ہر عورت ویشیا نہیں ہوتی، لیکن ہر ویشیا عورت ہوتی ہے، منٹو اور عورت کی انسانی شناخت
خالدمنصور

سعادت حسن منٹو اردو ادب کے ان افسانہ نگاروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے معاشرے کے ان گوشوں کو اپنی تحریروں کا موضوع بنایا جنہیں عام طور پر نظر انداز کیا جاتا تھا۔ جسم فروش عورتیں، سماجی طور پر محروم طبقات، جنسی استحصال کا شکار افراد اور تقسیمِ ہند کے المیوں میں پسنے والے انسان منٹو کے افسانوں میں محض کردار نہیں بلکہ معاشرتی حقیقت کے آئینے ہیں۔ منٹو کا یہ جملہ کہ "ہر عورت (طوائف) ویشیا نہیں ہوتی لیکن ہر ویشیا عورت ہوتی ہے” اسی انسانی اور سماجی شعور کی نمائندگی کرتا ہے۔

منٹو کے مضمون’’عصمت فروشی’’میں کہا گیا یہ جملہ بظاہر سادہ ہے مگر اس میں گہرا ادبی اور سماجی سوال پوشیدہ ہے: کیا کسی عورت کا پیشہ یا معاشرتی شناخت اس کی مکمل انسانی شخصیت کو متعین کرسکتی ہے؟ منٹو کا جواب نفی میں دکھائی دیتا ہے۔ وہ قاری کو یاد دلاتے ہیں کہ جس عورت کو معاشرہ ایک خاص لیبل دے کر اس کی انسانیت سے محروم کردیتا ہے، وہ بھی بنیادی طور پر ایک انسان ہے، جس کے جذبات، خواہشات، دکھ، محرومیاں اور عزتِ نفس موجود ہیں۔
منٹو کے جملے کا پہلا حصہ"ہر عورت ویشیا نہیں ہوتی”معاشرے کے اس عمومی رویے پر سوال اٹھاتا ہے جس میں عورت کی شناخت کو اس کے کردار، لباس، تعلقات یا جنسی رویے سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ تاریخ میں عورت کے بارے میں اخلاقی فیصلے اکثر مردانہ سماجی معیار کے تحت کیے گئے ہیں۔ منٹو ایسے معیار کو قبول کرنے کے بجائے انسانی شخصیت کو زیادہ پیچیدہ اور وسیع تناظر میں دیکھتے ہیں۔
اس جملے کا دوسرا حصہ"لیکن ہر ویشیا عورت ہوتی ہے”اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ یہاں منٹو دراصل معاشرے کے بنائے ہوئے "ہم” اور "وہ” کے فرق کو ختم کرتے ہیں۔ ویشیا کو ایک الگ، کمتر یا غیر انسانی طبقہ سمجھنے کے بجائے وہ اسے اسی انسانی معاشرے کا حصہ قرار دیتے ہیں۔
منٹو کی ادبی عظمت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے اپنے کرداروں کو محض اخلاقی فیصلوں کے پیمانے پر نہیں پرکھا۔ ان کے ہاں طوائف یا جسم فروش عورت صرف "گناہ” کی علامت نہیں بلکہ ایک مکمل انسان ہے۔
"ہتک” کی سوگندھی، "کالی شلوار” کی سلطانہ اور "دس روپے” کی نیلوفر جیسے کرداروں میں ہمیں ایسی عورتیں ملتی ہیں جو معاشرتی حالات، غربت، مردانہ خواہشات اور اپنے وجود کے درمیان زندگی گزار رہی ہیں۔ منٹو ان کرداروں کو اس انداز میں پیش کرتے ہیں کہ قاری ان کے بارے میں صرف اخلاقی فیصلہ نہیں کرتا بلکہ ان کے دکھ اور انسانی محرومی کو محسوس کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔
خاص طور پر "ہتک” میں سوگندھی کی خودداری اس تصور کو چیلنج کرتی ہے کہ جسم فروش عورت کے پاس عزتِ نفس یا جذبات نہیں ہوتے۔ منٹو کا کمال یہ ہے کہ وہ قاری کو کردار کی سماجی حیثیت سے آگے لے جاکر اس کی انسانیت تک پہنچاتے ہیں۔
منٹو کے ادب پر سب سے زیادہ ہونے والے اعتراضات میں فحاشی کا الزام بھی شامل رہا۔ ان کے افسانوں میں جنس، جسم، خواہش اور جسم فروشی جیسے موضوعات ضرور موجود ہیں، لیکن منٹو کا مؤقف بنیادی طور پر یہ تھا کہ اگر معاشرے میں کوئی حقیقت موجود ہے تو ادب اسے نظر انداز کرکے پاکیزگی کا مصنوعی تصور قائم نہیں کرسکتا۔
ان کے ہاں جسم فروشی کا ذکر محض جنسی کشش پیدا کرنے کے لیے نہیں آتا بلکہ اکثر اس کے پیچھے غربت، طبقاتی فرق، مردانہ استحصال، سماجی منافقت اور انسانی تنہائی کا مسئلہ موجود ہوتا ہے۔ اسی لیے منٹو کے کرداروں کو صرف "اچھا” یا "برا” قرار دینا ان کے ادب کی پیچیدگی کو محدود کردیتا ہے۔ وہ اپنے کرداروں کے ذریعے قاری کو یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ معاشرہ جن لوگوں کو اخلاقی طور پر مسترد کرتا ہے، ان کی زندگی کے حالات پیدا کرنے میں خود معاشرے کا کتنا کردار ہوتا ہے۔
منٹو کے اس جملے میں معاشرتی منافقت کے خلاف ایک گہرا طنز بھی محسوس ہوتا ہے۔ معاشرہ طوائف کو برا کہتا ہے، لیکن اسی معاشرے کے مرد اس کے گاہک بھی ہوتے ہیں۔ اس تضاد کو منٹو بار بار اپنی تحریروں میں نمایاں کرتے ہیں۔
یہاں سوال صرف طوائف کا نہیں بلکہ اس پورے معاشرتی نظام کا ہے جو ایک طرف جسم فروشی کو اخلاقی جرم سمجھتا ہے اور دوسری طرف اس نظام کو چلانے والے عوامل پر خاموش رہتا ہے۔ منٹو کی نظر میں اصل مسئلہ صرف فرد کا کردار نہیں بلکہ وہ معاشرتی حالات بھی ہیں جو انسان کو مخصوص راستوں پر چلنے پر مجبور کرتے ہیں۔
اس جملے کو صرف طوائف کے دفاع کے طور پر پڑھنا بھی اس کی معنویت کو محدود کردے گا۔ منٹو بنیادی طور پر عورت کی انسانیت کو مرکز میں لاتے ہیں۔
"ہر ویشیا عورت ہوتی ہے” کہہ کر وہ یہ یاد دلاتے ہیں کہ معاشرتی لیبل انسان کے بنیادی وجود کو ختم نہیں کر سکتا۔ ایک طوائف بھی بیٹی، ماں، بہن، دوست یا محبت کرنے والی انسان ہوسکتی ہے۔ اس کے جذبات معاشرے کے اخلاقی فیصلوں سے ختم نہیں ہو جاتے۔
یہی منٹو کی انسان دوستی ہے: وہ اپنے کرداروں کو فرشتے بنانے کی کوشش نہیں کرتے، بلکہ انہیں ان کی کمزوریوں، خواہشوں اور تضادات سمیت انسان کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
آج بھی یہ جملہ اس لیے اہم ہے کہ معاشرے میں عورت کی کردار کشی اور اسے مختلف اخلاقی لیبل دینے کا رجحان ختم نہیں ہوا۔ کسی عورت کے لباس، پیشے، تعلقات یا ذاتی فیصلوں کی بنیاد پر اس کی پوری شخصیت کے بارے میں فیصلہ صادر کردینا اسی ذہنیت کی علامت ہے جس پر منٹو سوال اٹھاتے ہیں۔

منٹو ہمیں یہ نہیں سکھاتے کہ ہر عمل درست ہے؛ وہ اس سے زیادہ بنیادی سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا کسی انسان کے ایک عمل یا سماجی شناخت کی بنیاد پر اس کی پوری انسانیت سے انکار کیا جاسکتا ہے؟
"ہر عورت ویشیا نہیں ہوتی لیکن ہر ویشیا عورت ہوتی ہے” منٹو کے اسلوب کی طرح مختصر مگر تہہ دار جملہ ہے۔ اس میں عورت، اخلاق، جنس، سماجی طبقے، انسانی عزت اور معاشرتی منافقت کے کئی سوالات پوشیدہ ہیں۔
منٹو کی اہمیت یہی ہے کہ وہ قاری کو تیار شدہ اخلاقی فیصلے نہیں دیتے۔ وہ ایسے کردار سامنے رکھتے ہیں جنہیں دیکھ کر قاری اپنے ہی معاشرتی تصورات پر سوال کرنے لگتا ہے۔
اس جملے کا بنیادی پیغام یہی ہے کہ کسی انسان کو اس کے سماجی لیبل تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔ طوائف ہونے سے عورت کی انسانیت ختم نہیں ہوجاتی، بالکل اسی طرح عورت ہونے سے اس کی پوری شخصیت کو کسی ایک اخلاقی تصور میں قید نہیں کیا جاسکتا۔ منٹو کا ادب اسی انسانی پیچیدگی کو بے نقاب کرتا ہے اور یہی اس کی دیرپا معنویت ہے۔



