برکینا فاسو میں ملک کی پہلی گولڈ ریفائنری کا افتتاح

برکینا فاسو نے دارالحکومت اوآگاڈوگو میں ملک کی پہلی گولڈ ریفائنری کا افتتاح کردیا، جس کا مقصد سونے کو مقامی سطح پر صاف کرکے اس سے حاصل ہونے والی معاشی قدر کا زیادہ حصہ ملک میں برقرار رکھنا ہے۔
فوجی حکومت کے سربراہ ابراہیم ٹراؤرے نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ برکینا فاسو اپنی دھاتوں کو خود صاف کرنے اور سونے سے متعلق مکمل ویلیو چین ملک کے اندر رکھنے کا خواہاں ہے۔

نئی ریفائنری رافینور-بی ایف پر 11 ارب سی ایف اے فرانک سے زائد لاگت آئی ہے۔ ابتدائی طور پر یہ سالانہ 164 ٹن سونا صاف کرسکے گی، جبکہ مستقبل میں اس کی صلاحیت 515 ٹن سالانہ تک بڑھانے کا منصوبہ ہے۔
برکینا فاسو افریقا کے بڑے سونا پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے، تاہم غیر رسمی کان کنی اور سونے کی اسمگلنگ بدستور اہم مسائل ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ غیر قانونی سونے کی تجارت سے حاصل ہونے والی رقم کا کچھ حصہ مسلح گروہوں تک بھی پہنچتا ہے۔
حکومت نے سونے کے شعبے پر ریاستی کنٹرول بڑھانے کے لیے دو سال قبل سرکاری کان کنی کمپنی قائم کی تھی، جبکہ غیرملکی کان کنی کمپنیوں کے لیے ریاست کو 15 فیصد حصہ دینا اور مقامی کارکنوں کو تربیت فراہم کرنا بھی لازم قرار دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق ریفائنری کا مقصد صرف سونے کی صفائی نہیں بلکہ ملک کے دیگر شعبوں میں بھی خام مال کو مقامی سطح پر تیار مصنوعات میں تبدیل کرنا ہے۔



