پنجاب میں منتخب مقامی حکومتوں کی بحالی کا مطالبہ، بلدیاتی انتخابات کے لیے اتحاد متحرک

لاہور(ہم شہری) پنجاب میں منتخب مقامی حکومتوں کی بحالی کے لیے قائم اتحاد کا اجلاس بدھ کے روز لاہور میں ہوا، جس میں منتخب مقامی حکومتوں کے مستقبل، نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام سے متعلق جاری بحث، پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے امکانات اور مقامی حکومتوں میں خواتین سمیت کمزور و محروم طبقات کی مؤثر نمائندگی پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں آئینی و انتظامی امور کا جائزہ لیتے ہوئے (LGIs) شرکاء نے مقامی حکومتوں کے انتخابات کی تیاریوں سے متعلق میڈیا رپورٹس اور بلدیاتی اداروں میں مختلف طبقات کی نمائندگی یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی گفتگو کی۔
بیداری کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور اتحاد کے کوآرڈینیٹر ارشد محمود مرزا نے کہا کہ بنیادی مسئلہ عوام اور فیصلہ سازی کے اداروں کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام شہریوں کی زندگیوں کو متاثر کرنے والے فیصلوں میں عوام کی رائے، ضروریات اور پالیسیوں کے اثرات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
ارشد محمود مرزا کا کہنا تھا کہ صرف نئے صوبوں کا قیام حکمرانی سے متعلق مسائل حل نہیں کر سکتا، جب تک گورننس اور عوامی شرکت سے متعلق بنیادی مسائل کو بھی حل نہ کیا جائے۔ انہوں نے منتخب مقامی حکومتوں کے قیام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مقامی حکومتیں عوام کے ووٹ سے منتخب ہوں اور انہیں مقامی سطح پر فیصلے کرنے اور ان پر عمل درآمد کے لیے مؤثر اختیارات دیے جائیں۔

محمد تحسین نے کہا کہ گورننس سے متعلق بحث کو صرف پنجاب تک محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ ملک کے دیگر حصوں کی صورتحال کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق مزید صوبوں کا قیام بذاتِ خود عوامی خدمات، روزگار اور سرکاری اداروں تک رسائی کے مسائل حل نہیں کر سکتا۔
محمد تحسین نے مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانے اور مقامی آبادی کو منتخب نمائندوں کے ذریعے حکمرانی کے عمل میں شریک کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مقامی حکومتوں کے اداروں کو اپنے اپنے علاقوں کے مسائل حل کرنے کے لیے بامعنی اور مؤثر اختیارات حاصل ہونے چاہئیں۔
مرزا عبدالشکور نے مقامی حکومتوں میں خواتین اور دیگر سماجی طبقات کی شرکت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ مختلف علاقوں میں خواتین کونسلرز کی جانب سے اپنی برادریوں کی فلاح و بہبود کے لیے مؤثر کردار ادا کرنے کی مثالیں موجود ہیں۔ انہوں نے مقامی حکومتوں میں خواتین سمیت مختلف طبقات کی مؤثر شرکت کی اہمیت پر زور دیا۔
زاہد اسلام نے کہا کہ یہ اتحاد نہ کوئی نیا این جی او ہے اور نہ ہی کسی ایک ادارے کا فنڈڈ منصوبہ، بلکہ ایسے شہریوں کا پلیٹ فارم ہے جو بہتر حکمرانی اور نچلی سطح پر جمہوری شرکت کے فروغ میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اتحاد کا فریم ورک پاکستان کے آئین اور موجودہ قوانین پر مبنی ہے۔ ان کے مطابق پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 نافذ شدہ اور گزٹ شدہ قانون ہے، اس لیے اس کے تحت مقامی حکومتوں کے انتخابات کرائے جانے چاہئیں۔ تاہم اتحاد قانون میں موجود کمزوریوں کی نشاندہی کرکے اس میں بہتری کے لیے بھی آواز اٹھا سکتا ہے۔

بشریٰ خالق نے کہا کہ اتحاد کا فوری مقصد پنجاب میں منتخب مقامی حکومتوں کی بحالی اور مقامی حکومتوں کے نظام میں بہتری کے لیے سفارشات مرتب کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتحاد حکومت، سیاسی جماعتوں اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے رابطہ کرے گا تاکہ مقامی حکومتوں کے انتخابات کے انعقاد اور پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 میں آئین کے آرٹیکل 32 اور 140-A کے مطابق بہتری کے لیے اقدامات کیے جا سکیں۔
سلمان عابد نے کہا کہ اتحاد کے فریم ورک میں ضلعی سطح پر متحرک کاری کا منصوبہ بھی شامل ہے، جس میں سماجی و سیاسی کارکنان، نوجوانوں، مزدور تنظیموں، اقلیتوں، خواتین اور مقامی برادریوں کو شامل کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ مقامی حکومتوں کے انتخابات کے انعقاد کے لیے حکومت کے متعلقہ محکموں، سیاسی جماعتوں، میڈیا اور قانونی اداروں کے ساتھ رابطہ کیا جائے گا جبکہ مؤثر آگاہی اور وکالت بھی کی جائے گی۔
اجلاس کے شرکاء نے منتخب مقامی حکومتوں کی بحالی کے لیے مسلسل وکالت اور مربوط ایکشن پلان کی ضرورت پر اتفاق کیا۔ اتحاد کے فریم ورک کے تحت فوری طور پر ضلعی سطح پر ذمہ داریاں تفویض کرنے، میڈیا کے ذریعے آگاہی اور متعلقہ سیاسی و قانونی اداروں سے رابطے کا عمل شروع کیا جائے گا تاہم تفصیلی ایکشن پلان اتحاد کی کور کمیٹی مرتب کرے گی۔



