
لاہورہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے 16 سالہ مغویہ سکینہ کی بازیابی کی درخواست پر سی پی او فیصل آباد کی رپورٹ مسترد کر تے ہوئے انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس کو آج ریکارڈ سمیت طلب کر لیا، عدالت نے سی پی او پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا یہ 2024 کا کیس ہے اور یہ پولیس کی پراگرس ہے،درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ عدالت کو یقین دہانی کروانیکےباوجود مغویہ کو بازیاب نہیں کرایا گیا۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے توہین عدالت کی درخواست پر ڈی جی ایف آئی اے سےپنجاب بھر میں زیر التواء درخواستوں کی رپورٹ 22 اکتوبر تک طلب کرلی، عدالت نے ریمارکس دئیے کہ جی ڈی صاحب اگر پنجاب میں ایف آئی اےکام کرے تو لوگوں کو عدالتوں کے پاس کیوں آنا پڑے ؟اگر عدالتیں بھی نہیں سنیں گی تو انصاب کون دے گا؟ عدالت کے استفسار پر ڈی جی ایف آئی آے ڈاکٹر عثمان انور نے موقف اپنایا کہ پیکا ایکٹ قانون پاس ہونے کے بعد ایف آئی اے سے این سی سی آئی اے میں تبدیل ہوا، رخواست گزار نے موقف اپنایا کہ ہم 4,5 مرتبہ ان کے پاس گئے ہیں ہماری شنوائی نہیں ہو رہی،ڈی جی ایف آئی اے نے آگاہ کیا کہ میرا آفیسر ان کے پاس گیا ، ان کا کیس تفصیلی سنا ہے اور ان سے ملاقات بھی کی ہے ، ڈی جی ایف آئی اے نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا انکوائری کی میں پتہ چلا ایف آئی نے اغواء نہیں کیا وہ پولیس کے پاس ہے ، ایف آئی اے میں سورسز کی کمی کے باعث انکوائریاں تاخیر کا شکار ہیں ، ایف آئی اے میں 70نئے آفیسر بھرتی کر رہے ہیں ، نئے آفیسرز کے انے سے کیسز میں کمی اے گی ،ایف آئی اے اور این سی سی آئی اے دونوں ونگز کے پاس کیس ٹو کیس ویری فائی ہو گا ۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کی درخواست پر عدالتی معاونت کے لئے اٹارنی جنرل پاکستان کو طلب کر لیا،وفاقی وزارت قانون اور پی ٹی اے کی جانب سے تحریری جواب عدالت میں جمع کرا دیئے گئے، درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ ملک میں 16 سال سے کم عمر بچوں کی سوشل میڈیا پر عمر کی تصدیق کا قانون موجود نہیں،پیمرا ڈراموں اور اشتہارات کا کوڈ آف کنڈکٹ نافذ کرنے میں ناکام رہا ،آسٹریلیا، اٹلی اور برازیل کی طرح پاکستان میں بھی 16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا پابندی عائد کی جائے، استدعا ہے کہ ڈراموں اور اشتہارات میں ناشائستہ مناظر اور الکحل کے استعمال کی نمائش پر مکمل پابندی لگائی جائے ،سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کے تحفظ کے لیے میکانزم قائم کیا جائے، پیکا قانون میں ترمیم کر کے بچوں کے لیے عمر کی تصدیق کا نظام قائم کیا جائے۔
لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عبہر گل خان نے ہوم سیکرٹری کو نظر بند پی ٹی آئی رہنما میاں اکرم عثمان سے ملاقات کیلئے اہلیہ کی درخواست پر قانون کے مطابق کا کارروائی کا حکم دیتے ہوئے درخواست نمٹا دی،درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ میاں عثمان اکرم کو 27 ستمبر کے احتجاج میں شرکت سے روکنے کیلئے نظر بند کیا گیا ،میاں عثمان اکرم نے وزیر اعلیٰ کے پی کے سہیل آفریدی کا لاہور میں استقبال کیا تھا ،میاں عثمان اکرم کو غیر قانونی طور پر نظر بند کیا گیا ،درخواست گزار کو شوہر سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی ،عدالت درخواست کی شوہر سے ملاقات کرانے کا حکم دے ،عدالت میاں عثمان اکرم کی نظر بندی کالعدم قرار دے ۔
لاہور ہائیکورٹ، عمارتوں میں لگنے والی آگ کے ذمہ داروں کے تعین کے لیے درخواست سماعت کے لیے مقرر ، چیف جسٹس عالیہ نیلم 6اکتوبر کو سماعت کریں گی، عدالت نے محکمہ صحت اور پنجاب بھر کے ہسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس سے جواب طلب کر رکھا ہےعدالت نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سمیت متعلقہ اداروں کو جواب جمع کرانے کا پابند کر رکھا ہے،عدالت نے آگ لگنے والی عمارتوں سے متعلق رپورٹس اور بلڈنگ کوڈ پر عملدرآمد رپورٹ بھی طلب کر رکھی ہے۔
لاہور ہائیکورٹ، کیمرے والی سمارٹ عینکوں پر پابندی کے لیے درخواست سماعت کے لیے مقرر،چیف جسٹس عالیہ نیلم8 اکتوبر کو سماعت کریں گی ،عدالت نے وفاقی حکومت، پی ٹی اے اور وفاقی وزارت تجارت و فریقین سے جواب طلب کر رکھا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کےجسٹس شہرام سرور کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے قتل کیس میں اپیل منظور کرتے ہوئے ملزم عمیر کو رہا کرنے کا حکم دیا،ملزمان کے خلاف تھانہ بمبانوالہ سیالکوٹ میں ملزم کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر رکھا تھا۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس حسن نواز مخدوم اور جسٹس خالد اسحاق پر مشتمل بینچ نے نجی میڈیکل کالج کو پراپرٹی ٹیکس سے استثنیٰ دینے کی درخواستیں مسترد کردیں، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ نجی میڈیکل کالج اور ہسپتال کو محض لیز ہولڈر ہونے کی بنیاد پر پراپرٹی ٹیکس سے استثنیٰ نہیں مل سکتا ہے، درخواست گزار نے قانونی ٹیکس اور واجبات کی ادائیگی سے مسلسل گریز کیا، ٹیکس کی ادائیگی میں تاخیری حربے استعمال کرنے پر درخواست گزار پر 10 لاکھ روپےجرمانہ عائد کیا گیا،عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ 10 لاکھ روپے جرمانہ پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کے تحت بقایاجات اراضی محصول کے طور پر وصول کیا جائے گا،عدالتی فیصلے کے مطابق پنجاب فنانس ایکٹ 2024 کی ترمیم کے بعد قبضے میں موجود لیز ہولڈر بھی پراپرٹی ٹیکس کے لیے مالک تصور ہوگا،آئینی دائرہ اختیار قانون کی خلاف ورزی یا ٹیکس سے بچنے کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا،پنجاب اربن امووایبل پراپرٹی ٹیکس ایکٹ میں 2024 کی ترمیم کے بعد لیز اِن پوزیشن کو مالک کی تعریف میں شامل کیا گیا، قبضے میں موجود لیز ہولڈر کو پراپرٹی ٹیکس کے لیے مالک تصور کیا جائے گا،نجی میڈیکل کالج نے 14 ستمبر 2017 کے لیز معاہدے کے تحت جائیداد حاصل کی، لیز معاہدہ ابتدائی طور پر 33 سال کے لیے تھا، مزید 33 سال اور پھر بار بار تجدید کا اختیار بھی موجود تھا، عدالت نے مزید کہا ہے کہ لیز کی شرائط اسے مستقل نوعیت کی لیز بناتی ہیں،غیر رجسٹرڈ لیز معاہدے کا فائدہ اٹھا کر ٹیکس کی ذمہ داری سے نہیں بچا جاسکتا،کوئی شخص اپنے ہی قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کا فائدہ حاصل نہیں کرسکتاپراپرٹی ٹیکس کی بنیادی ذمہ داری جائیداد کے مالک پر عائد ہوتی ہے، مالک کی جانب سے ٹیکس کی عدم ادائیگی کی صورت میں کرایہ ادا کرنے والے شخص کو ٹیکس اتھارٹی کو ادائیگی کا نوٹس دیا جاسکتا ہے، فیصلہ کے مطابق نجی میڈیکل کالج اور ہسپتال دیہی علاقے میں تجارتی سرگرمیاں کر رہے ہیں،درخواست گزار دیہی زمین کے استعمال میں تبدیلی کے لیے مطلوبہ قانونی اجازت اور فیس کی ادائیگی کا ثبوت پیش نہ کرسکا،درخواست گزار نے دیہی علاقے میں پراپرٹی ٹیکس عائد نہ ہونے کی استدعا بعد ازاں واپس لے لی۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس احمد ندیم ارشد نے عدالتی حکم پر سرکاری خزانے میں جمع کرائی گئی نان نفقہ، کرایہ ودیگر رقوم کی واپسی میں تاخیری حربوں کیخلاف درخواست پر سماعت سرکاری وکیل کو جمع شدہ رقوم قانونی اور آئینی حیثیت بارے ہدایات لے کر پیش ہونے کی ہدایت کر دی، سلمیٰ ریاض ایڈووکیٹ نے موقف اپنایا کہ عدالتی حکم پر جمع کرائی گئی رقوم ریاستی خزانہ نہیں بلکہ اصل مالکان کی امانت ہیں، عدالتی امانتوں کی واپسی میں تاخیر بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے ،رقوم کی واپسی کیلئے محکمہ خزانہ، اے جی آفس اور بینکوں کے پیچیدہ نظام نے متاثرین کو دربدر کر دیا، عدالتی امانتوں کا تحفظ ون ونڈو، بائیومیٹرک اور شناختی کارڈ سے منسلک جدید نظام سے کیا جانا چاہئے ،عدالتی امانتوں کی واپسی میں تاخیر آئینی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے ،عدالتی امانتیں عوام کی ملکیت ہیں سرکاری خزانے کا حصہ نہیں، استدعا ہے کہ ر ئیل ٹائم ٹریکنگ اور فوری ادائیگی کا جدید نظام نافذ کیا جائے ،عدالت عدالتی امانتوں کو نجی امانت قرار دے کر معیار سے باہر قرار دینے کا نظام ختم کرنیکا حکم دے،استدعا ہے کہ نادرا، اسٹیٹ بینک، پی آئی ٹی بی اور متعلقہ اداروں کو جدید ڈیجیٹل نظام قائم کرنے کی ہدایت کی جائے۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس خالد اسحاق نےانسداد خواتین تشدد سنٹر ملتان کی سائیکالوجسٹ کو مستقل نہ کرنے کے خلاف درخواست پر سوشل ویلفیئر اینڈ بیت المال انتظامیہ کو درخواست گزاروں کو سن کر فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا، گیارہ درخواست گزاران نے درخواست میں موقف اپنایا کہ 2017 سے سائیکالوجسٹ کے عہدے پر فرائض سر انجام دے رہے ہیں،قانون کے مطابق انہیں 2018 میں مستقل کیا جانا تھا،سائیکالوجسٹ کی عہدے پر کل 31 تعیناتیاں کی گئی تھیں،محکمہ سائیکالوجسٹ کو مستقل نہیں کر رہا،سائیکالوجسٹ سے محکمہ کام لے رہا مگر جولائی سے تنخواہیں بھی روک دی ہیں،استدعا ہے کہ عدالت مستقل کرنے اور تنخواہیں ادا کرنے کا حکم دے۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس امجد رفیق نے پانچ سال بعد قتل کیس میں عمر قید کے ملزم عثمان کو بری کردیا،عدالت نے مرکزی گواہ کے بیان میں تضاد ہونے پر ملزم عثمان امتیاز کی سزا کالعدم قرار دے دی،وکیل نے موقف اپنایا کہ موقع کے گواہ ٹرائل کورٹ میں پیش نہیں ہوئے ۔
ایڈیشنل سیشن جج رفاقت علی نےغیر ملکی خاتون زیادتی کیس میں سہولت کاری کرنے والی ملزمہ نمرہ کی عبوری ضمانت میں 13 اکتوبر تک توسیع کردی ، عدالت نے تفتیشی کو ریکارڈ پیش کرنے کی مہلت د یدی۔
ایڈیشنل سیشن جج سیف اللہ ہنجرا نے طیفی بٹ کے بہنوئی جاوید بٹ کے قتل کیس کا چالان جمع کروانیکا حکم دیدیا۔



