آبنائے ہرمز سے انٹرنیٹ کیبلز گزارنے کیلئے ایران کی پیشگی منظوری لازمی قرار

ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی نے آبنائے ہرمز سے انٹرنیٹ کیبلز اور دیگر ڈیٹا ٹرانسمیشن آلات گزارنے کے لیے ایرانی حکام کی پیشگی منظوری لازمی قرار دے دی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین عباس مقتدائی نے بتایا کہ آبنائے ہرمز میں سلامتی سے متعلق اسٹریٹجک منصوبے کے آرٹیکل 10 میں سمندر کی تہہ اور زیرِ آب انفراسٹرکچر، بشمول ڈیٹا کیبلز اور ڈیٹا ٹرانسمیشن آلات، سے متعلق امور شامل ہیں۔
عباس مقتدائی کے مطابق آرٹیکل 10 کو تفصیلی جائزے کے لیے خصوصی کمیٹی کے حوالے کیا گیا تھا، جس نے قومی مفادات، علاقائی عملداری اور ایران کی سمندری حدود کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد اس کی منظوری دے دی۔
نئے اقدام کے تحت آبنائے ہرمز سے انٹرنیٹ کیبلز یا دیگر زیرِ آب ڈیٹا انفراسٹرکچر گزارنے کے لیے ایرانی حکام سے پیشگی اجازت لینا ضروری ہوگا۔



