latest newsWorld

جگتار سنگھ جوہل کو تقریباً 9 سال بعد دہلی ہائیکورٹ سے ضمانت مل گئی

نئی دہلی: بھارت میں تقریباً 9 برس سے قید برطانوی سکھ کارکن جگتار سنگھ جوہل کے مقدمے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ دہلی ہائیکورٹ نے انہیں ضمانت دے دی ہے، تاہم ان کی رہائی عدالتی شرائط اور ضمانتی مچلکوں کی تکمیل سے مشروط ہے۔

سکاٹ لینڈ کے رہائشی جگتار سنگھ جوہل کو 2017 میں اپنی شادی کے لیے بھارت پہنچنے کے بعد دہشت گردی سے متعلق الزامات میں گرفتار کیا گیا تھا۔ انہوں نے اپنے خلاف عائد الزامات مسترد کرتے ہوئے دورانِ حراست تشدد اور زبردستی اعترافِ جرم کرانے کی کوشش کے الزامات عائد کیے، جنہیں بھارتی حکام مسترد کرتے ہیں۔

ان کی طویل حراست اور مقدمے پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور برطانیہ کے متعدد ارکانِ پارلیمنٹ نے تشویش کا اظہار کیا۔ برطانوی وزارتِ خارجہ بھی معاملہ بھارتی حکام کے سامنے اٹھاتی رہی اور منصفانہ ٹرائل اور قونصلر رسائی کی فراہمی پر زور دیتی رہی۔

برطانیہ میں ان کی رہائی کے لیے سیاسی سطح پر بھی آواز اٹھائی جاتی رہی، جبکہ بعض قانون دانوں اور ارکانِ پارلیمنٹ نے سابق وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر سے بھی بھارتی حکومت کے ساتھ معاملہ اٹھانے کا مطالبہ کیا تھا۔

جگتار سنگھ جوہل کے اہلِ خانہ نے ضمانت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے انصاف کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ تاہم ان کے خلاف بعض دیگر مقدمات بھی زیرِ سماعت ہیں، جبکہ ضمانتی شرائط پوری ہونے تک فوری رہائی یقینی نہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button