latest newsPoliticsWorld

گلبدین حکمت یار کی طالبان حکومت پر تنقید، اقتدار افغان عوام کو منتقل کرنے کا مطالبہ

افغانستان کے سابق وزیراعظم اور حزب اسلامی افغانستان کے سربراہ گلبدین حکمت یار نے طالبان حکومت پر تنقید کرتے ہوئے اقتدار افغان عوام کو منتقل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق اپنے حامیوں سے آن لائن خطاب میں گلبدین حکمت یار نے کہا کہ افغان عوام کو اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے ملک کے مستقبل کے سیاسی نظام اور حکومت کا فیصلہ کرنے کا اختیار ملنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اقتدار عوام کو منتقل کیا جائے تاکہ وہ ایک کونسل منتخب کریں جو ملک کے سیاسی نظام اور حکومت کے مستقبل کا تعین کرے۔ ان کے مطابق ملکی و خارجہ پالیسی، بجٹ، جنگ اور امن سے متعلق فیصلے منتخب اداروں کے ذریعے کیے جانے چاہئیں اور عوام کی مرضی ہر سیاسی نظام کی بنیاد ہونی چاہیے۔

گلبدین حکمت یار کا کہنا تھا کہ طالبان کو جنگ اور امن میں سے کسی ایک راستے کا انتخاب کرنا ہوگا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ افغانستان میں تبدیلی ناگزیر اور بہت قریب ہے۔

سابق افغان وزیراعظم نے کہا کہ جس طرح سوویت یونین اور امریکا کی حمایت سے قائم ہونے والی افغان حکومتیں زیادہ عرصے تک برقرار نہیں رہ سکیں، اسی طرح طالبان حکومت بھی زیادہ عرصے تک قائم نہیں رہ سکے گی۔

انہوں نے طالبان حکومت کو سیاسی تنہائی کا شکار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے دعوؤں کے برعکس خطے اور دنیا میں اس کے حقیقی اور مستقل اتحادی موجود نہیں۔ ان کے مطابق وہ ممالک جو ماضی میں طالبان کی حمایت کرتے رہے ہیں، اب بھی مکمل طور پر ان کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہیں۔

طالبان کو مخاطب کرتے ہوئے گلبدین حکمت یار نے کہا کہ اگر افغانستان میں مخالفین کے لیے کوئی جگہ نہیں تو طالبان کے لیے بھی جگہ نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ ان کے بقول طالبان دوسروں کو برداشت نہیں کر رہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ طالبان حکومت کے دوران افغان عوام بے روزگاری، بدامنی اور غربت سمیت مختلف سنگین مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button