latest newsPakistan

لاہور ہائیکورٹ میں مقدمات کی سماعت اور فیصلے

رپورٹ: مبشرحسن

لاہور ہائیکورٹ، نجی کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے تنازع میں محکمہ اینٹی کرپشن کی مبینہ مداخلت کیخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر، عدالت نے اینٹی کرپشن کو سوسائٹی کے ممبران کیخلاف تادیبی کارروائی سے روکنے کے عبوری حکم امتناعی میں توسیع کر رکھی ہے، جسٹس محمد جواد ظفر 21 ستمبر کو نجی کوآپریٹو سوسائٹی کے جنرل سیکرٹری شیخ صداقت کی درخواست پر سماعت کریں گے، درخواست گزار کی جانب سے میاں داؤد ایڈووکیٹ پیش ہوں گے، محکمہ اینٹی کرپشن کی جانب سے عدالت میں تحریری جواب بھی جمع کرا دیا گیا ہے، دوران سماعت سرکاری وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ کوآپریٹو سوسائٹیز ایکٹ میں سوسائٹی کے ممبران کو پبلک سرونٹ کی تعریف میں شامل کیا گیا ہے، درخواست گزار کے وکیل میاں داؤد نے مؤقف اختیار کیا کہ اینٹی کرپشن لاہور نے ایک عادی شکایت کنندہ کی درخواست پر سوسائٹی کے خلاف انکوائری رجسٹرڈ کی، اینٹی کرپشن کو کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے باہمی تنازعات میں مداخلت کا اختیار حاصل نہیں، قانون کے تحت کوآپریٹو سوسائٹیوں سے متعلق تنازعات کے ازالے کیلئے متعلقہ فورم محکمہ کوآپریٹو ہے، انہوں نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ تین برس کے دوران اینٹی کرپشن شہریوں کیخلاف اختیارات کے ناجائز استعمال کا ادارہ بن چکا ہے اور بے بنیاد درخواستوں پر انکوائریاں رجسٹرڈ کرکے شہریوں کو بلیک میل کیا جاتا ہے، موجودہ کیس بھی اینٹی کرپشن پنجاب کی جانب سے اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال کی مثال ہے، عدالت سے استدعا کی گئی کہ محکمہ اینٹی کرپشن میں سوسائٹی کے خلاف جاری انکوائری کو دائرہ اختیار سے تجاوز قرار دے کر کالعدم قرار دیا جائے۔

لاہور ہائیکورٹ میں سوموار سے پرنسپل سیٹ پر 30 ججز مقدمات کی سماعت کریں گے، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی منظوری کے بعد ترمیمی ججز روسٹر جاری کردیا گیا، ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل سید شبیر حسین شاہ کی جانب سے جاری ترمیمی روسٹر 31 اکتوبر تک نافذ العمل رہے گا، 11 ڈویژن بینچ آئندہ ہفتے سول و فوجداری اپیلوں سمیت مختلف نوعیت کے مقدمات کی سماعت کریں گے، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ تمام نوعیت کی اپیلوں، جسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں بینچ بنکنگ و کمرشل اپیلوں، جسٹس شہباز رضوی کی سربراہی میں بینچ نیب اور دہشت گردی کے مقدمات، جسٹس فیصل زمان کی سربراہی میں بینچ سول اپیلوں، جسٹس شہرام سرور چوہدری کی سربراہی میں بینچ قتل سمیت فوجداری اپیلوں، جسٹس فاروق حیدر کی سربراہی میں بینچ منشیات اور قتل کے مقدمات، جسٹس صادق محمود خرم کی سربراہی میں بینچ قتل، منشیات اور فوجداری اپیلوں، جسٹس احمد ندیم ارشد کی سربراہی میں بینچ سول اپیلوں، جسٹس حسن نواز مخدوم کی سربراہی میں بینچ ٹیکس ریفرنسز، جسٹس وقار حیدر اعوان کی سربراہی میں بینچ سول اپیلوں جبکہ جسٹس خالد اسحاق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ ٹیکس ریفرنسز اور بنکنگ اپیلوں کی سماعت کرے گا۔

لاہور ہائیکورٹ نے قتل کیس میں سزائے موت پانے والے محمد فرحان کی اپیل منظور کرتے ہوئے ایڈیشنل سیشن جج فیصل آباد کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر اسے بری کرنے کا حکم دے دیا، جسٹس فاروق حیدر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سزائے موت کے خلاف اپیل پر تحریری فیصلہ جاری کیا، عدالت نے قرار دیا کہ پراسیکیوشن قتل کا مقدمہ شک و شبہ سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام رہی، گواہوں کے بیانات قابل اعتبار نہیں، ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر اور ریکارڈ میں تضاد موجود ہے، پوسٹ مارٹم کیلئے پولیس کاغذات جمع کرانے میں تاخیر کی کوئی معقول وجہ نہیں بتائی گئی، مقتول کے بیٹے اور بھائی کی گواہی بھی مشکوک قرار پائی، گواہ فیکٹری میں اپنی موجودگی کی قابل قبول وجہ ثابت نہ کرسکے، مبینہ قتل میں استعمال ہونے والا لوہے کا راڈ بھی برآمد نہیں ہوسکا، فرانزک ٹیم کے بیان اور ریکوری میمو میں تضاد ہے، وقوعہ کی جگہ سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب بھی ثابت نہیں ہوسکی جبکہ مقدمے میں پیش کی گئی یو ایس بی کو بھی ناقابل اعتبار قرار دیا گیا، عدالت کے مطابق پراسیکیوشن قتل کی مبینہ وجہ بھی ثابت نہیں کرسکی، محمد فرحان پر محمد امجد کو لوہے کا راڈ مار کر قتل کرنے کا مقدمہ 24 ستمبر 2022 کو تھانہ نشاط آباد میں درج ہوا تھا جبکہ سیشن جج فیصل آباد نے 30 مارچ 2023 کو اسے سزائے موت سنائی تھی، ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ استغاثہ شواہد کی بنیاد پر جرم ثابت کرنے میں ناکام رہا، عدالت نے حکم دیا کہ محمد فرحان کو فوری جیل سے رہا کیا جائے بشرطیکہ وہ کسی دوسرے مقدمے میں مطلوب نہ ہو۔

لاہور ہائیکورٹ، افغان میڈیکل طلبہ و طالبات کو میڈیکل کالجز سے نکالنے کے خلاف دائر درخواستیں سماعت کیلئے مقرر ، جسٹس خالد اسحاق 16 اکتوبر کو 30 سے زائد افغان طلبہ و طالبات کی درخواستوں پر سماعت کریں گے، عدالت نے پنجاب کے تمام میڈیکل کالجز کو افغان طلبہ کو نکالنے سے روکنے کے حکم امتناعی میں توسیع کر رکھی ہے جبکہ طلبہ کو تعلیمی پراجیکٹس پر کام جاری رکھنے کے حکم میں بھی توسیع کردی گئی ہے، عدالت نے افغان طلبہ کو میڈیکل کالجز سے نکالنے سے متعلق دونوں نوٹیفکیشنز پر عملدرآمد بھی معطل کر رکھا ہے، عدالت نے پی ایم ڈی سی کے وکیل کو جواب داخل کرانے کیلئے مہلت دے رکھی ہے، درخواست گزار طلبہ نے مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے افغان مہاجرین کے کوٹے پر میرٹ کی بنیاد پر میڈیکل کالجز میں داخلے لئے تھے، پی ایم ڈی سی نے انہیں کالجز سے نکالنے کیلئے یکم ستمبر کو حتمی نوٹیفکیشن جاری کیا جس پر میڈیکل کالجز نے افغان طلبہ کو نکال دیا اور انہیں ہاسٹلز سے بھی بے دخل کردیا گیا، درخواست گزاروں کے مطابق حکومتی فیصلے سے طلبہ کا مستقبل متاثر ہوگا، عدالت سے پی ایم ڈی سی کے نوٹیفکیشنز کالعدم قرار دینے اور افغان طلبہ کو تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دینے کی استدعا کی گئی ہے۔’

لاہور ہائیکورٹ نے مشترکہ جائیداد کی نیلامی سے متعلق سول نظرثانی درخواست پر فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ جائیداد کی کھلی نیلامی سے قبل قانون کے مطابق تمام تقاضے پورے کرنا لازم ہے، پنجاب پارٹیشن آف اموویبل پراپرٹی ایکٹ کے تحت کھلی نیلامی سے قبل اندرونی نیلامی کرانا ضروری ہے جبکہ قانون کے مطابق ریزرو پرائس کا درست تعین کئے بغیر نیلامی کی توثیق نہیں کی جاسکتی، جسٹس محمد ساجد محمود سیٹھی نے غلام محمد کی سول نظرثانی درخواست پر 8 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا، عدالت نے قرار دیا کہ محض سب سے زیادہ بولی دینے والے کا سامنے آنا نیلامی کے طریقہ کار میں موجود قانونی خامیوں کو ختم نہیں کرتا، عدالتی نیلامی میں شفافیت اور تمام شریک مالکان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ضروری ہے، عدالت نے سابقہ 50 لاکھ روپے کی بولی کے باوجود ساڑھے 36 لاکھ روپے میں نیلامی کی توثیق پر اعتراض کرتے ہوئے ایگزیکیوٹنگ کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، عدالت نے متاثرہ فریق کے حصے اور اس کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کا ازسرنو تعین کرنے کی ہدایت کردی، خریدار کو درخواست گزار کے حصے کی رقم نئی طے شدہ مارکیٹ قیمت کے مطابق ادا کرنے کا موقع دیا گیا ہے، رقم ادا نہ کرنے کی صورت میں درخواست گزار کے حصے کی دوبارہ قانونی نیلامی ہوگی، دیگر شریک مالکان کی حد تک خرید و فروخت اور خریدار کے حاصل کردہ حقوق برقرار رہیں گے جبکہ جائیداد کی ملکیت اور حصوں سے متعلق جاری شدہ ابتدائی ڈگری کی قانونی حیثیت بھی برقرار رہے گی، عدالت نے سول نظرثانی درخواست جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے معاملہ ازسرنو فیصلہ کیلئے ایگزیکیوٹنگ کورٹ کو ریمانڈ کردیا اور تمام کارروائی تین ماہ میں مکمل کرنے کا حکم دیا۔۔ سول کورٹ چونیاں کے اہلمد کی سزا کالعدم، بری کرنے کا حکم لاہور ہائیکورٹ نے سول کورٹ کے اہلمد کو کرپشن کیس میں بری کردیا.

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد امجد پرویز نے سول کورٹ چونیاں کے اہلمد محمد خالد رشید کو کرپشن کیس میں سنائی گئی سزا کالعدم قرار دیتے ہوئے بری کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے سزا کے خلاف اپیل منظور کرتے ہوئے اینٹی کرپشن عدالت لاہور کا فیصلہ کالعدم قرار دیا، عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ ملزم کے خلاف جرم ثابت کرنے میں ناکام رہا، جرم کے ارتکاب کیلئے مجرمانہ نیت کا ثابت ہونا ضروری ہے اور مجرمانہ نیت ثابت نہ ہونے کی صورت میں سزا برقرار نہیں رکھی جاسکتی، فیصلے کے مطابق محمد خالد رشید سول کورٹ چونیاں میں بطور اہلمد تعینات تھا اور اس پر سول کورٹ کی ایک فائل مبینہ طور پر خردبرد کرنے اور متعلقہ اہلکار کو ریکارڈ روم میں جمع کرانے کیلئے فائل نہ دینے کا الزام تھا، اینٹی کرپشن عدالت لاہور نے اسے مجموعی طور پر چار سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی، ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ تفتیشی افسر نے ملزم کے مؤقف کی تحقیقات نہیں کیں اور صرف ایک مؤقف کو درست تسلیم کرکے تحقیقات کیں، محکمانہ انکوائری رپورٹ میں بھی ملزم کو بدعنوانی کے بجائے غفلت اور نااہلی کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا، عدالت کے مطابق محکمانہ انکوائری رپورٹ نے استغاثہ کے کیس کو تقویت دینے کے بجائے اسے مسترد کیا، لہٰذا محمد خالد رشید کی سزا کے خلاف اپیل منظور کرتے ہوئے اینٹی کرپشن عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے اور ملزم کو بری کیا جاتا ہے۔

پی ٹی آئی رہنما میاں حماد اظہر سے فیملی اور وکلاء کی ملاقات کیلئے درخواست دائر، والدہ عشرت اظہر اور اہلیہ مریم حماد نے درخواست میں موقف اپنایا کہ پولیس نے میاں حماد اظہر کو جسمانی ریمانڈ پر گرفتار کررکھا ہے، آئین کے تحت ملزم کو بنیادی اور آئینی حقوق حاصل ہے، دہشت گردی عدالت لاہور نے ہماری درخواست پولیس کو ارسال کی،دہشت گردی عدالت نے پولیس کو پولیس رولز کے مطابق فیصلہ کرنے کی ہدایت کی، استدعا ہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، عدالت حماد اظہر سے فیملی کی ملاقات اور وکلاء سے ملاقات کروانے کا حکم دے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button