثیت ہے اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ بھارت کا کوئی بھی یک طرفہ اقدام جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت تبدیل نہیں کرسکتا اور نہ ہی کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کو متاثر کرسکتا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق 2 اکتوبر کو بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس کے ہاتھوں دو پاکستانی شہری جاں بحق ہوئے، جس پر پاکستان نے 3 اکتوبر کو بھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کیا۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے واقعے کی فوری، شفاف اور قابلِ اعتماد تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ ذمہ داران کے خلاف مناسب قانونی اور تادیبی کارروائی کرنے اور تحقیقات کے نتائج پاکستان کے ساتھ شیئر کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
سجاد حیدر خان نے کہا کہ پاکستان نے بھارت پر تحمل کا مظاہرہ کرنے اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔



