latest newsWorld

یمن میں حوثیوں کے خلاف بڑے فوجی آپریشن کا اعلان، 700 جنگجو ہلاک کرنے کا دعویٰ

یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ اور سعودی حمایت یافتہ حکومت کے سربراہ رشاد العلیمی نے حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی فورسز کا مقصد پورے ملک میں ریاستی رِٹ بحال کرنا ہے۔

رشاد العلیمی نے قوم سے خطاب میں یمنی مسلح افواج، سکیورٹی فورسز اور اتحادی دھڑوں کو حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں کی واپسی تک کارروائیاں جاری رکھنے کی ہدایت کی۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حوثی فورسز نے حالیہ دنوں میں تعز کے اطراف پیش قدمی کی ہے اور شہر کو ممکنہ طور پر محاصرے میں لینے کی پوزیشن مضبوط کی ہے۔

یمنی فوج کے ترجمان کرنل ماجد عبداللہ النزیلی کے مطابق فورسز نے مختلف محاذوں پر 257 کارروائیاں کیں، جن میں جنگی طیاروں، ڈرونز، توپ خانے، میزائلوں اور راکٹ لانچرز کا استعمال کیا گیا۔

فوج کے مطابق کارروائیوں میں صنعا، میدی، باقم، الجوف، مارب، البیضا اور لحج کے محاذ شامل تھے، جبکہ تعز کے محاذ پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی۔ فوج نے ابتدائی اندازوں کی بنیاد پر کم از کم 700 حوثی جنگجوؤں کو ہلاک اور 170 جنگی گاڑیوں و دیگر فوجی اثاثوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

تاہم یہ ہلاکتوں کے اعداد و شمار یمنی فوج کے دعوے پر مبنی ہیں اور آزاد ذرائع سے ان کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔ حوثیوں کی جانب سے بھی فوری طور پر ان دعوؤں پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔

بعد ازاں یمنی فوج نے تعز اور لحج کے محاذوں پر مزید 97 کارروائیوں میں 260 حوثی جنگجوؤں کو ہلاک کرنے اور 44 فوجی گاڑیوں و سپلائی ذرائع کو تباہ یا نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا۔

رائٹرز کے مطابق حکومتی فورسز کے جوابی حملوں کے باوجود حوثی زمینی محاذ پر پیش قدمی کر رہے ہیں۔ حالیہ پیش قدمی کے نتیجے میں تعز کے قریب اہم پہاڑی مقامات پر حوثیوں کا دباؤ بڑھا ہے، جس سے تعز اور عدن کے درمیان زمینی رابطے کو خطرات لاحق ہیں۔

یمن میں جاری تازہ لڑائی نے 2022 کی جنگ بندی کے بعد نسبتاً کم ہونے والی عسکری سرگرمیوں کو دوبارہ شدید کردیا ہے۔ سعودی عرب نے 2015 میں یمن کی خانہ جنگی میں مداخلت کرکے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں اتحاد کی قیادت کی تھی۔ حوثیوں نے 2014 میں صنعا اور ملک کے بڑے حصوں پر قبضہ کیا تھا۔

موجودہ صورتحال میں نئے فوجی آپریشن سے یمن میں لڑائی کے مزید پھیلنے اور انسانی بحران میں اضافے کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button