ہزارہ صوبے کے قیام میں مزید تاخیر نہ کی جائے، سردار محمد یوسف

اسلام آباد: وزیر مذہبی امور اور تحریکِ ہزارہ صوبہ کے چیئرمین سردار محمد یوسف نے مطالبہ کیا ہے کہ ہزارہ صوبہ مزید تاخیر کے بغیر قائم کیا جائے، کیونکہ اس معاملے کو خیبرپختونخوا اور قومی اسمبلی میں پہلے ہی اٹھایا جا چکا ہے۔
ہزارہ صوبہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے سردار محمد یوسف نے کہا کہ الگ صوبے کا مطالبہ انتظامی بنیادوں پر ہے اور تحریک اب پارلیمانی و آئینی فورمز پر اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہزارہ صوبے کی تحریک مضبوط ہے اور اس کا مقدمہ تیار ہے۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی تین مرتبہ ہزارہ صوبے کے حق میں قراردادیں منظور کرچکی ہے۔
سردار محمد یوسف نے دعویٰ کیا کہ سیاسی قیادت کے علاوہ عسکری قیادت نے بھی نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق 2019 میں حکومت اور اپوزیشن کے ارکان کی جانب سے قومی اسمبلی میں ہزارہ صوبے کے قیام کے بل پیش کیے گئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ معاملہ اب اسمبلیوں میں موجود ہے، لہٰذا ارکانِ پارلیمنٹ کو ہزارہ صوبے کے قیام کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامی سہولیات عوام کے قریب لانا ضروری ہے تاکہ سرکاری خدمات تک رسائی بہتر ہوسکے۔
سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ مستقبل کے ہزارہ صوبے میں ہری پور معاشی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہوگا۔ انہوں نے وسائل کی کمی سے متعلق خدشات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں اپنی ضروریات پوری کرنے اور ملکی معیشت میں کردار ادا کرنے کے لیے وافر وسائل موجود ہیں۔
انہوں نے بے روزگاری اور مواقع کی کمی کو نوجوانوں میں بڑھتی مایوسی سے جوڑتے ہوئے موجودہ نظام میں اصلاحات کا مطالبہ بھی کیا۔
سابق وفاقی وزیر مرتضیٰ جاوید عباسی نے کہا کہ ہزارہ کے عوام ہزارہ کو شامل کیے بغیر نئے صوبوں کے قیام کو قبول نہیں کریں گے۔ ان کے مطابق خطے کے نمائندے یہ معاملہ پہلے ہی پارلیمنٹ میں اٹھا چکے ہیں۔
سابق وزیراعلیٰ پیر صابر شاہ نے کہا کہ ہزارہ کے عوام الگ صوبے کے مطالبے پر متحد ہیں، جبکہ جماعت اسلامی ہزارہ کے رہنما عبدالرازق عباسی نے بھی الگ صوبے کے قیام کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔



