سپین میں ہاؤسنگ بحران، حکومت نے 2030 تک بے دخلی پر پابندی کی منظوری دے دی

میڈرڈ: اسپین کی اتحادی حکومت نے ملک میں جاری ہاؤسنگ بحران اور احتجاج کے بعد نئے رہائشی اقدامات کی منظوری دے دی، جن میں 2030 تک بے دخلی پر عارضی پابندی بھی شامل ہے۔
حکومت کے مطابق نئے اقدامات سے 50 لاکھ سے زائد افراد کو ریلیف ملنے کی توقع ہے۔ دیگر تجاویز میں کرایہ داری معاہدوں میں 2028 تک توسیع، مختصر مدت اور کمرہ کرایوں کے لیے سخت قوانین اور سرمایہ کاری کمپنیوں کو مکانات خریدنے سے روکنا شامل ہے۔
یہ اقدامات دو صدارتی احکامات کی صورت میں فوری نافذ ہوں گے، تاہم انہیں ایک ماہ کے اندر پارلیمان سے منظوری لینا ہوگی۔ حکومت جمعہ کو ہی ووٹنگ کرانے کی کوشش کر رہی ہے۔
حکومتی اتحاد کے پاس پارلیمان میں واضح اکثریت نہیں، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے چھوٹے مکان مالکان کے تحفظات نظرانداز کیے جانے پر اعتراض کیا ہے۔
یہ فیصلے 87 سالہ ماری کارمن اباسکل کی میڈرڈ میں بے دخلی کے بعد ہونے والے احتجاج کے تناظر میں سامنے آئے ہیں۔ اباسکل کو گزشتہ ہفتے ان کے گھر سے اسٹریچر پر نکالا گیا تھا، جس کے بعد وہ ہاؤسنگ بحران کے خلاف احتجاج کی علامت بن گئی ہیں۔
اسپین میں ہاؤسنگ کی کمی اور بڑھتے کرایوں کے خلاف میڈرڈ، بارسلونا، سیویل، ملاگا اور کیڈیز سمیت مختلف شہروں میں احتجاج جاری ہے۔ بینک آف اسپین کے مطابق ملک کو تقریباً 7 لاکھ مکانات کی کمی کا سامنا ہے۔



