latest newsPoliticsWorld

محسن نقوی کا دورہ ایران، امریکی پیغام لے جانے کی قیاس آرائی مسترد

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اتوار کو تہران کا دورہ کریں گے، تاہم ان کے بقول یہ دورہ مکمل طور پر دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ مذاکرات کے دائرے میں ہوگا۔

ایرانی سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ حالیہ مہینوں میں ایران اور پاکستان کے تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تہران کی ہمسایہ ممالک سے متعلق پالیسی مشترکہ ثقافتی، تاریخی اور دیگر روابط کو بنیاد بنا کر تعلقات مضبوط کرنے پر مرکوز ہے۔

محسن نقوی کے دورے کے حوالے سے امریکی پیغام یا تجویز لے جانے کی قیاس آرائی پر ایرانی ترجمان نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ ایران کے تعلقات ’’بہت اچھے اور مسلسل بڑھتے ہوئے‘‘ ہیں۔ ان کے مطابق دورے کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے طے شدہ مفاہمتوں، خصوصاً اعلیٰ قیادت کی سطح پر ہونے والے فیصلوں پر پیش رفت کا جائزہ لینا ہے۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ پاکستان نے ماضی میں ثالثی کا کردار ادا کیا ہے، اس لیے ایسے مواقع پر علاقائی معاملات اٹھانا فطری بات ہے، تاہم اب تک محسن نقوی کی جانب سے امریکا کا کوئی مخصوص پیغام یا تجویز پہنچانے سے متعلق کوئی بات سامنے نہیں آئی۔

ایرانی ترجمان کے مطابق پاکستان کے ایک اقتصادی امور کے وزیر بھی محسن نقوی کے ہمراہ تہران جا سکتے ہیں۔

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے درمیان علاقائی اور دوطرفہ امور پر مسلسل رابطہ برقرار ہے۔ بقائی نے بتایا کہ دونوں وزرائے خارجہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر نیویارک میں ملاقات اور مذاکرات پر اتفاق کیا ہے۔

یہ سفارتی سرگرمیاں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے رابطوں میں کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ سعودی عرب اور ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے خطے میں نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان نے ایران سے حوثیوں پر اثرانداز ہونے اور سعودی عرب کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے سے روکنے کے لیے کردار ادا کرنے کی درخواست بھی کی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان بھی علاقائی صورتحال پر ٹیلی فونک رابطہ ہو چکا ہے۔

پاکستان کی سفارتی پوزیشن اس لیے بھی اہم ہو گئی ہے کہ اگست میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت کسی ایک فریق پر حملے کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کرنے کی شق شامل ہے۔

یمن میں تنازع 2014 میں حوثیوں کے دارالحکومت صنعا پر قبضے کے بعد شدت اختیار کر گیا تھا، جس کے بعد 2015 میں سعودی قیادت میں اتحاد نے یمنی حکومت کی حمایت میں مداخلت کی۔ حالیہ کشیدگی میں سعودی توانائی تنصیبات اور بحیرۂ احمر کے قریب اہم بحری راستوں کی سلامتی پر بھی خدشات بڑھ گئے ہیں، جبکہ توانائی تنصیبات پر حملوں نے عالمی تیل منڈی پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے بھی تشویش پیدا کی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button